جنگ سے تباہ حال غزہ میں عمارت منہدم، 8 بچوں سمیت 21 افراد جان بحق، درجنوں کے ملبے تلے دبنے کا خدشہ
غزہ سٹی کے تل الہوا علاقے میں جنگ سے متاثرہ 6 منزلہ عمارت منہدم ہونے سے 8 بچوں سمیت کم از کم 21 افراد جان بحق ہو گئے۔ درجنوں افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے

غزہ سٹی: غزہ پٹی میں جنگ کے دوران متاثر ہونے والی ایک 6 منزلہ عمارت رات کے وقت اچانک منہدم ہو گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد جان بحق ہو گئے۔ مقامی امدادی کارکنوں اور طبی ذرائع کے مطابق جان بحق ہونے والوں میں 8 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ درجنوں افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ حادثہ غزہ سٹی کے تل الہوا علاقے میں پیش آیا۔ مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ عمارت ایک سال سے زیادہ عرصے قبل اسرائیلی حملے کے بعد ایک جانب خطرناک حد تک جھک گئی تھی، لیکن بے گھر خاندانوں کے پاس رہنے کے لیے مناسب جگہ نہ ہونے کے باعث وہ اس میں رہنے پر مجبور تھے۔
مقامی باشندوں کے مطابق عمارت میں تقریباً 10 خاندان رہ رہے تھے۔ ایک قریبی خیمے میں رہنے والی ام محمد بکرون نے بتایا کہ عمارت گرنے سے کچھ ہی دیر پہلے وہ اپنے بیٹے سے بات کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق اچانک ایسا محسوس ہوا جیسے زلزلہ آگیا ہو، ایک زوردار آواز سنائی دی، پتھر چاروں طرف گرنے لگے اور چند ہی منٹ میں ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔
ایک اور مقامی شخص منصور ابو محمد نے بتایا کہ عمارت چند سیکنڈ میں زمین بوس ہو گئی۔ ان کے مطابق عمارت سے تقریباً روزانہ ایک یا چند پتھر گرتے تھے اور اس کے ایک جانب جھکاؤ کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا، لیکن وہاں رہنے والے لوگوں کے پاس جانے کے لیے کوئی دوسری جگہ نہیں تھی۔
امدادی کارروائی کے دوران حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس کے اہلکاروں نے ابتدائی طور پر اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے کی کوشش کی۔ غزہ سٹی میں سول ڈیفنس کے ڈائریکٹر رائد الدہشان کے مطابق ملبے کے نیچے سے اب بھی لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، اس لیے زندہ افراد کو نکالنے کی امید باقی ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے غزہ دفتر کے سربراہ الیسینڈرو مراکک نے جائے حادثہ پر بتایا کہ اندازاً 70 سے 100 افراد ملبے تلے پھنسے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مناسب مشینری اور امدادی آلات کی شدید کمی کے باعث کارروائی انتہائی مشکل ہے اور کچھ لوگ ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں۔
مراکک نے یہ بھی خبردار کیا کہ غزہ میں جنگ سے متاثر تقریباً 400 دیگر عمارتیں بھی، خاص طور پر سردیوں اور بارشوں کے موسم کی آمد کے پیش نظر منہدم ہونے کے فوری خطرے سے دوچار ہیں۔ انہوں نے امدادی کام جاری رکھنے کے لیے مشینری، آلات، انجن آئل اور اسپیئر پارٹس کی ضرورت پر زور دیا۔
اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے رابطہ کار رامز الاکبروف نے عمارت گرنے کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی شخص کو محفوظ پناہ گاہ تلاش کرنے کے لیے اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالنی چاہیے۔ انہوں نے اسرائیلی حکام سے غزہ میں امدادی کارروائیوں کے لیے بھاری مشینری اور بے گھر افراد کے لیے خیموں سمیت ضروری سامان پہنچانے کی اجازت دینے کی اپیل کی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں بعض سامان کی ترسیل پر پابندیوں کا مقصد ایسے آلات کو فلسطینی مسلح گروہوں کے ہاتھ لگنے سے روکنا ہے جنہیں فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی تقریباً 80 فیصد عمارتیں جنگ کے دوران تباہ یا متاثر ہو چکی ہیں۔ 19 لاکھ سے زیادہ افراد، جو غزہ کی آبادی کا تقریباً 90 فیصد ہیں، بے گھر ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً 12 لاکھ افراد اس وقت خیموں یا عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر کیے گئے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق اس کے بعد سے غزہ میں 73790 سے زیادہ افراد جان بحق ہو چکے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
