ویڈیو: نظریات کی لڑائی انتخابی لڑائی سے بہت بڑی ہے

کانگریس صدر راہل گاندھی نے پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہو کر ایک بڑی مثال پیش کی, اب دیکھنا ہے کہ ہندوستان کی سب سے بڑی اور پرانی سیاسی پارٹی اپنے صدر کے اس جرأت مندانہ قدم سے کس طرح فائدہ اٹھاتی ہے۔

قومی آوازبیورو

آ ج کے دور میں کوئی سیاست داں اگر جواب دہی کی بات کرتا ہے تو یقین نہیں آتا۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے ایسا کیا اور پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہو کر ایک بڑی مثال پیش کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستان کی سب سے بڑی اور پرانی سیاسی پارٹی اپنے صدر کے اس جرأت مندانہ قدم سے کس طرح فائدہ اٹھاتی ہے۔ راہل گاندھی نے استعفی دے کر صر ف اپنی پارٹی کے رہنماؤں کے لئے کوئی سیدھا پیغام نہیں دیا ہے بلکہ ان کا پیغام ہندوستان کے جملہ سیاست دانوں کے لئے ہے۔ یہ پیغام تمام ان لوگوں کے لئے ہے جن کو اگر کوئی عہدہ مل جاتا ہے تو وہ اس عہدے کو چھوڑنے کی بات تو دور ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔

گاندھی خاندان کی مخالفت کرنے والوں کے لئے بھی پیغام ہے کہ ان کے لئے اقتدار اور عہدہ ان کے نظریہ کے سامنے بہت چھوٹی چیزیں ہیں۔ راہل گاندھی اپنے خاندان میں پہلے نہیں ہیں جس نے اس جرأت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس سے قبل ان کی والدہ سونیا گاندھی نے اپنے شوہر کے انتقال کے بعد تمام دباؤ کے با وجود پارٹی کی صدارت اپنے ہاتھوں میں نہیں لی تھی۔ جب ان کی قیادت میں سال 2004 میں کانگریس عام انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی تھی، تب بھی انہوں نے تمام دباؤ کے با وجود وزارت عظمیٰ کا عہدہ خود نہ لے کر پارٹی کے سینئر رہنما منموہن سنگھ کو سونپ دیا تھا۔

سونیا گاندھی نے اپنے عمل سے جو مثال پیش کی تھی اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کے فرزند راہل گاندھی نے پارٹی کی شکست کی ذمہ داری قبول کرنے میں کوئی وقت نہیں لگایا اور نہ ہی دوسری پارٹیوں کی طرح کوئی ڈرامہ بازی کی۔ کچھ لوگ ان کے اس فیصلہ کے لئے بھی تنقید کریں گے کیونکہ ایسے لوگوں نے سونیا گاندھی کی بھی تنقید کی تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے جو پرینکا گاندھی نے کہی ہے کہ جو راہل گاندھی نے کیا ہے ایسا کرنے کی ہمت کچھ ہی لوگ کر سکتے ہیں۔

راہل گاندھی نے ہندوستانی سیاسی کلچر میں ایک نئی شروعات کی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی عہدیداران اور کارکنان اس موقع کا کتنا فائدہ اٹھا تے ہیں، اگر انہوں نے اب بھی اپنے اور اپنے اہل خانہ کے مفادات کو پارٹی کے مفادات کے اوپر رکھا تو وہ دن دور نہیں جب ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہوگا، یہاں تک کے برسر اقتدار جماعت بھی نہیں۔ راہل گاندھی کے اس قدم کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے اور ان کا یہ قدم اس بات پر مہر لگاتا ہے کہ ان کی زندگی میں نظریہ زیادہ اہم ہے عہدہ اور اقتدار نہیں۔ نظریاتی لڑائی انتخابی لڑائی سے بہت بڑی ہے۔

Published: 4 Jul 2019, 7:10 PM