عرب ممالک

کیا اسرائیل کو چالیس ہزار بم فراہم کرنے والے امریکی معاہدہ پر روک لگ سکتی ہے؟

امریکی نمائندہ گریگوری میکس نے کہا کہ وہ اس فروخت کی منظوری نہیں دیں گے کیونکہ انہیں اب بھی غزہ اور لبنان کے گنجان آباد علاقوں میں ان ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے بارے میں خدشات ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

امریکی ایوان نمائندگان میں ایک سینئر ڈیموکریٹ نے اسرائیل کو 2.8 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ آیا یہ ہتھیار امریکی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق استعمال ہوں گے۔ نمائندہ گریگوری میکس نے کہا کہ وہ فروخت کی منظوری نہیں دیں گے کیونکہ انہیں اب بھی غزہ اور لبنان کے گنجان آباد علاقوں میں ان ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے بارے میں خدشات ہیں۔

میکس کے اعتراض کے باوجود، ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا امکان نہیں ہے۔ جب یہ تجویز باضابطہ طور پر امریکی کانگریس کے سامنے آتی ہے تو وزیر خارجہ مارکو روبیو قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کے جائزے کے معمول کے عمل کو نظرانداز کر سکتے ہیں۔ یہ مجوزہ فروخت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ غزہ جنگ پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی کے باوجود اسرائیل کی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط کر رہی ہے۔

ہاؤس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ میکس نے کہا کہ وہ اس بل کو منظور نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حکومت کی طرف سے ان ہتھیاروں کے استعمال پر شدید تحفظات ہیں۔ میکس نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایسی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی ہے کہ نیتن یاہو حکومت شہریوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے ان ہتھیاروں کو امریکی قانون کے مطابق استعمال کرے گی۔

پچھلے سال اسرائیل کو تقریباً 3 بلین ڈالر کی فروخت کی منظوری ہنگامی طریقہ کار کے ذریعہ دی گئی تھی۔ اس کے بعد، جنوری میں، انتظامیہ نے اسرائیل کو مزید 6.67 بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دی۔ رپورٹس کے مطابق 2.8 بلین ڈالر کے اس پیکج میں 2000 پاؤنڈ وزنی 40,000 بم شامل ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں کے امکان کے خدشات کے پیش نظر ان بموں کی منتقلی کو روک دیا تھا۔

یہ مجوزہ فروخت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل کو غزہ جنگ پر شدید بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔ فی الحال، یہ غیر یقینی ہے کہ آیا میکس کے اعتراض کے باوجود فروخت کو روک دیا جائے گا۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے ہنگامی اختیارات کا مطالبہ کرتی ہے تو یہ معاہدہ کانگریس کے جائزے کے بغیر آگے بڑھ سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔