حیدرآباد کا فیملی انسٹی ٹیوٹ: ’مثالی‘ بیوی بنانے کے لئے کورس!

حیدرآباد میں گزشتہ دو سال سے مثالی اور بہترین بیوی بنانے کا ایک کورس چلایا جا رہا ہے جس کے لئے پانچ ہزار وپے ماہانہ وصولے جاتے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ملک اور بیرون میں بے شمار کورسز چلائے جاتے ہیں جن کے ذریعے طلبہ و طالبات کو باصلاحیت بنایا جاتا ہے۔ کچھ کورسز تعلیم سے وابستہ ہوتے ہیں اور کچھ لڑکیوں کے لئے گھرداری اور لڑکوں کے لئے روزگار سے وابستہ۔ لیکن حیدرآباد میں ایک ایسا کورس چل رہا ہے جس کے ذریعے لڑکی کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کس طرح وہ ایک بہترین دلہن ثابت ہو سکتی ہے۔ یہاں باقائدہ ایک انسٹی ٹیوٹ کھولا گیا ہے جس کا نام ’فیملی انسٹی ٹیوٹ‘ ہے اور اس ادارے میں لڑکیوں کو ’دلہن کورس‘ کرایا جاتا ہے۔

ہر مذہب میں شادی کو ایک مضبوط سماجی بندھن تسلیم کیا جاتا ہے اور کیونکہ ہندو مذہب میں دوسرے جنم کا بھی تصور ہے اس لئے وہاں تو اس کو جنموں کا بندھن بھی کہا جاتا ہے۔ ہر خاندان کی ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے یہاں آنے والی دلہن خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ تمام خوبیوں کی مالک بھی ہو یعنی اس کی صورت اور سیرت دونوں مثالی ہوں۔ ہر شوہر یہ چاہتا ہے کہ اس کی ہونے والی بیوی تمام ذمہ داریاں اٹھانے کی اہل ہو۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ اس کے لئے کسی انسٹی ٹیوٹ میں تربیت دی جائے۔

حیدرآباد میں واقع ’فیملی انسٹی ٹیوٹ میں لڑکی کو ایک کامیاب شادی شدہ زندگی گزارنے کے لئے ٹریننگ دی جاتی ہے۔ شادی سے پہلے گھر کے مینجمنت کے علاوہ کئی طرح کے اور کورسز بھی یہاں شروع کئے گئے ہیں۔ دیگر کورسز میں شادی کے بعد گھر کو چلانے کی بھی ٹریننگ دی جاتی ہے اور اس کے علاوہ بہترین والدہ بننے کے گر بھی سکھائے جاتے ہیں۔

دلہن کورس کے تحت انسٹی ٹیوٹ کھانا بنانا، سلائی کڑھائی کرنے کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو خوبصورت بنے رہنے کی ٹپس اور مالی مینجمنٹ کی بھی ٹریننگ دیتا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کا دعوی ہے کہ وہ ایک بار پھر سے خاندان کے اصولوں کو ڈھونڈنے میں مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کورس شروع کرنے والے ٹیچر الیاس شمی نے ایک ویب سائٹ کو بتایا کہ ہندوستان میں کئی طرح کے کورس ہیں لیکن ایسا کوئی بھی کورس نہیں تھا جس میں لڑکیوں کو یہ سکھایا جائے کہ وہ شادی کے بعد اپنی زندگی کو کیسے کامیاب اور خشگوار بنا سکتی ہے!

واضح رہے کہ الیاس گزشتہ دو سال سے یہ کورس چلا رہے ہیں اور وہ اس کورس کے لئے ہر ماہ 5 ہزار روپے وصول کرتے ہیں۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں کوئی بھی داخلہ لے سکتا ہے۔ اس میں نہ کوئی عمر کی حد طے ہے اور نہ کسی مذہب کی قید۔ موجودہ وقت میں یہاں تربیت حاصل کر رہی لڑکیوں میں مسلم لڑکیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔