
خام تیل / Getty Images
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان خام تیل کی قیمت جولائی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ بدھ کو عالمی مارکیٹ میں برنٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی، تاہم بعد میں معمولی کمی کے ساتھ یہ 99.90 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کی صورت میں خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خطے میں تیل کی سپلائی اور اہم بحری راستوں سے متعلق خدشات نے عالمی توانائی مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی حملوں میں ایران کے پانچ تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے چار ٹینکر خلیج عمان میں موجود تھے اور ان کا تعلق ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) سے بتایا گیا ہے۔ ایک اور ٹینکر کو خارگ جزیرے کے قریب نشانہ بنایا گیا۔
ایران نے ان حملوں کے جواب میں اردن میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغے۔ بتایا گیا ہے کہ ان میں سے بیشتر میزائلوں کو راستے میں ہی روک کر تباہ کر دیا گیا۔
ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں دو امریکی بحری جہازوں اور آٹھ تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل سپلائی راستوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی مارکیٹ کو متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری جانب یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان بھی جولائی سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل کو حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب میں تیل کے کئی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
مارکیٹ میں جاری اتار چڑھاؤ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ماہ کے آغاز سے برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
اس سے قبل فروری میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے آغاز کے بعد خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا اور 30 اپریل کو برینٹ خام تیل کی قیمت 126.41 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ موجودہ صورتحال میں سرمایہ کار مشرقِ وسطیٰ کے فوجی تنازع، تیل کی تنصیبات پر حملوں اور عالمی سپلائی کے امکانات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔