خواتین

ممبئی: تین طلاق بل کے خلاف لاکھوں مسلم خواتین کا مظاہرہ

پرسنل لاءبورڈ اور کُل جماعت تنظیم نے مظاہرہ کا اعلان کیا تھا اور دوپہر 2بجے سے خواتین کا آزاد میدان پہنچنے کا سلسلہ شروع ہوا ،جو طرح طرح بینرس اور پلے کارڈس اٹھائے ہوئے نظرآئیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

یو این آئی

ممبئی: عروس البلاد ممبئی میں مرکزی حکومت کے طلاق ثلاثہ بل کے خلاف جنوبی ممبئی کے آزاد میدان پہنچ کر لاکھوں مسلمان خواتین نے پُرزور مظاہرہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ بل شریعت کے منافی ہے اور خواتین مخالف ہے ،اس لیے بل کو فوری طورپر واپس لیا جائے جبکہ مسلمان خواتین کی اس یلغار میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے بینرتلے سبھی فرقوں اور مسالک کی خواتین مظاہرہ میں شریک ہوئیں اور ایسا محسوس ہورہا تھا ،جیسے انہوںنے اس علاقے کو اپنی آغوش میں لے لیا ۔
مذکورہ احتجاجی مظاہرہ مسلم خواتین کی جانب سے پہلا زبردست مظاہرہ کہا جاسکتا ہے ،البتہ اس سے قبل دومواقع ایسے بھی آئے ہیں جب مسلمانوں نے 1969مسجد اقصیٰ میں آتشزنی کے واقعہ اور 1986میں شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف زبردست تاریخی احتجاج کیا تھا اور آج یہاں ہونے والے احتجاج میں اتنی بڑی خواتین کی شرکت نے حکومت اور انتظامیہ کو حیرت زدہ کردیا ہے۔

پرسنل لاءبورڈ اور کُل جماعت تنظیم نے مظاہرہ کا اعلان کیا تھا اور دوپہر 2بجے سے خواتین کا آزاد میدان پہنچنے کا سلسلہ شروع ہوا ،جو طرح طرح بینرس اور پلے کارڈس اٹھائے ہوئے نظرآئیں۔ جن پر ”شریعت ہمارے لیے قابل اعزاز اور احترام ہے۔“،”تین طلاق بل کو واپس لیا جائے “اور ”مسلم خواتین کو اسلام نے بہترین حقوق دیئے ہیں۔“جیسے نعرے لکھے ہوئے تھے۔
اس موقع پر ڈائس پر موجود معزز خواتین نے کہا کہ مرکزی حکومت کا تین طلاق بل عورتوں اور بچوں کے حقوق کے خلاف ہے اور جس کی وجہ سے مسلم معاصرہ اور خاندان بُری طرح سے متاثر ہوں گے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

اس موقع پر پرسنل لاءبورڈ کی وویمن ونگ کی رابطہ کار صالحہ کار اور ذکیہ فرید شیخ ،عشرت شہاب الدین ،پروفیسر شبانہ خان،جماعت اسلامی کی عرشیہ شکیل،مونسہ بشریٰ،سلمیٰ رضوی سنت والجماعت ،ڈاکٹر اسماءزہرہ وغیرہ نے خطاب کیا۔
انہوں نے بل کی خرابیوں اور نقص کے بارے میں کہا کہ مذکورہ بل عورتوں کو قانونی اور سماجی پیچیدگیوں میں مبتلا کرتا ہے جبکہ اس ناقص بل کے خلاف ماہرین قوانین اور حقوق انسانی کی تنظیموں کو بھی احتجاج کرنا چاہئے کیونکہ ملک بھر ایک کروڑسے زائد خواتین نے زبردست احتجاج کیا ہے۔اور اس موقع پر حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس بل کو فوری طورپر واپس لے۔

پرسنل لاءبورڈ ایکزیکٹیوکی رکن مونسہ بشری ٰ نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے،جہاں آزادی مذہب بنیادی حقوق میں شامل ہے اور اس کی ضمانت دستور نے دی ہے جبکہ اس بل کو قانون بنانے کی حکومت کی آمرانہ کوشش بدبختانہ ہے جوکہ مکمل طورپر مسلم مخالف ہے اور مسلم عورتوں کے لیے کسی بھی طرح سے قابل قبول نہیں ہے۔ایڈوکیٹ منور الوارے نے مراٹھی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین دل وجان سے شرعی قوانین کی حمایت کرتی ہیںاور انہیں پتہ ہے کہ ان کا دوست ودشمن کون ہے۔اس لیے مسلم خواتین کو کسی بھی طرح دھوکہ نہیں دیا جانا چاہئے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے اس احتجاجی مظاہرے کے لیے مسلم اکثریتی علاقوںمدنپورہ،محمد علی روڈ،ماہم ،باندرہ بھارت نگر،شیخ مصری انٹاپ ہل ،گوونڈی ،جوگیشوری ،اندھیری ،ڈونگری ،ناگپارہ اور دیگر علاقوںسے سینکڑوں بسیں اور کاریں روانہ ہوئیں ،ان خواتین کے لیے جگہ ناشتہ ،چائے ،ٹھنڈے مشروب ،پانی وغیرہ کا انتظام کیا گیا جبکہ سیا ہ برقعوںاور رنگے برنگے لباس میں ملبوس خواتین نے پردے کا خیال رکھا تھا اور آزادمیدان کے ڈائس پر صرف خواتین ہی نظرآرہی تھیں جبکہ میدان میں بھی خواتین اور حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور خواتین پولیس اہلکاربھی بڑی تعداد میں نظرآئیں۔

اس موقع پر سابق ریاستی وزیراور ایم ایل اے عارف نسیم خان،سماجی وادی پارٹی کے صدرابوعاصم اعظمی ،سابق ایم ایل اے سہیل لوکھنڈوالا،ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی ،ایم ایل اے ایڈوکیٹ وارث پٹھان،امن کمیٹی کے صدر فریدشیخ ،مولانا محمود دریابادی،مولانا اعجاز کشمیری ،ایم آئی ایم کے شاکرپٹنی ،مولانا خلیل الرحمن نوری ،صحافی سرفراز آرزو،سماجی کارکن سلیم الوارے ،ڈاکٹرعظیم الدین اور دیگر عمائدین نے آزادمیدان پہنچ کر حمایت کا اعلان کیا جبکہ پرسنل لاءبورڈ کے سکریٹری مولانا سجاد نعمانی کے دعائیہ کلمات پر احتجاج ختم کیا گیا۔