’عالمی یوم خواتین: ’امید ہے کہ وزیر اعظم شاہین باغ کی بات سنیں گے‘

شاہین باغ خاتون مظاہرین نے کہا، ’’امید ہے کہ وزیر اعظم عالمی یوم خواتین کے موقع پر ہمارے درد اورپریشانیوں کو سمجھیں گے‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے عالمی یوم خواتین سے ایک روز قبل وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ خواتین کے اس دن کے موقع پر ہمارے درد اورپریشانیو ں کو سمجھیں گے اور کہاکہ عالمی یوم خواتین شاہین باغ خواتین کے نام ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کل پوری دنیا میں خواتین کا دن منایا جائے گا اور اس دوران خواتین کے مسئائل، خواتین کی پریشانیاں، خواتین کو درپیش چیلنج اور خواتین کی ترقی کے لئے کیا اقدامات کئے جانے کی ضرورت ہے اس پر بات کی جائے گی لیکن ہم خواتین یہاں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ سمیت پورے ملک میں گزشتہ ڈھائی ماہ سے زائد سے سڑکوں پر ہیں مگر اس کی سدھ لینے کے لئے آج تک حکومت کا کوئی نمائندہ نہیں آیا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہی خواتین کا احترام ہے۔ جس ملک میں خواتین سڑکوں پر ہوں ان کیلئے یوم خواتین کیا معنی رکھتے ہیں۔

شاہین باغ خاتون مظاہرین میں شامل کنیزفاطمہ، نصرت آراء، ملکہ خاں سماجی کارکن سیما اور دیگر نے کہا کہ ہمارے لئے عالمی یوم خواتین کوئی معنی نہیں رکھتا ہے کیوں کہ ملک میں ہماری آواز سننے والا کوئی نہیں ہے۔ سب کا رویہ نظرانداز کرنے والا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بار عالمی یوم خواتین پر شاہین باغ خاتون مظاہرین کا نام خاص طور پر لیا جائے گا اور عالمی یوم خواتین شاہین باغ خواتین کے نام ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک کے وزیر اعظم خواتین کے بارے میں لمبی لمبی باتیں کرتے ہیں لیکن میں اس وقت سب سے زیادہ پریشان خواتین ہی ہیں کیوں کہ ملک میں جو بھی مسائل پیش آتے ہیں اس کا سب سے زیادہ اثر خواتین پر ہی پڑتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ خواہ مہنگائی، یا نوٹ کی منسوخی سب سے زیادہ متاثر خواتین ہی ہوئی ہیں اور اس کے لئے گزشتہ چھ برسوں کے دوران سب سے زیادتی کے واقعات خواتین کے ساتھ ہی پیش آئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف مظاہرے میں خواہ وہ لکھنؤہو، یا جامعہ ہو یا دیگر جگہ، ہر جگہ خواتین کو نشانہ بنایاگیا۔ان کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم کی پارٹی کے لوگوں نے ہی ہمیں پانچ روپے میں بکنے والی کہہ کر بدنام کیا لیکن اب تک ان لوگوں کے خلاف ہمارے وزیر اعظم نے کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ بالکل خاموش رہے۔ان خواتین نے کہاکہ جامعہ میں 15دسمبر اور فروری میں لڑکیوں کے ساتھ جس طرح بربریت کی گئی ہے اور ان کے پرائیویٹ پارٹس پر حملہ کیا گیا ہے اور اس پر ہمارے وزیر اعظم خاموش رہے تو کیا اب بھی یوم خواتین منانے کے کچھ بچا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یوم عالمی خواتین کے موقع پر ہمارے وزیر اعظم ہماری بات سنیں گے اور سی اے اے کو واپس لینے کے ساتھ خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کا دیرینہ مطالبہ پورا کریں گے۔ اس کے علاوہ کنیز فاطمہ نے وزیر اعظم کے نام ایک میورنڈم بھی لکھا ہے۔

مظاہرین میں شامل شاہین کوثر نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر کہاکہ ہمارے خواتین مظاہرے کو بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی کچھ پرائیویٹ نیوز چینلوں نے طرح طرح کی باتیں پھیلائیں اور یہاں تک کل کہدیاگیا کہ ھرنا ختم ہوگیا ہے اور دھرنا میں کوئی نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری لڑائی ذاتی نہیں ہے بلکہ ہم ملک کو توڑنے والوں کے خلاف میدان میں ہیں۔ پہلے یہ سمجھا گیا کہ خواتین کسی لائق نہیں ہیں اور مسلم خواتین نے بتادیا کہ وہ لڑائی لڑنے میں کسی کے پیچھے نہیں ہیں۔ خاص طور پر جب بات ملک کی ہو، آئین کی ہو، ملک کی مشترکہ تہذیب و ثقافت کی ہو توہم خواتین کسی حد تک بھی جاسکتی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مسلم خواتین میں بیداری آگئی ہے اور اپنے حق کے لئے آنے والے وقت میں زیادہ مستعدی کے ساتھ باہر آئیں گی اور اپنے حقوق کے لئے لڑیں گی۔ انہوں نے مودی حکومت پرطنز کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے جس قانون کو مسلم خواتین کے لئے نجات دہندہ قرار دیا ہے وہ قانون مسلم خواتین کے گھر کو برباد کرنے والا ہے۔انہوں نے کہاکہ کوئی عورت اپنے شوہر کو جیل بھیج کر اپنے گھر کو آباد کیسے کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ شاہین باغ خاتون مظاہرین یوم خواتین کے موقع پر اپنے مظاہرے کو خاص بنانے والی ہیں اور اس موقع پر مختلف اسٹال لگائیں گی اور اس کے ذریعہ روپے جمع کریں گی جو دہلی فسادزدگان کو بھیجا جائے گا۔

Published: 8 Mar 2020, 6:34 AM
next