خواتین

غیر ازدواجی رشتہ سے باہر کیسے آئیں! ... سنیتا پانڈے

اس بیماری میں شوہر اور بیوی دونوں مبتلا ہوتے ہیں اس لئے علاج دونوں کا ہونا چاہئےاور اگر وقت رہتے علاج نہ ہو پائے تو پورا خاندان تباہ و برباد ہو سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

سنیتا پانڈے

غیر ازدواجی تعلقات یعنی کہ شادی شدہ مرد یا عورت کے کسی دیگر عورت یا مرد کے ساتھ تعلقات ایک نفسیاتی اور سماجی مسئلہ ہے، بلکہ میں تو اسے ایک بیماری کے طور پر دیکھتی ہوں۔ بیماری اس لئے کیوں کہ اس طرح کے تعلقات کسی نہ کسی طرح پورے خاندان کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔

جس طرح ہر بیماری کا علاج ہونا چاہئے اسی طرح اس کا بھی علاج ہو،تبھی بیمار ٹھیک ہو پائے گا۔ اس بیماری میں شوہر اور بیوی دونوں مبتلا ہوتے ہیں اس لئے علاج دونوں کا ہونا چاہئےاور اگر وقت رہتے علاج نہ ہو پائے تو پورا خاندان تباہ و برباد ہو سکتا ہے۔

جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ ایسےتعلقات ہوتے ہیں جو شادی شدہ ہونے کے باوجود شوہر یا بیوی کے کسی اور کے ساتھ تعلقات بن گئے ہوں۔ کئی معاملات میں تو آپسی رضامندی سے بھی ایسے تعلقات قائم ہو جاتے ہیں۔ وہاں کوئی مسئلہ کھڑا نہیں ہوتا، مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ایسے تعلقات کی اجازت نہیں ملی ہو ۔ اکثر اس طرح کے تعلقات راز ہی میں رکھے جاتے ہیں کیوں ان کے افشاں ہوتے ہی شوہر اور بیوی کے درمیان کشیدگی یا لڑائی جھگڑا وغیرہ شروع ہو جاتا ہے ، یہ تو اس بیمار ی کی محض کچھ علامتیں ہیں۔

یوں تو غیر ازدواجی تعلقات کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن آج کل سوشل میڈیا کی رسائی نے انہیں مزید آسان بنا دیا ہے۔ اس طرح کے تعلقات صرف ارینج میرج (خاندان کی مرضی سے کی گئی شادی) میں ہی نہیں بلکہ لو میرج (محبت کی شادی) کے بعد بھی قائم ہو سکتے ہیں۔

اس بیماری کا علاج کرنے کے لئے ہمیں اس کی جڑ تک جانا ہوگا ، تبھی یہ دور ہو پائے گی۔اس بیماری کی جڑ میں جانے کے لئے وجوہات معلوم کرنی ہوں گی۔ شادی کے بعد غیر ازدواجی تعلقات کو تین مدتوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے کیوں کہ تینوں مدتوں میں ایسے تعلقات قائم ہونے کی وجوہات میں کچھ فرق پایا جاتا ہے۔

پہلی مدت، شادی کے دو تین سالوں میں استوار ہوئے تعلقات۔ اس مدت میں قائم ہونے والے تعلقات کی اہم وجہ شادی سے پہلے کی وہ محبت ہے جو شادی ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی۔ میاں بیوی میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی جھگڑا یا جسمانی تعلقات میں عدم اطمینان، ایک دوسرے میں جسمانی یا نفسانی یا معاشی کمی کا ہونا۔ خاندان سے وابستہ وجوہات ، مثلاً جہیز یا بدسلوکی ،نفسیاتی یا جسمانی طور پر ہراساں کرنا وغیرہ۔ اس میں ایک اہم وجہ شوہر یا بیوی میں سے کسی ایک میں انتہائی عدم تحفظ کا احساس یا اوور پزیسیو (حق جتانے والا) ہونا بھی ہے، جو کہ انزائٹی ڈس آرڈر(اضطرابی بیماری ) کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

دوسری مدت، شادی کے تین سےچار سال بعد سے لے کر بارہ سے پندرہ سال تک کا ہوتا ہے۔ اس مدت میں قائم ہونے والے غیر ازدواجی تعلقات کی اہم وجہ شوہر بیوی کے آپسی مزاج نہ مل پانا، ایک دوسرے کے جذباتوں کی پرواہ نہ کرنا اور خاندانی مسائل ہوتے ہیں۔ اس مدت میں ایک وجہ بائی پُولر ڈِس آرڈر بھی ہو سکتی ہے، اس بیماری میں مبتلا شخص کا مزاج کبھی ایک جیسا نہیں رہتا ، اسے بات بات پرغصہ آ جاتا ہے اور اکثر نئی ہوئی شادی میں اس بیماری کا پتہ نہیں چل پاتا۔

تیسری مدت، شادی کے بارہ سےپندرہ سالوں کے بعد سے پینتیس سے چالیس سال بعد تک کا ہوتا ہے، اس مدت میں غیرازدواجی تعلقات قائم ہونے کی اہم وجوہات ، پرانے تجربات کو لے کر لڑائی جھگڑا ، ایک دوسرے کے تئیں گرمجوشی کا فقدان ، خاندانی یا نوکری وغیر ہ کی مصرفیات کے سبب ایک دوسرے کی طرف توجہ نہ دے پانا ، اپنے اپنے شوق پورے کرنے کے چلتے تنہائی محسوس کرنا وغیرہ۔ اگر شادی کے پینتیس سےچالیس سال کے بعد غیر ازدواجی تعلق شروع ہوتے ہیں ۔ ایسا معاملہ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

وجہ جو بھی ہو ان تمام مدتوں میں جو ایک بات عام نکل کر سامنے آتی ہے وہ ہے شوہر بیوی کے بیچ اعتماد کی کمی، کمیو نی کیشن یا آپسی بات چیت کا غلط طریقہ، خاندانی تنازعہ وغیرہ۔ لیکن سب سے اہم وجہ ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان دوستی کانہ ہونا، اسی کمی کے چلتے شادی کے بعد باہر ایک ایسا دوست ڈھونڈھنے پر مائل کر دیتی ہے جو ازدواجی زندگی کی بنیاد کو ہلاکر رکھ دیتی ہے۔

شوہر اور بیوی ذاتی طور پر بہت اچھے شوہر اور بیوی ہو سکتے ہیں، بہت اچھے والدین ہو سکتے ہیں، بہت اچھے بہو یا داماد ہو سکتے ہیں، بہت اچھے بیٹی یا بیٹا ہو سکتے ہیں ۔ کہنے کا مطلب ہے کہ وہ ہر فرائض بخوبی انجام دے رہے ہوں ، لیکن ممکن ہے کہ وہ آپس میں بس اچھے دوست نہ بن پائے ہوں۔ آپسی اعتماد کی کمی، شفافیت کی کمی یا خاندانی ماحول کے سبب دونوں میں دوستی پیدا نہیں ہونے دیتی لہٰذا رفتہ رفتہ انہیں شادی سے باہر جا کر وہ تعلقات قائم کرنے پر مجبور کر دیتی ہے جنہیں سماج صحیح نہیں مانتا۔

دوستی کا رشتہ ہر شخص کی زندگی میں بہت معنی رکھتا ہے، دوست وہ ہوتا ہے جس کے سامنے ہر ایک بات بلا جھجک اطمینان کے ساتھ رکھی جا سکتی ہے، جو اپنا کندھا اور کان دینے کے لئے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔

جب نجی رشتہ میں دوستی کی پوری خوراک نہیں مل پاتی تو اس تشنگی کو پورا کرنے کے لئے کسی دوست کی تلاش رہتی ہے اور جب باہر کوئی اس کی تشنگی کو پورا کرنے والا اچھا دوست مل جاتا تو اس کے منفی اثرات شادی شدہ زندگی پر پڑنے لگتے ہیں۔

کبھی کبھی دوستی میں جنسی تعقات قائم ہو جاتے ہیں ، لیکن ضروری نہیں ہے کہ ہر غیر ازدواجی تعلق میں جنسی تعلقات شامل ہوں، ممکن ہے کہ ایسے تعلقات محض بات چیت پر ہی منحصر ہوں ، چونکہ ایسے تعلقات اپنوں سے چھپ کر ہوتے ہیں اس لئے جب منظر عام پر آتے ہیں تو پریشانی کا سبب بن جاتے ہیں۔

بہتر تو یہی ہے کہ شادی کے بعد شوہر ، بیوی سب سے پہلے تو صرف شوہر ،بیوی نہ بن کر ایک دوسرے کے سب سے اچھے دوست بنیں اور پیار و محبت سے باتیں کر یں ،ایک دوسرے کے جذبات کی قدر کریں اور یہ سب کرنے کے لئے تمام رشتوں کو بالائے طاق پر رکھ دیں، ورنہ ممکن ہے کہ پورے خاندان کی بربادی ہو جائے۔

یہ مضمون پڑھ کر ہو سکتا ہے کہ آپ کی آنکھوں کے سامنے کچھ ایسے چہرے گشت کر رہے ہوں، ہو سکتا ہے آپ ایک مسکراہٹ کے ساتھ ایسے کسی شخص کو دیکھ رہے ہوں یا ہو سکتا ہے کہ آپ خودگھبرا گئے ہوں۔

لیکن میرا یہ مضمون لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ تکلیف جان کر علاج کی طرف بڑھا جائے۔ کوئی بھی شخص پرفیکٹ نہیں ہوتا ، اس لئے ہماری کوشش یہی ہونی چاہئے کہ ادھڑی ہوئی سیلائی پر وقت رہتے ٹانکا لگا لیا جائے۔

(سنیتا پانڈے ماہر نفسیات ہیں اور جے پور میں کاونسلنگ کلینک چلاتی ہیں)

Published: 1 Jul 2018, 5:10 PM