ڈاکٹر بن کر نام کما رہیں میوات کی بیٹیاں

ڈاکٹر رخسار کا کہنا ہے, ’’بچیوں کے تعلیم یافتہ بنانے کے لیے ماں کا بے حد اہم کردار ہوتا ہے اور اس کا تعلیم کے تئیں بیدار مغزی کا ثبوت دینا بھی ضروری ہے تبھی بچیاں پڑھ سکتی ہیں۔‘‘

محمد صابر قاسمی میواتی

علاقہء میوات کا ضلع نوح ریاست ہریانہ کا ایک ایسا علاقہ ہے جس کی شناخت تعلیمی و معاشی پسماندگی کے طور پر ہوتی ہے۔ پسماندگی کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں ان میں سے ایک طرف جہاں اس علاقے میں عوامی سطح پر تعلیم کے تئیں بیدار نہ ہونا ہے وہیں اس علاقے کی صورت حال سرکاری سطح پر لچر سسٹم بھی کہیں نہ کہیں ذمہ دار ہے۔

میوات میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں طالبات کا پڑھانے کا رجحان گرلز اسکول اور بہتر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے کافی کم پائی جاتی ہے اور اس کی کئی وجوہات لوگوں سے بات کرنے سے سامنے آئی ہیں۔ لیکن اندھیرا کتنا بھی گھنا کیوں نہ ہو کچھ چراغ مخالف حالات کے باوجود روشن ہو جاتے ہیں۔ اہل میوات بشمول ہریانہ راجستھان سے یہ خبر خوش آئند ہے کہ اب میوات کہ کچھ تعلیم یافتہ فکر مند گھرانوں کی بیٹیاں پڑھ لکھ رہی ہیں بلکہ کچھ تو اعلی تعلیم بھی حاصل کر رہی ہیں ۔ یاد رہے کہ نوح جیسے علاقے میں 12 لاکھ آبادی پر مشتمل ضلع میں ہمیشہ لیڈی ڈاکٹر کی انتہائی کمی رہی ہے۔ اور حد یہ ہے کہ نسوانی امراض کا علاج بھی انتہائی مجبوری کی بنا پر مرد ڈاکٹروں سے کرانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ قومی آواز نے میوات کی کچھ ایسی بیٹیوں سے بات چیت کی جنہوں نے ڈاکٹری کی دگری حاصل کی ہے اور جانا کہ ان بیٹیوں کے تعلیمی سفر میں کیا مشکلات آئیں اور ان کے کیا تجربات ہیں۔

میوات کے گاؤں نگینہ کی رہائشی ڈاکٹر رخسار کا کہنا ہے کہ بچیوں کے تعلیم یافتہ بنانے کے لیے ماں کا بے حد اہم کردار ہوتا ہے اور اس کا تعلیم کے تئیں بیدار مغزی کا ثبوت دینا بھی ضروری ہے تبھی بچیاں پڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ مجھے لگتا ہے یہاں جو بچیوں کو پڑھانے کے اعداد و شمار کم ہیں اس کی بیداری کی کمی ہے اور یہاں کے لوگ اپنے نظریات کی وجہ سے بھی پسماندہ ہیں۔ ‘‘

بی ڈی ایس کی تعلیم حاصل کر چکی ڈاکٹر شہناز کوٹ کا کہنا ہے کہ ’’میوات میں نہ صرف طالبات کی تعلیمی اعداد و شمار کم ہے بلکہ طلبہ کے زیر تعلیم رہنے کے اعداد و شمار بھی بہت کم ہے اس کے لیے سب کو اجتماعی طور پر کوشش کرنی ہوگی ۔ ‘‘

ڈاکٹر نشا پروین نانگل موجی الور کا کہنا ہے کہ ’’ہماری سوسائٹی تعلیم کے لئے فکر مند نہیں۔ بس بچی جوان ہوئی اور فوراً شادی کرکے بری الذمہ ہونے کی فکر ہوتی ہے۔ ہمارا معاشرہ تعلیم پر خرچ نہیں کر رہا ہے جبکہ غلط رسومات میں پیسہ خوب خرچ کیا جا رہا ہے۔ شادی کے نام پر بچوں کی خرید فروخت بند ہونی چاہئے۔ ہمیں تعلیم یافتہ بچیوں اور بچوں کے رشتوں کو ترجیح دینی چاہئے نہ کہ پیسے کو۔‘‘

ڈاکٹر ناحیدہ معین خانپورر گھاٹی کا کہنا ہے کہ ’’ میوات میں طالبات کی تعلیم کے بہت سے مسائل ہیں۔ یہاں کوئی گرز اسکول نہیں ہے۔ گھر سے اسکول تک آمد رفت کا محفوظ ماحول نہ ہونا بھی ایشو ہے۔ جب لڑکیاں اعلی تعلیم یافتہ ہوجاتی ہیں تو ان کے رشتے مناسب نہ ملنا اور مہنگی شادی بھی ماں باپ کے لیے ایک مسئلہ ہے۔ مائیں تعلیم یافتہ نہیں ہوتی ، اس کا بھی اثر ہوتا ہے۔ اس لئے موجودہ دور میں ہمیں اپنے ماحول کے ادارے کھولنا چاہیے تاکہ بلا جھجک لوگ طالبات کو پڑھانے کے لیے آگے آیئں۔ ‘‘ ناحیدہ نے کہا کہ ’’ہمارے قریبی لوگ بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے منفی سوچ رکھتے تھے لیکن میں پرواہ کیے بغیر ہم اس سفر میں چلتی رہی ۔ ‘‘

فیروز پور جھرکہ کی رہائشی صوفیہ محمدی اور فیہا بے نظیر سگی بہنیں ہیں اور دونوں نے ہی ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ان میں سے ایک بہن صوفیہ کا کہنا ہے کہ ’’پہلے کے مقابلے میں لوگ تعلیم کے حوالے سے بیدار ہو رہے ہیں لیکن حالات کے اعتبار سے ابھی میوات کی شرح خواندگی بہت کمزور ہے۔ ہم دونوں بہنوں کی خواہش یہ ہے کہ ہم ڈاکٹری کے میدان میں مزید تعلیم حاصل کریں اور ڈاکٹر بن کر اپنے علاقے کی خد مت کریں۔ ‘‘ صوفیہ میوات میں ایک اعلی معیاری اسپتال کھولنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے سرپرستوں اور بچیوں کا بیدار ہونا منزل بہ منزل بڑھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

کھیڑا نوح کی رہائشی بی ڈی ایس کی تعلیم حاصل کر چکی نائلہ خان کا کہنا ہے کہ ’’ بچیوں کی تعلیم کے لئے ہمارے علاقے یہ سچ ہے کہ میوات میں گرلز اسکول اور کالجز کا کا فقدان ہے ، تاہم اب سرکاری طور پر کالج کھلے ہیں جس سے امید کر سکتے ہیں کہ بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ علاقے کے لوگوگں میں بیداری کا فقدان بھی اس کا ذمہ دار ہے۔ ‘‘

Published: 6 May 2018, 4:37 AM