وندے ماترم پر ششی تھرور کا بڑا بیان

ششی تھرور نے وندے ماترم پر کانگریس پارٹی کے موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی تقریبات میں 1937 کی روایت کی پیروی کی گئی ہے، جس میں قومی ترانے کا ایک بند اور وندے ماترم کے دو اسٹینزا گائے گئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

کانگریس لیڈر ششی تھرور نے وندے ماترم پر کانگریس پارٹی کے موقف کو واضح کیا۔ تھرواننت پورم سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ پارٹی، ایک دیرینہ روایت کے مطابق، اپنے پروگراموں میں قومی ترانے کا ایک بند اور وندے ماترم کے دو اسٹینزا گاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشق کانگریس کے پروگراموں میں جاری رہے گی۔

تھرور نے کہا کہ اگر کوئی قومی یا سرکاری تقریب منعقد ہوتی ہے تو ہر کوئی احترام کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں گانے کے چلائے جانے والے گانے اور تقریب کی نوعیت پر غور کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کانگریس پارٹی میں 1937 سے قومی ترانے کا ایک بند اور وندے ماترم کے دو اسٹینزا گانے کی روایت رہی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی اپنے پروگراموں میں اس روایت کو جاری رکھے گی۔


بنکم چندر چٹرجی کی تحریر کردہ وندے ماترم نے تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کےپہلے دو اسٹینزا میں مادر وطن کی تعریف کی گئی ہے، جب کہ بعد کے اسٹینزا میں درگا اور دیگر ہندو مذہبی علامتوں کا ذکر ہے۔ اس مذہبی تناظر پر مسلم رہنماؤں اور مسلم لیگ نے اعتراض کیا۔ اس کے بعد، 1937 میں، کانگریس نے فیصلہ کیا کہ وندے ماترم کی صرف پہلے دو اسٹینزا ہی قومی تقریبات میں گائے جائیں گے۔ کانگریس کی موجودہ دلیل یہ ہے کہ یہ فیصلہ مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو اور دیگر لیڈروں کی رضامندی سے لیا گیا تھا، اور یہ کہ پارٹی آج اس تاریخی روایت پر عمل پیرا ہے۔