ویڈیو: سعودی تِیل تنصیبات پر ڈرون حملہ، جنگ کے دہانے پر خلیج

امریکہ کا جہاں کہنا ہے کہ اس حملہ کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے وہیں ایران نے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ غنیمت یہ ہے کہ کشیدگی کے باوجود سعودی عرب نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

ویڈیو گریب
ویڈیو گریب

عمران خان

سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ہوئے ڈرون حملہ کے بعد سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ امریکہ، سعودی عرب اور ایران کی جانب سے ہر روز کوئی نہ کوئی نیا بیان جاری ہو رہا ہے اور خلیج کی جنگ دہانے پر نظر آ رہی ہے۔

امریکہ کا جہاں کہنا ہے کہ اس حملہ کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے وہیں ایران نے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ غنیمت یہ ہے کہ کشیدگی کے باوجود سعودی عرب نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور ابھی تک کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا ہے جس سے جنگ بھڑک اٹھے۔ حالانکہ سعودی عرب نے یہ ضرور کہا ہے کہ تیل تنصیبات پر ہونے والے حملہ میں ایرانی ساختہ ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔

موجودہ صورت حال 14 ستمبرکو اس وقت پیدا ہوئی جب سعودی عرب کی تنصیبات پر ڈرون سے حملہ کیا گیا تھا۔ سعودی عرب دراصل حوثی باغیوں کے خلاف جنگ میں یمن کو فضائی حدود میں مدد مہیا کرا رہا ہے جس کی وجہ سے شروع میں سمجھا جا رہا تھا کی یہ حملہ حوثی باغیوں نے کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے کی خبریں بھی گشت کرنے لگیں۔ تاہم امریکہ مسلسل اس حملہ کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہونے کی بات کہہ رہا ہے۔ وہیں ایران نے امریکہ کے تمام الزامات کی تردید کر تے ہوئے حملے میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

دریں اثنا امریکہ کے سکریٹری آف اسٹیٹ اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور دنیا میں ایک نئی طرح کی صف بندی نظر آئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حوثی باغیوں پر دباؤ آیا اور انہوں نے سعودی سرزمین پر اپنے حملہ ترک کر دینے کا اعلان کر دیا۔ حوثی باغيوں کی سياسی کونسل کے سربراہ مہدی المشعت نے اپنی تقرير ميں کہا کہ وہ اميد کرتے ہيں کہ ان کے اس اقدام کے رد عمل سے کشيدگی ميں کمی آئے گی۔

ادھر، سعودی عرب کی قومی تیل کمپنی ’آرامکو‘ کے چیف ایگزیکٹو امین الناصر نے کمپنی کے ملازمین کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔

پوری دنیا بالخصوص امت مسلمہ کی نظریں اس وقت سعودی عرب اور ایران پر مرکوز ہیں۔ ان دونوں ممالک سے یہ اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی جنگ کی زمین تیار نہ ہونے دیں اور خلیج کو کشیدگی کی اس صورت حال سے باہر نکالیں۔

Published: 22 Sep 2019, 7:10 PM