والد کو سائیکل پر بیٹھا کر گڑگاؤں سے 1000 کلومیٹر دور دربھنگہ تک لے گئی 13 سالہ جیوتی

لاک ڈاؤں میں پیسے ختم ہونے کے بعد جب پرشانیاں بڑھنے لگیں تو جیوتی نے 1200 روپے کی سائیکل خریدی اور اپنے والد کو اس پر بیٹھا کر 1000 کلومیٹر سے بھی زیادہ کا سفر طے کرتے ہوئے بہار کے دربھنگہ پہنچ گئی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مرکزی حکومت کی طرف سے غیر متوقع طور پر مسلط کیے لاک ڈاؤن کا خمیازہ مہاجر مزدور بھگت رہے ہیں اور اپنے آبائی وطن پہنچنے میں تمام طرح کی مصیبتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بس یا ٹرین دستیاب نہ ہونے کے وجہ سے متعدد مزدور پا پیادہ ہی شہروں سے اپنے گاؤں کی جانب روانہ ہو گئے، جبکہ بہت سے لوگوں نے لمبے سفر کے باوجود سائیکل کا انتخاب کیا۔ دریں اثنا، ایک 13 سالہ لڑکی جیوتی کی کہانی بھی منظر عام پر آئی ہے، جس نے اپنے والد کو سائیکل پر بیٹھا کر ایک ہزار کلو میٹر سے بھی زیادہ کا لمبا سفر طے کیا۔

جیوتی کے والد موہن پاسوان گڑگاؤں بیٹری رکشہ چلاتے تھے اور جنوری کے مہینے میں ہوئے ایک حادثہ میں ان کے پیر میں چوٹ لگ گئی۔ آٹھویں جماعت کی طالبہ جیوتی تبھی سے اپنے والد کی خدمت میں مصروف تھی۔ لاک ڈاؤں کے وقت ان کے پیسے ختم ہو گئے اور مالک مکان کرایہ کا مطالبہ کرنے لگا اور مکان خالی کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔ ادھر، ای رکشہ کا مالک بھی پیسے کما کر لانے کا دباؤ ڈالنے لگا۔

ایسے حالات میں جیوتی نے خود ہی 1200 روپے کی سائیکل خریدی اور اپنے والد موہن پاسوان کو اس پر بیٹھا کر بہار کے لئے نکل پڑی۔ راستہ میں تمام طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کئی بار تو کھانا بھی نصیب نہیں ہوا۔ مگر جیوتی نے ہمت نہیں ہاری۔ راستہ میں جیوتی اور اس کے والد کو کچھ امداد بھی حاصل ہوئی، کسی نے پانی پلایا تو کسی نے کھانا کھلا دیا۔

جیوتی نے کہا کہ اس کے پاس سائیکل سے سفر کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ اس نے بہار جانے کے لئے ایک ٹرک والے سے بات کی تھی لیکن اس نے 6 ہزار روپے کا مطالبہ کیا۔ جیوتی نے بتایا ’’میرے پاپا کے پاس 6 ہزار روپے نہیں تھے۔ لہذا میں نے سائیکل سے ہی جانے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ گڑگاؤں سے دربھنگہ تک کا سفر بہت کٹھن تھا مگر اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا۔‘‘

جیوتی نے کہا، ’’میں نے پاپا کو سائیکل پر بیٹھا کر 10 مئی کو گڑگاؤں سے چلنا شروع کیا اور ہفتہ 16 مئی کی شام تک ہم گھر پہنچ گئے۔ خدا کا شکر ہے ہم اپنے گاؤں میں آ گئے۔‘‘ ادھر، جیوتی کے گاؤں والے اپنی بیٹی کے حوصلہ کی تعریف کر رہے ہیں۔ دونوں باپ بیٹی کا گاؤں پہنچنے پر طبی معائنہ کیا گیا اور اس کے بعد گاؤں کی ہی ایک لائبریری میں 14 دن کے لئے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

Published: 19 May 2020, 9:11 PM
next