باحجاب ٹیچر پرائمری سطح پر نہیں پڑھا سکتی: جرمن عدالت

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ محکمہ تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ پرائمری اسکولوں میں ایسا تعلیمی ماحول یقینی بنائے جس میں تدریسی عمل مذہبی حوالے سے قطعی غیر جانبدار رہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ڈی. ڈبلیو

جرمن دارالحکومت برلن میں ایک خاتون ٹیچر کو پرائمری سطح پر تدریس کی اجازت محض اس لئے نہیں دی گئی کیوں کہ وہ اپنے سر کو حجاب سے ڈھکتی ہے۔ یہ فیصلہ برلن کی ایک لیبر کورٹ نے سنایا اور اس مقدمے کے فریقین ٹیچر اور محکمہ تعلیم دونوں کا تعلق جرمنی کے اسی شہر سے تھا۔

مقدمے میں درخواست دہندہ خاتون ٹیچر نے کہا تھا کہ وہ برلن ہی کے کسی پرائمری اسکول میں بچوں کو تعلیم دینا چاہتی ہیں مگر محکمہ تعلیم نے انہیں ان کی خواہش کے برعکس ہائر سکینڈری سطح کے ایک وکیشنل اسکول میں تعلیم کی ذمہ داریاں سونپ رکھی ہیں۔

اس مسلم خاتون کے مطابق ان کے ساتھ برلن شہر کے صوبائی محکمہ تعلیم کا یہ رویہ عوامی شعبے میں ملازمتوں کے دوران مساوی حقوق قانون کے تقاضوں کے منافی تھا اور ساتھ ہی ان کے ساتھ کیے گئے روزگار کے معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی بھی۔

عدالت نے اپنے اس فیصلے میں کہا کہ محکمہ تعلیم کے لیے لازمی نہیں کہ وہ ہیڈ اسکارف پہننے والی کسی خاتون ٹیچر کو لازمی طور پر بچوں کے کسی پرائمری اسکول میں ہی درس و تدریس کے لیے تعینات کرے۔

متعلقہ ٹیچر نے قانونی درخواست میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ان کے ساتھ صوبائی حکام کا یہ رویہ اس وجہ سے بھی غلط ہے کہ وہ ایسا مسلم خاتون کے ہیڈ اسکارف کی وجہ سے کر رہے ہیں، اسی لیے یہ عمل درخواست دہندہ کو مذہبی آزادی قانون کے تحت حاصل حقوق کی بھی نفی ہے۔

اس پر برلن کی لیبر کورٹ کے جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صوبائی محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کا اس ٹیچر کی پوسٹنگ کے حوالے سے فیصلہ نہ تو پبلک سیکٹر میں دوران ملازمت مساوی حقوق کے صوبائی قانون کے منافی ہے اور نہ ہی مذہبی آزادی کے قانون کی خلاف ورزی۔

باحجاب ٹیچر پرائمری سطح پر نہیں پڑھا سکتی: جرمن عدالت

ساتھ ہی عدالت نے اس ٹیچر کو یہ حق بھی دیا کہ اگر وہ چاہیں تو مقامی لیبر کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف برلن کی صوبائی لیبر کورٹ میں اپیل بھی دائر کر سکتی ہیں۔ عدالت کے مطابق یہ بات دراصل صوبے میں سرکاری ملازمین کے لیے مساوی حقوق کے قانون کے عین مطابق ہے کہ پرائمری اسکولوں میں ہیڈ اسکارف پہننے والی کسی ٹیچر کو تدریس کی اجازت نہ دی جائے۔

اس امر کی عدالت کی طرف سے وضاحت یوں کی گئی کہ صوبائی محکمہ تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ پرائمری اسکولوں کی سطح پر بچوں کے لیے ایسے تعلیمی ماحول کو یقینی بنائے، جس میں تدریسی عمل مذہبی حوالے سے بھی قطعی غیر جانبدار رہے۔

برلن کی رہائشی اور ہیڈ اسکارف پہننے والی اس مسلم خاتون ٹیچر کو اب آئندہ بھی اسی ہائر سکینڈری سطح کے وکیشنل اسکول میں اپنے تدریسی فرائض جاری رکھنا پڑیں گے، جہاں وہ اب تک پڑھا رہی ہیں۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا یہ ٹیچر اس فیصلے کے خلاف صوبائی لیبر کورٹ میں کوئی اپیل دائر کریں گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 10 May 2018, 9:07 AM