ویڈیو: جیت گئے تو ترنگا مبارک، ہار گئے تو کفن مبارک... ارم عثمانی، دیوبند

یہ پوچھنے پر کہ کیا ڈر نہیں لگتا، ارم عثمانی نے کہا کہ ’’جب بات وجود پر آ جاتی ہے تو قدموں کو پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا، ہمیں کوئی خوف نہیں ہے۔ اگر جیت گئے تو ترنگا مبارک اور ہار گئے تو کفن مبارک‘‘

user

آس محمد کیف

سہارنپور ضلع کے دیوبند شہر میں عیدگاہ میدان پر بڑی تعداد میں خواتین دہلی کے شاہین باغ کی طرز پر سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دھرنا دے رہی ہیں۔ دار العلوم کی وجہ سے دیوبند شہر دنیا بھر میں مشہور ہے، لہذا یہاں خواتین اگر بڑے پیمانے پر دھرنا دیتی ہیں تو وہ اہمیت کا حامل ہے۔

پولیس انتظامیہ کی جانب سے اس دھرنے کو ختم کرنے کے لئے تمام کوششیں کی جا چکی ہیں لیکن یہ بہادر خواتین پیچھے نہیں ہٹ رہیں۔ دھرنے کے بارویں دن دیوبند کے کچھ مقامی لیڈران خواتین سے تحریک واپس لینے کا مطالبہ لے کر پہنچے تھے لیکن خواتین نے ان پر چوڑیوں کی بارش کر دی گئی۔

عیدگاہ میدان کے مظاہرہ کا انتظام دیکھ رہیں ارم عثمانی کہتی ہیں، ’’مقامی لیڈران کا کہنا تھا کہ حکومت نے یقین دہانی کرا دی ہے کہ این آر سی پر ابھی تک بات نہیں ہوئی اس لئے ہم دھرنا ختم کر دیں لیکن ہم نہ ان لیڈران اور نہ ہی حکومت کی باتوں سے مطمئن ہیں۔ ہمارے کچھ سوالات تھے جن کا جواب نہیں ملا تو ہم دھرنا کیوں ختم کر دیں! پھر ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ لیڈران انظامیہ کی اشاروے پر ہمیں سمجھانے آئے ہیں۔ اس سے خواتین ناراض ہو گئیں اور لیڈران کے اووپر اپنی اپنی چوڑیاں نکال کر اچھال دیں۔‘‘

ارم عثمانی نے مزید کہا کہ ان کا لیڈران کو یہی پیغام ہے کہ ’’اگر وہ ہمارا ساتھ نہیں دے سکتے تو نہ دیں، کم از کم ہماری راہ میں مزید دشواریاں تو پیدا نہ کریں۔‘‘ یہ پوچھے جانے پر کہ کہا انہیں ڈر نہیں لگتا، ارم نے کہا، ’’جب بات وجود پر آ جاتی ہے تو قدموں کو پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ ہمیں کوئی خوف نہیں ہے، ہم اگر جیت گئے تو ترنگا مبارک، نہیں تو کفن مبارک۔‘‘

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ علینہ نامی لڑکی پیاری آواز میں ’اے میری زمیں افسوس مجھے..‘ گا رہی ہے اور اس کی درد بھری آواز سن کر ہزاروں خواتین داد دے رہی ہیں

دیوبند کا دھرنا 26 جنوری سے شروع ہوا تھا اور اس کے بعد تین دن تک جاری رہنے والا موسم انتہائی بے رحمی رہا۔ تیز بارش اور سردی نے بھی ان خوابوں کو متاثر نہیں کیا۔ ٹینٹ سے پانی ٹپکنے لگا اور بیشتر خواتین بیمار ہو گئیں۔ دھرنے کو اب 18 دن ہو چکے ہیں اور مظاہرین کی تعداد ہر روز بڑھ رہی ہے۔