چھاتروں کی گونج: ’پنجرہ توڑ دو اور پدرشاہی کو چکناچور کر دو‘، خواتین کو راہل گاندھی کا واضح پیغام

راہل گاندھی نے ملازمت کے لیے امتحانات کے مواقع میں صنفی فرق کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ لڑکے ملازمت حاصل کرنے کے لیے کئی بار امتحانات دے سکتے ہیں، لیکن لڑکیوں کو زیادہ مواقع نہیں دیے جاتے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>
i

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے 22 اگست کو مہاراشٹر کے پونے شہر میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کی زندگی میں پیش آنے والے مختلف مسائل پر گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت ملک کی خواتین ہیں، 70 کروڑ مختلف زندگیاں ہیں، ان کے تصورات اور خواب ہیں۔‘‘ انہوں نے بے باکی کے ساتھ یہ بھی کہا کہ خواتین فطرتاً مردوں کے مقابلے میں زیادہ حساس، نرم مزاج، رحم دل اور دور اندیش ہوتی ہیں اور ملک کی خواتین ہی ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

پونے شہر واقع ’اے آئی ایس ایس ایم ایس کالج گراؤنڈ‘ میں ہزاروں خواتین کی بھیڑ سے مخاطب ہوتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اس شام کا بنیادی تصور ’پنجرہ توڑو‘ ہے۔ انہوں نے طالبات اور خواتین سے کہا کہ ’’اگر وہ اس شام کی ایک بات یاد رکھنا چاہتی ہیں تو وہ یہ ہونی چاہیے کہ ان میں سے ہر ایک اس کائنات میں اپنی منفرد شناخت رکھتی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’آپ منفرد ہیں، آپ خاص ہیں، آپ ایک فرد ہیں۔ اور آپ کا اپنا خواب ہے، اپنی زندگی کے لیے اپنا ویژن ہے۔‘‘


تقریب کے دوران راہل گاندھی نے خواتین سے سوال کیا کہ کیا انہیں محسوس ہوتا ہے کہ معاشرہ انہیں کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے؟ اس سوال کے ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا کیا کہ خواتین کو کنٹرول کرنے کے 4 طریقے ہیں... (1) تشدد، (2) بے عزتی، (3) وقت، (4) کنٹرول۔ راہل گاندھی خواتین کو کنٹرول کرنے کے ان چاروں طریقوں کو جبر قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اس جبر کو فکر مندی کے پردے میں چھپا دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ– ہمیں آپ کی بہت فکر ہے، اسی لیے ہمیں آپ کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ نقل و حرکت، انتخاب اور مالی معاملات میں خواتین پر مختلف پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تاکہ ان پر کنٹرول کیا جا سکے۔ راہل گاندھی نے اس بارے میں کچھ اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ انھوں نے بتایا کہ ہندوستان کی 60 فیصد خواتین گھر سے تنہا باہر نہیں جا سکتیں، یعنی نقل و حرکت پر کنٹرول ہے۔ اسی طرح خواتین کے سامنے چوائس یعنی انتخاب کی آزادی نہیں ہے۔ 45 فیصد خواتین شادی اور گھر کی ذمہ داریوں کے سبب تعلیم و روزگار سے ڈراپ آؤٹ کر جاتی ہیں۔ مالی معاملات میں تو حالات مزید بدتر ہے۔ محض 8 فیصد خواتین کے پاس زمین کا مالکانہ حق موجود ہے۔

خواتین کو بے عزت کیے جانے کے طریقوں پر اپنی بات رکھتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ہندوستانی معاشرے میں خواتین کی بے عزتی کئی طریقوں سے ہوتی ہے۔ سماج میں شرم اور بدنامی کے خوف سے جنسی تشدد کے 99 فیصد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ کام کرنے کے لیے 84 فیصد خواتین کو گھر سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ کام کی جگہ پر مردوں کے مقابلے میں خواتین کو 25 فیصد کم تنخواہ ملتی ہے اور انہیں آسانی سے ترقی بھی نہیں ملتی۔‘‘ کانگریس رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ یہ سبھی خواتین کو بے عزت کرنے کے طریقے ہیں۔ خواتین کے خلاف ہونے والے امتیاز کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اسے محض انفرادی مسئلہ قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ سماجی ڈھانچے کا حصہ بن چکا ہے۔


راہل گاندھی نے خواتین کے خلاف ’وقت‘ کا ایک اسلحہ کی طرح استعمال کیے جانے پر بھی فکر ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ایک لڑکی یا خاتون گھر میں اوسطاً 5.5 گھنٹے کام کرتی ہے، جبکہ اسی گھر میں لڑکے یا مرد صرف 30 منٹ کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے مقرر کیے جانے والے اوقات میں فرق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رات میں گھر واپس آنے کا وقت لڑکیوں یا خواتین کے لیے رات 8 بجے مقرر کر دیا جاتا ہے، جبکہ لڑکوں کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔

راہل گاندھی نے ملازمت کے لیے امتحانات کے مواقع میں صنفی فرق کی طرف بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ لڑکے ملازمت حاصل کرنے کے لیے کئی بار امتحانات دے سکتے ہیں، لیکن لڑکیوں کو زیادہ مواقع نہیں دیے جاتے اور ان سے کہا جاتا ہے کہ ’اب شادی کی عمر ہو گئی ہے‘۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ خواتین کو معاشرے کی جانب سے مقرر کردہ محدود کرداروں اور کنٹرول کے دائرے سے باہر نکلنے کی آزادی ملنی چاہیے۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے جب خواتین اس پنجرے کو توڑ دیں اور پدرشاہی کو چکناچور کر دیں۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے خواتین کو یہ واضح پیغام بھی دیا کہ وہ بے باک بنیں، فخر سے جئیں اور اپنی جگہ کے لیے لڑائی لڑیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔