چین پاکستان کے نام نہاد مشترکہ کمیشن کو ہندوستان مسترد کرتا ہے: وزارت خارجہ

پاک چین سرحدی مشترکہ کمیشن پر وزارت خارجہ نے کہا کہ ہندوستان کا موقف واضح ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان کوئی سرحد نہیں ہے۔ وزارت خارجہ  کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس کمیشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

ہندوستان  نے کل یعنی 16 ستمبر کو نام نہاد پاک چین سرحدی کمیشن کو مسترد کر دیا۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ اس مشترکہ کمیشن کے پاس کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔ وزارت خارجہ کے سرکاری ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، "اس معاملے پر ہمارا موقف واضح ہےکہ پاکستان اور چین کے درمیان کوئی سرحد نہیں ہے۔ ہم نام نہاد مشترکہ کمیشن کو مسترد کرتے ہیں، جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ ہندوستان کے اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصے تھے، ہیں اور رہیں گے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس سے قبل پاک چین سرحدی مشترکہ کمیشن کے آپریشنل ہونے کے بارے میں پوسٹ کیا تھا۔ پاکستان نے کہا کہ دونوں ممالک نے اس بارڈر کمیشن کو اسلام آباد میں بارڈر مینجمنٹ، مشترکہ سروے اور تجارت کے فروغ کے نام پر ہونے والی میٹنگ کے ساتھ فعال کیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے کبھی بھی نام نہاد 1963 کے چین پاکستان سرحدی معاہدے کو تسلیم نہیں کیا، جو کہ غیر قانونی اور غلط تھا۔ انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ان ہندوتانی علاقوں کو خالی کرے جو اس نے غیر قانونی اور زبردستی قبضے میں لیے ہیں۔


ایم ای اے کے ترجمان نے کہا کہ’’ ہم نے اس سلسلے میں رپورٹیں دیکھی ہیں۔ اس معاملے پر ہمارا موقف واضح اور مستقل رہا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان کوئی سرحد نہیں ہے۔ ہم نام نہاد مشترکہ کمیشن کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔‘‘

رندھیر جیسوال نے کہا کہ ’’ہم ان مقبوضہ علاقوں کی حیثیت کو تبدیل کرنے یا غیر قانونی قبضے کو قانونی حیثیت دینے کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مخالفت اور تردید کرتے ہیں۔ اس طرح کی کوششیں ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو متاثر کرتی ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔