دیوبند: علماء کے گھروں کی خواتین سی اے اے کے خلاف سڑکوں پر، آئین کی حفاظت کا عزم

بیگم قاری عثمان منصورپوری کی قیادت میں عظیم الشان مظاہرہ، نظامت کی ذمہ داری جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی صاحبزادی خدیجہ مدنی نے نبھائی

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

آس محمد کیف

دیوبند: سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف جاری ملک گیر احتجاج کے درمیان دار العلوم کے شہر دیوبند کی سرزمین پر بھی خواتین نے محاذ سنبھالا اور ہزاروں کی تعداد میں برقع نشینوں نے حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ دیوبند میں یہ مظاہرہ منگل کے روز کیا گیا جس کے دوران خواتین کے ’ہندوستان زندہ باد‘ کے نعروں سے علاقہ گونج اٹھا۔ خواتین کے اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں لوگ شامل تھے اور متعدد خواتین نے اپنے نوزائدوں کو گود میں لےرکھا تھا۔

دیوبند شہر کی تمام گلیوں سے گزرنے کے بعد خواتین کا قافلہ عید گاہ میدان میں پہنچا جہاں ایک جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس مظاہرے کی دلچسپ بات یہ تھی یہاں ہزاروں خواتین کی قیادت معروف علماء کی بیویوں اور بیٹیوں نے کی۔ تاہم، اس مظاہرے کی کامیابی کے پیچھے ان طالبات کا بھی ہاتھ ہے جنہوں نے بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیا۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

عیدگاہ میدان میں منعقد ہونے والے جلسہ عام کی صدارت قاری عثمان منصورپوری کی اہلیہ عطیہ عثمان اور نظامت جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی صاحبزادی خدیجہ مدنی نے کی۔ دریں اثنا، مولانا ارشد مدنی کی بہن عمرانہ سمیت خاندان کی بہت سی خواتین نے شرکت کی۔ مظاہرے کے دوران خواتین متعدد مرتبہ جذباتی نظر آئیں اور حکومت پر برسیں۔ خواتین کے اس مظاہرے کے انتظام و انصرام میں دیوبند سے سابقہ رکن اسمبلی معاویہ علی کی اہلیہ زہیرہ فاطمہ اور سماجی کارکن رخشندہ روحی نے اہم کردار ادا کیا۔

اس مظاہرے میں شامل نوعمر خاتون الماس فاطمہ نے کہا، ’’ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور اس کے آئین کے خلاف اٹھنے والا کوئی بھی اقدام ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ بدقسمتی سے حکومت کو اس ملک کی اخوت کی تاریخ اور مخلوط ثقافت کی پرواہ نہیں ہے اور وہ اسے درہم برہم کرنے پر آمادہ ہے۔‘‘

دیوبند: علماء کے گھروں کی خواتین  سی اے اے کے خلاف سڑکوں پر، آئین کی حفاظت کا عزم

انہوں نے مزید کہا، ’’یوپی پولیس نے مظاہروں کے دوران مسلمانوں پر مظالم ڈھائے ہیں اور ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے، یہ سب ناقابل قبول ہے۔ ہم نے ہمیشہ اپنی جان سے زیادہ اس ملک کو محبت کی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اس کے لئے قربانی دی ہے۔ سی اے اے آج مسلمانوں کا اپنے ہی ملک میں بیگانہ ثابت کرتا ہے جبکہ کل کو این آر سی کی شکل میں اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔‘‘

دیوبند: علماء کے گھروں کی خواتین  سی اے اے کے خلاف سڑکوں پر، آئین کی حفاظت کا عزم

مظاہرے میں شامل ایک طالبہ منتہا اشرف نے کہا ’’ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے پر ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس پر ہمارا جواب یہ ہے کہ ہم آدھا انچ بھی پیچھے نہیں ہٹنے والے۔‘‘ منتہیٰ کے مطابق انہیں احتجاج کرنے کا حوصلہ ’شاہین باغ‘ سے ملا، جہاں خواتین ایک مہینے سے زیادہ عرصے سے دھرنا دے رہی ہیں اور دنیا بھر میں ان کے احتجاج کا چرچا ہے۔

احتجاج میں شامل محض 18 سالہ کی زویریہ مرزا نے کہا، ’’یہ قانون صرف شاہین باغ کے لئے نہیں آیا ہے بلکہ سارا ملک اس سے متاثر ہوگا لہذا مظاہرے ہر جگہ ہونے چاہئیں۔ پُرامن طریقہ سے مظاہرہ کرنا ہم سب کا حق ہے۔ ہم کسی ہندو کے خلاف نہیں ہیں لیکن مسلمانوں کو دوئم درجے کا شہری بنانے کی سازش کو کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے؟‘‘

مولانا محمود مدنی کی صاحبزادی خدیجہ نے کہا ’’ہمارے بزرگوں نے ملک کو آزاد کروانے کے لئے انگریزوں کے سامنے قربانیاں دی ہیں اور آج ہمارے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جا رہا ہے! ہم یہ کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ملک میں ایک طبقہ کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ ملک کے تمام مذاہب کے لوگوں کو آج مسلمانوں کی حمایت میں آنا چاہیے۔‘‘

دیوبند کے سابق چیئرمین اور سابق رکن اسمبلی معاویہ علی کی اہلیہ زہرہ فاطمہ نے بھی حکومت پر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ’’مودی جی ہمارے بچوں کی خوشیاں چھین رہے ہیں۔ ان کی حکومت میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے معاملے سامنے آ رہے ہیں۔ ملک میں موجود تمام افراد کے پاس روزگار نہیں ہے، انہیں تمام طرح کی پریشانیوں کا سامنا ہے لیکن حکومت ان مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ نہیں ہے۔ ان کی پارٹی اب ایک ایسا معاملہ اٹھانا چاہتی ہے جو ملک کے بھائی چارے کی بنیادوں کو ہلا سکتی ہے۔ لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے اور ملک کی سیکولر شبیہ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔‘‘