
فائل تصویر آئی اے این ایس
اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی پر اب تک کی سب سے شدید بمباری کی ہے جس میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کی تین کمسن بچیاں بھی شامل ہیں۔ ان حملوں میں رہائشی مکانات، بے گھر افراد کے خیموں اور ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔
Published: undefined
غزہ سیول ڈیفنس کے مطابق ہفتے کے روز ہلاکتوں کی تعداد 32 ہو گئی۔ اسرائیل نے کہا کہ جمعہ کو رفح میں ہونے والی جھڑپ میں تین جنگجو مارے گئے اور حماس کے ایک کمانڈر کو گرفتار کر لیا گیا۔ حماس نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
Published: undefined
اسرائیلی فوج نے کہا کہ یہ کارروائی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا جواب ہے۔ فوج کے مطابق جمعہ کے روز آٹھ مسلح افراد کو رفح کے علاقے میں ایک سرنگ سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا جس سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ یہ علاقہ جنگ بندی کے تحت اسرائیل کے کنٹرول میں ہے۔ فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے حماس اور اسلامی جہاد سے وابستہ کمانڈروں، ہتھیاروں کے ڈپو اور مینوفیکچرنگ تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
Published: undefined
حماس کے زیر انتظام سیول ڈیفنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ ملبے میں مزید لاشوں کی تلاش جاری ہے۔ غزہ شہر کے کئی رہائشی علاقے اور خان یونس میں بے گھر افراد کے لیے قائم کیمپ بھی متاثر ہوئے۔مقامی لوگوں نے اپارٹمنٹ کی عمارتوں کی دیواروں کو سیاہ اور ہر طرف ملبہ بکھرے ہوئے دیکھا۔
Published: undefined
جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی کارروائیوں میں 500 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے زیادہ تر عام شہری بتائے جاتے ہیں۔ فلسطینی جنگجوؤں نے چار اسرائیلی فوجیوں کو بھی ہلاک کر دیا ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔
Published: undefined
یہ تشدد ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت مصر اور غزہ کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ اتوار کو دوبارہ کھلنے والی ہے۔ ٹرمپ کے منصوبے کے اگلے مرحلے میں حماس کی تخفیف اسلحہ اور بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی جیسے پیچیدہ مسائل شامل ہیں۔ تاہم جنگ بندی کے بعد سے اب تک 500 سے زائد فلسطینی اور چار اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں، جس سے امن کی امیدیں مدھم پڑ رہی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined