استعفیٰ دے کر پارٹی بدلنا اور پھر اسی نشست سے الیکشن لڑنا ووٹروں کے مینڈیٹ کی توہین: مدراس ہائی کورٹ

مدراس ہائی کورٹ نے پارٹی بدلنے کے لیے استعفیٰ دے کر اسی حلقے سے ضمنی انتخاب لڑنے والے ارکان اسمبلی کے طرزِ عمل پر سوال اٹھائے اور الیکشن کمیشن سے اس معاملے میں ضابطے بنانے پر غور کرنے کو کہا

مدراس ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
i

چنئی: مدراس ہائی کورٹ نے منتخب ارکان اسمبلی کے اپنی نشست سے استعفیٰ دینے، دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہونے اور پھر اسی حلقے سے ضمنی انتخاب لڑنے کے معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا طرزِ عمل ووٹروں اور ان کے اصل انتخابی مینڈیٹ کی توہین ہو سکتا ہے۔

جسٹس ایس ایم سبرامنیم اور جسٹس کے گووندراجن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کہا کہ اگر کوئی رکن اسمبلی محض دوسری سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر دوبارہ انتخاب لڑنے کے لیے استعفیٰ دیتا ہے تو یہ جمہوریت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایسے معاملات کا جائزہ کیوں نہیں لیتا اور اس سلسلے میں مناسب رہنما اصول کیوں نہیں بناتا۔

عدالت ایک عوامی مفاد کی عرضی (پی آئی ایل) پر سماعت کر رہی تھی، جو چنئی کے وکیل کے سوتھان نے دائر کی ہے۔ عرضی میں ایسے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے جن کے ذریعے منتخب نمائندوں کو پارٹی تبدیل کرنے کے بعد استعفیٰ دے کر اسی نشست سے دوبارہ ضمنی انتخاب لڑنے سے روکا جا سکے۔

عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل آر سنگاراولن نے عدالت کو بتایا کہ تمل ناڈو میں رواں سال اسمبلی انتخابات کے بعد اے آئی اے ڈی ایم کے کے 6 ارکان اسمبلی نے استعفیٰ دیا اور بعد میں حکمراں تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے) میں شامل ہو گئے۔ ان میں مرگتھم کمارویل اور پی ستیابھاما کو ٹی وی کے نے بالترتیب مدورانتکم اور دھاراپورم سے امیدوار بنایا ہے۔ دونوں حلقوں کی نشستیں ان کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھیں۔


عدالت کو بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے فی الحال ان دونوں نشستوں پر ہی ضمنی انتخابات کا اعلان کیا ہے، جبکہ باقی ارکان اسمبلی کے استعفوں سے خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخاب کا اعلان نہیں کیا گیا۔

عرضی گزار کے وکیل نے دلیل دی کہ منتخب نمائندوں کو بغیر کسی پابندی کے استعفیٰ دے کر فوراً دوسری جماعت کے بینر تلے اسی حلقے کے ووٹروں کے پاس واپس جانے کی اجازت دینے سے جمہوری جواب دہی کمزور ہوتی ہے۔ ان کے مطابق جن ووٹروں نے کسی مخصوص جماعت سے وابستگی رکھنے والے امیدوار کو منتخب کیا تھا، انہیں رکن اسمبلی کے سیاسی فیصلے کے نتیجے میں دوبارہ ووٹ ڈالنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

وکیل نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر اس رجحان کو قابو میں نہ کیا گیا تو مستقبل میں بڑے پیمانے پر استعفے ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں بار بار ضمنی انتخابات کرانے پڑ سکتے ہیں اور سرکاری خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

بنچ نے اشارہ دیا کہ اس معاملے کی تفصیلی جانچ کی ضرورت ہے۔ عدالت نے کہا کہ انتخابات کی نگرانی الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے اور کمیشن کو اس پہلو پر غور کرنا چاہیے کہ کیا ایسے استعفوں کو روکنے کے لیے کوئی ضابطہ وضع کیا جا سکتا ہے جو محض پارٹی تبدیل کرنے اور فوری طور پر دوبارہ انتخاب لڑنے کے مقصد سے دیے جاتے ہیں۔