ویڈیو: مہاراشٹر کا سیاسی بھونچال اور آنسو بہاتی جمہوریت

سیاسی شہ اور مات میں جب ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت اور جوڑ توڑ سر عام کی جانے لگے تو جمہوریت ایک طرف کھڑی ہو کر آنسو بہانے کے سوا اور کر بھی کیا سکتی ہے!

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

عمران خان میواتی

مہاراشٹر کے گونر بھگت سنگھ کوشیاری نے گزشتہ روز اچانک دیویندر فڑنویس کو وزیر اعلیٰ اور این سی پی کے لیڈر اجیت پوار کو عہدے کا حلف دلوا دیا جس نے صوبہ کی سیاست میں ایک بھونچال لا دیا۔ اس کے بعد ریاست میں جو گھمسان چل رہا ہے اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کی سیاست کتنی غیر متوقع ہے ۔ ایک ہی رات میں کسی کی ہار جیت میں بدل گئی اور دن چڑھتے چڑھتے جیتے ہوئے خیمہ پر ہار کی مایوسی نظر آنے لگی۔ حالانکہ شہ اور مات کا یہ کھیل ابھی تک جاری ہے اور اب یہ بات سپریم کورٹ کی دہلیز تک پہنچ گئی ہے۔

مہاراشٹر میں ایک مہینے پہلے انتخابات ہوئے اور نتائج کا اعلان ہوا جس میں کسی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ بی جے پی اور شیو سینا نے اتحاد میں انتخابات لڑا تھا لیکن شیو سینا کا مطالبہ تھا کہ وزیر اعلیٰ ان کی جماعت کا ہی بنے گا۔ ادھو ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے ان سے واعدہ کیا تھا لیکن اب وعدہ خلافی کر رہی ہے۔ جبکہ بی جے پی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ تو دیویندر فڑنویس ہی رہیں گے اور انہوں نے شیو سینا سے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا۔

بعد میں شیو سینا نے این سی پی اور کانگریس کی مدد سے حکومت سازی کی کوشش کی اور جمعہ کی شب سبھی اس بات کو لے کر مطمئن تھے کہ اب شیوسینا-این سی پی اور کانگریس کی حکومت بہت جلد بن جائے گی، لیکن ہفتہ کی صبح کچھ لوگ نیند سے بیدار بھی نہیں ہوئے ہوں گے کہ بی جے پی لیڈر دیویندر فڑنویس نے وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لے لیا۔

مہاراشٹر گونر کے فڑنویس کو حکومت سازی کا موقع دینے اور باقاعدہ حلف برداری کرانے کے خلاف شیو سینا ، این سی پی اور کانگریس کی طرف سے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کر دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے تمام فریقین کے دلائل کو سننے کےبعد مہاراشٹر گورنر سے تمام دستاویزات طلب کر لئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں اب اس معاملہ کی سماعت کل یعنی پیر کے روز ہوگی ۔ اب عدلت سے کیا فیصلہ آتا ہے اس پر سبھی کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے مہاراشٹر کے گونر بھگت سنگھ کوشیاری پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مرکزی حکومت کے اشارے پر کام کر رہے ہیں، ان کی نیت صاف نہیں ہے اور ان کا اقدام جمہوریت کے قتل کے مترادف ہے۔

مہاراشٹر کی موجودہ صورت حال قابل رحم نظرآ رہی ہے کیوں کہ خرید و فروخت کا کھیل پردے کے پیچھے کھیلے جانے کا پورا امکان ہے۔ این سی پی کے جو ارکان اسمبلی بغاوت کر کے اجیت پوار کے خیمہ میں نظر آ رہے تھے اب وہ بھی شرد پوار کے خیمے میں پہنچ چکے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی کی مشکلات بڑھ گئی ہیں کیوں اکثریت کا ہدف فی الحال ان کے لئے ناممکن سا نظر آ رہا ہے۔

قومی آواز کا نظریہ یہ ہے کہ ، اس پورے منظر نامہ میں اگر کوئی بے وقوف نظر آ رہا ہے تو وہ ہے عام آدمی ، جس کو صرف ووٹ دینے کا حق ہے اس کے بعد پانچ سال صرف خاموش تماشائی بنے رہنے کے سواکوئی اور چارہ نہیں رہتا۔ سیاسی شہ اور مات میں جب ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت اور جوڑ توڑ سر عام کی جانے لگے تو جمہوریت ایک طرف کھڑی ہو کر آنسو بہانے کے سوا اور کر بھی کیا سکتی ہے!

next