
سعودی عرب نے مملکت بھر میں مساجد میں نمازوں کے بعد خطبات اور اسباق کی مشروط اجازت دے دی ہے اور یہ شرط یہ عاید ہے کہ تمام شرکاء کو کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے عاید کردہ پابندیوں اور حفاظتی احتیاطی تدابیر کی پاسداری کرنا ہوگی۔
سعودی عرب کی وزارت برائے اسلامی امور اور دعوت وارشاد نے جمعرات کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اسباق نمازوں کے فوری بعد پیش کیے جانے چاہییں اور ان کا دورانیہ 10 منٹ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے جبکہ خطبات کا دورانیہ 30 منٹ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
وزارت نے اس بات پر زوردیا ہے کہ تمام مساجد کو کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے پیشگی احتیاطی تدابیر کی پاسداری کرنی چاہیے۔وزارت نے وضاحت کی ہے کہ قرآن مجید کے حفظ کی کلاسیں تاحکم ثانی آن لائن جاری رہیں گی۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے مارچ کے وسط میں کورونا وائرس کی وَبا کی روک تھام کے لیے مساجد میں پنج وقتہ نمازوں کی ادائی موقوف کردی تھی۔تاہم مملکت نے مئی کے آخر میں کورونا وائرس کے تعلق سے عاید کردہ پابندیوں میں نرمی شروع کردی تھی۔اب تک بہت سے قدغنیں ختم کی جاچکی ہیں اور مساجد میں عبادت گزاروں کو پنج وقتہ نمازوں کی اجازت دے دی گئی ہے۔
سعودی عرب نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی کے دوسرے مرحلے کے تحت 31 مئی کو نماز جمعہ کے اجتماعات منعقد کرنے کی بھی اجازت دے دی تھی لیکن مکہ مکرمہ شہر میں مساجد کو اس فیصلے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔البتہ مکہ مکرمہ میں 21 جون سے مساجد کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
سعودی وزارت برائے اسلامی امور اور دعوت وارشاد نے مملکت بھر میں مساجد میں جانے والے تمام نمازیوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے درج ذیل ہدایات کی پاسداری کریں:
(العربیہ ڈاٹ نیٹ)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 26 Jun 2020, 2:40 PM IST