خواتین کے لیے بچوں کی صحت کا خیال رکھنا ایک چیلنج

اگر بچے فاسٹ فوڈ کا مطالبہ کریں تو مائیں گھر ہی میں برگر، آلو کے چپس اور نوڈلز وغیرہ خود تیار کر کے کھلائیں۔ اس کے علاوہ سبزیوں اور پھلوں کے استعمال کو یقینی بنائیں اور بچوں کو اس کی عادت ڈالیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

معصوم زہرا

کہتے ہیں تندرستی ہزار نعمت ہے اور صحت مند رہنے کے لیے اچھی غذا، بھرپور خوراک اور ورزش لازمی ہے۔ اب مسئلہ یہاں پیدا ہوتا ہے کہ آخر غذائیت سے بھر پور خوراک ہے کیا؟ بہت سے لوگ غذائیت سے بھرپور خوراک کا مطلب مرغن اور مرچ مصالحہ دار کھانوں کو تسلیم کرتے ہیں اور گوشت وانڈے کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہوتی ہے کہ اس سے انہیں غذائیت سے بھر پور نہ صرف خوش ذائقہ کھانہ حاصل ہوتا ہے بلکہ اس میں چٹخارہ پن اور رنگ و روغن کی خوراک کا لطف بھی ملتا ہے۔ لیکن یہ فکر غلط ہے اور صحت مند رہنے کے اصول کے خلاف بھی۔ اس لئے یہ خیال کو ذہن سے دور کر دینا چاہیے کہ گوشت، انڈے، مصالحے دار مرغن کھانے میں غذائیت پائی جاتی ہے۔ بلکہ بہتر صحت کے لئے ضروری ہے کہ غذا میں ہر چیز کا توازن رکھ کر تیار کردہ صاف ستھری اور سادہ غذائیں، زیادہ بہتر اور فائدہ مند ہیں۔

خواتین کے لیے بچوں کی صحت کا خیال رکھنا ایک چیلنج

یہ بات واضح اورعیاں ہے کہ زیادہ تیل، مرچ ، اور مصالحہ کا استعمال تو ہم اپنے ذائقہ کے لئے کثرت سے کرنے لگتے ہیں جو ہمارے نظام ہاضمہ کو دھیرے دھیرے متاثر کرتے ہیں اور بعد میں اس کے نقصانات برآمد ہوتے ہیں۔ اسی طرح آج کی ہماری طرز زندگی میں کھانے پینے کا اسٹائل تبدیل ہو گیا ہے۔ آج گھر کے باہر جاکر کھانے کا چلن زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔ جنک فوڈ کا بہت زیادہ استعمال بھی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ طبی ماہرین اور محققین اس حوالے سے لوگوں کو آگاہی دیتے رہے ہیں اور ان سے پیدا ہونے والی خطرناک بیماریوں کے بارے میں مختلف رپورٹیں ہم پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں۔

تصور کریں کہ دسترخوان مختلف قسم کے لذیذ کھانوں سے سجا ہو اور اس کی خوشبو آپ کو دسترخوان کی طرف کھنچ رہی ہو۔ چٹخاروں سے بھرپور ضیافت کے سامان، نہاری، مرغ، بریانی، پیزا یا برگر ہو تو ظاہر ہے دل للچائے گا۔ دوسری طرف ایک ایسا دسترخوان ہو جس پر صرف سبزیاں، دالیں ہوں تو اس جانب رغبت کم ہوگی۔

جنک فوڈ میں زیادہ چکنائی اور مٹھاس والی اشیاء شامل ہیں، جیسے چپس، پاپڑ، برگر، فرنچ فرائز اور ٹافی، چیونگ گم، چاکلیٹ، آئس کریم بھی ہماری صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

خواتین کے لیے بچوں کی صحت کا خیال رکھنا ایک چیلنج

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جنک فوڈ کی وجہ سے مٹاپا، دل کے امراض سمیت مختلف ذہنی و جسمانی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں اور اس حوالے سے آگاہی اور شعور بیدار کرنے کی ضرورت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی لوگوں کو صاف ستھری اور غذائیت سے بھرپور خوراک کے استعمال کے لیے آمادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے بچے اور نوجوانوں کو توانائی سے بھرپور اور متوازن غذا کے استعمال کی طرف راغب کرنا ضروری ہے، لیکن دیکھا گیا ہے کہ والدین ہی بچوں کو روغنی اور مسالے دار کھانوں اور فاسٹ فوڈ کا عادی بنا رہے ہیں جس سے ان میں معدہ کے امراض اور دیگر خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں۔

کہتے ہیں کہ بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی جس بات کی عادت ڈالی جائے تو وہ پختہ ہوجاتی ہے۔ ایک ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کو صحت افزا غذا دے اور کم عمری میں اسے جنک فوڈ کا عادی نہ بننے دے۔ مائیں اگر تھوڑی توجہ دیں اور بچوں کے کھانے پینے کی اشیا کی تیاری کے لیے وقت نکالیں تو ان کے بچے چپس، پاپڑ، ٹافی وغیرہ سے بچ سکتے ہیں اور کئی امراض سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔

اسکول جانے والے بچوں کو جنک فوڈ اور کھانے کی غیرمعیاری اشیا کے استعمال سے بچانا اتنا آسان نہیں ہوتا جس کی بنیادی وجہ ماحول ہے۔ مثلاً چند اسکول ہی ایسے ہوتے ہیں جہاں جنک فوڈ کی اجازت نہیں ہوتی مگر ٹافی، ببل گم اور چوئنگ گم جیسی چیزوں پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ تاہم چند اصول بنائے جاسکتے ہیں جس کے تحت بچوں کو جنک فوڈ کی عادت سے بچایا جاسکتا ہے۔اس لئے ان باتوں کا لحاظ رکھا جانا لازمی ہے۔

اسکولوں کو والدین کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ اپنے بچوں کو گھر کا بنا ہوا کھانا لنچ کے طور پر دیں اور باہر کی تیار کردہ ڈبہ بند مصنوعات ہرگز ان کے لنچ باکس میں نہ رکھیں۔ آج بچوں کے لنچ باکس میں میگی، چاؤمین، برگر اور پیزا وغیرہ خوب دیئے جاتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے نو نہالوں کو ایسے کھانے نہ دیں جو ان کی صحت اور کھانے کے ذوق دونوں کو خراب کر دے۔ آج لنچ باکس میں چپس اور بسکٹ اور بریڈ وغیرہ بھی کثرت سے دیئے جانے لگے ہیں۔ جو بچوں کی صحت کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ گرچہ اس کے لئے ہماری سستی زیادہ کار فرما ہو تی ہے۔ اس جانب ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسکول میں اس طرح کے کھانوں پر مکمل پابندی عائد ہو۔

جو والدین بچوں کو گھر کا بنا ہوا کھانا لنچ میں نہ دیں۔ ان پر جرمانہ عائد کیا جائے اور اس حوالے سے کوئی رعایت نہ برتی جائے۔ والدین کو داخلے کے وقت اس بات سے تحریری طور پر آگاہ کر دیا جائے کہ اسکول میں اس سلسلے میں سختی برتی جاتی ہے۔ چٹ پٹے اور مزے دار چیز کھانے کا ہرکسی کو دل چاہتا ہے۔ اس لیے آپ بچوں کو گھر میں بھی فرنچ فرائز، برگر اور مختلف چیزیں بناکر دے سکتی ہیں، لیکن روزانہ بچوں کو تلی ہوئی اشیا نہ دیں بلکہ اس کے لیے دن مقرر کر لیں۔ اپنے بچوں کو جنک فوڈز کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ یہ کام اسکول اساتذہ بھی کر سکتے ہیں اور اس کے لیے ماہ، دو ماہ بعد آگاہی کلاس لی جاسکتی ہے۔ اس دوران بچوں کو غیرمعیاری اور تلی ہوئی اشیایا جنک فوڈ سے لاحق ہونے والی بیماریوں سے آگاہی دی جائے اور بتایا جائے کس طرح ان کے استعمال سے ان کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔

خواتین کے لیے بچوں کی صحت کا خیال رکھنا ایک چیلنج

والدین اپنے بچوں کو کبھی کبھار جیسے دو ماہ میں ایک بار کسی معیاری جگہ سے آئس کریم، برگر یا پیزا کھلا سکتے ہیں۔ اسی طرح دیگر ڈبہ بند اشیا بھی دی جاسکتی ہیں، لیکن اس میں اعتدال پر زور دینا ہو گا اور دیگر احتیاطیں بھی پیشِ نظر رکھنی ہوں گی۔ جیسے ٹھیلے سے اور لوکل برانڈ کی کوئی چیز نہ خریدی جائے بلکہ کسی معروف اور معیاری کمپنی کی تیار کردہ مصنوعات خریدی جاسکتی ہیں۔

آج جہاں ذرائع ابلاغ اپنے کو بہت ہی طاقت ور انداز میں پیش کررہا ہے۔ وہیں یہ بچوں کو ذہنی طور پر پرتشدد بنا رہا ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کا استعمال مثبت کاموں کے لئے کیا جانا چاہئے۔ بچوں کو صحیح غذا کے انتخاب کے لئے سوشل میڈیا کا دور ہے اور اس لیے بچوں کا رجحان بھی اس جانب زیادہ ہے، بچوں کو جنک فوڈ کے نقصانات سے آگاہ کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا بھی لیا جاسکتا ہے۔ بچوں کو ایسی ویڈیوز دکھائی جائیں جس سے جنک فوڈ کے نقصانات جبکہ پھل اور سبزیوں کی افادیت ان پر واضح ہو۔ آج کل چھوٹے بچے بھی ہر وقت موبائل فون اور ٹیلی ویژن پر چپکے ہوتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آج ہم اپنی مصروفیات کے باعث ان پر زیادہ توجہ نہیں دیتے اور بچوں کی توجہ اپنی جانب سے ہٹا کر انھیں ٹیلی ویژن، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ یا پھر موبائل فون پر یوٹیوب اور دوسری ویب سائٹوں پر ویڈیو لگا کر بٹھا دیتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے سے بچوں میں ہم ایک غلط عادت کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ اس لئے بچوں کو فضولیات سے بچانا چاہیے۔ کیونکہ وہ ان ذرائع پر مثبت چیزیں کم اور منفی چیزوں کو زیادہ دکھایا جاتا ہے۔ یہاں بھی جو ویڈیوز دیکھائے جاتے ہیں ان میں بھی فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ کو زیادہ کھاتے ہو ئے دکھایا جاتا ہے، اس لئے لازمی ہے کہ اس سے بچوں کو دور رکھیں۔

خواتین کے لیے بچوں کی صحت کا خیال رکھنا ایک چیلنج

بچوں میں باہر کی بنی ہوئی غیر معیاری مصنوعات یا تلی ہوئی غذائیں کھانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنے کے ساتھ ان کو یہ بتانا ضروری ہے کہ صحت بخش، سادہ اور گھر پر تیار کردہ کھانے کس طرح جنک فوڈ اور باہر کے کھانوں سے بہتر ہیں۔ اگر بچے فاسٹ فوڈ کا مطالبہ کریں تو گھر ہی میں برگر، آلو کے چپس اور نوڈلز وغیرہ مائیں خود تیار کر کے کھلائیں۔ اس کے علاوہ سبزیوں اور پھلوں کے استعمال کو یقینی بنائیں اور بچوں کو اس کی عادت ڈالیں۔

Published: 10 Mar 2019, 7:09 PM