ڈنمارک میں خواتین حجاب پہنیں، جرمانہ میں ادا کروں گا: تاجر

رشید نکاز کا کہنا ہے کہ وہ حجاب پہننے کی وجہ سے عائد ہونے والے جرمانہ کے بھی خلاف ہیں اور حجاب پہننے کی پابندی کے بھی خلاف ہیں۔

قومی آوازبیورو

کئی ممالک میں مسلم خواتین کو حجاب پہننے پر پابندی عائد ہے اور اس اصول کی خلاف ورزی کرنے پر مسلم خواتین پر جرمانہ عائد کر دیا جاتا ہے۔ ڈنمارک میں بھی حجاب پر پابندی عائد کرنے کی تیاریاں چل رہی ہیں اور 6 فروری کو اس ضمن میں تجویز پیش کر دی گئی ہے۔ لیکن الجیریا کے ایک تاجر رشید نکاز نے اعلان کر دیا ہے کہ یہاں کسی مسلم خاتون پر حجاب پہننے کی بنا پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہےتو جرمانہ کی رقم وہ ادا کریں گے۔

رشید کا کہنا ہے کہ وہ اب تک فرانس، بیلجیم، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈ، آسٹریا اور جرمنی سمیت 6 ممالک میں مسلم خواتین کے حجاب پہننے پر عائد ہونے والے 1538 جرمانے کی رقم ادا کر چکے ہیں۔

سال 2010 میں کئی یورپی ممالک میں حجاب پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد رشید نکاز جرمانہ ادا کرنے کی وجہ سے زیر بحث آئے تھے۔

الجیریائی کاروباری اور سیاسی کارکن رشید نے اب تک ان جرمانوں کے سلسلہ میں ایک ملین یورو (تقریباً 8 کروڑ روپے) خرچ کر دئیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’یورپ میں حکومتیں مسلمانوں کے لئے ماحول کو سازگار کرنے کےلئے کچھ نہیں کر رہی ہیں اس لئے مسلم طبقہ کو اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے مضبوط ہونا چاہئے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’یہ میرے لئے اہم ہے کہ میں یورپی حکومتوں کو یہ پیغام دے سکوں کہ وہ آزادی پر پابندیاں نہ لگائیں۔ جو بھی دل میں آئے وہ نہیں کر سکتے۔‘‘

انہوں نے کہا ’’ڈنمارک حکومت کو یہ سمجھنا چاہئے کہ خواتین کا حجاب پہننا ان کی آزادی میں شامل ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’میں مذہب کی حفاظت نہیں کر رہا ہوں بلکہ آزادی پر حملہ کے خلاف ہوں۔‘‘

انہوں نے کہا ’’میں حجاب پہننے کی وجہ سے عائد ہونے والے جرمانہ کے بھی خلاف ہوں اور حجاب پہننے کی پابندی کے بھی ۔ ڈنمارک سے قبل میں نے 8 مارچ کو یوم خواتین پر حجاب پہننے سے انکار کرنے والی 29 خواتین کی آزادی کی حمایت میں ایران کا دورہ کیا تھا۔ ‘‘