قومی آواز بلیٹن: یوگی اپنے جھنڈے لگا لیں، مگر بسوں کا استعمال کرنے دیں، پرینکا؛ دہلی-گڑگاؤں بارڈر پر ہنگامہ

آج کی کچھ اہم خبریں: آپ بی جے پی کے جھنڈے لگائیں، مگر غریب مزدوروں کے لئے ان بسوں کو استعمال کر لیں، پرینکا گاندھی کی اپیل؛ آمد و رفت سے منع کرنے پر دہلی-گڑگاؤں بارڈر پر لوگوں کا ہنگامہ

user

قومی آوازبیورو

آپ بی جے پی کے جھنڈے لگائیں، مگر غریب مزدوروں کے لئے ان بسوں کو استعمال کر لیں، پرینکا گاندھی کی اپیل

کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اتر پردیش کی بی جے پی حکومت سے اپیل کی ہے کہ یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا یہ وقت ملک کے ان غریب مزدوروں کی مدد کرنے کا ہے، ان کی خدمت کرنے کا ہے، ان کو بہ حفاظت ان کے گھر پہنچانےکا ہے۔ اتر پردیش حکومت کے ساتھ ہوئے خط و کتابت کا ذکر کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ کانگریس نے بسیں فراہم کر دی ہیں ان کا استعمال مزدوروں کو ان کے گھر پہنچانے کے لئے کیجیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ان کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تو کریئے، اس پر بی جے پی کے جھنڈے، بی جے پی کے اسٹیکر لگانا چاہتے ہیں تو لگایئے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے بس لوگوں کی تکلیف دور کیجیے۔ پرینکا گاندھی نے اتر پردیش حکومت سے کہا کہ اگر وہ آج چار بجے تک ان بسوں کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو استعمال کرلیں، نہیں تو کوئی بات نہیں تین دن سے کھڑی ان بسوں کو ہم واپس بھیج دیں گے۔ کانگریس پارٹی مہاجر مزدوروں کے ساتھ اس دکھ کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

آمد و رفت سے منع کرنے پر دہلی-گڑگاؤں بارڈر پر لوگوں کا ہنگامہ

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن میں کئی جگہ پر نرمی ضرور ہے، لیکن کچھ مقامات پر سختی برقرار ہے۔ اس درمیان لوگوں کو کافی دقتوں کا سامنا ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق دہلی-گروگرام یعنی دہلی گڑگاؤں بارڈر پر لوگوں اور پولس کے درمیان ٹکراؤ ہو گیا۔

دراصل گڑگاؤں میں کچھ فیکٹریاں کھل گئی ہیں اور ان میں کام کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد دہلی میں رہتی ہے۔ یہ لوگ کئی روز سے اپنے کام پر جانا چاہتے ہیں لیکن دونوں ریاستوں کے بیچ راستے بند ہونے کی وجہ سے پولیس ان کو نہیں جانے دیتی۔ آ ج بھی یہ لوگ کام کرنے کے لئے نکلے اور جب پولیس نے روکا تو ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہو گئی۔ اس معاملہ میں دہلی اور ہریانہ حکومت کو جلد کوئی راستہ نکالنا چاہیے، کیونکہ لوگ خوفزدہ ہیں کہ اگر وہ اپنے کام پر نہیں جا پائے تو ان کی ملازمت ختم ہو جائے گی۔

امفان طوفان کے دوران اڈیشہ اور بنگال میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش

امفان طوفان تیزی کے ساتھ اڈیشہ اور مغربی بنگال کے ساحلی علاقوں کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔ مغربی بنگال کے دیگھا اور اڈیشہ کے پارادیپ ساحل پر صبح سے ہی زبردست بارش ہو رہی ہے۔ اڈیشہ کے کیندرپاڑا اور بالاسور ضلع کے چاندی پور میں تیز ہوا چلنے کے ساتھ بارش ہو رہی ہے، جب کہ دوسری طرف مغربی بنگال کے مشرقی میدنی پور میں واقع دیگھا میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہائی ٹائیڈ کا نظارہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔

مہاجر مزدوروں کے پیروں میں چھالے دیکھ کر لوگوں کا پگھلا من، پہنائے جوتے-چپل

مہاجر مزدوروں کا اپنی ریاست کی طرف پیدل سفر ہنوز جاری ہے۔ اس درمیان انھیں کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ کئی مقامات پر مقامی لوگ ان کی مدد کے لیے آگے آ رہے ہیں۔ اتر پردیش کے آگرہ آئی ایس بی ٹی بس اسٹینڈ پر مقامی لوگوں نے ننگے پیر چل رہے مزدوروں کے لیے ایک چھوٹی سی مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کے تحت ان مزدوروں کو جوتے-چپل دستیاب کرائے جا رہے ہیں جن کے پیروں میں ننگے پیر چلنے سے چھالے پڑ گئے ہیں۔ جن مزدوروں کے پیروں میں چپل یا جوتے نہیں ہیں، وہ اپنے پیر کا سائز چیک کر کے جوتے لے سکتے ہیں تاکہ آگے کا سفر آسان ہو سکے۔

پوری دنیا میں کورونا متاثرین کی تعداد 50 لاکھ سے تجاوز

  • پوری دنیا میں کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور اس وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3 لاکھ 25 ہزار سے سے زیادہ ہو گئی ہے۔
  • امریکہ میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 93 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے اور متاثرین کی تعداد ساڑھے 15 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
  • روس میں کورونا متاثرین کی تعداد 3 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے اور اس وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2972 ہو گئی ہے۔
  • ادھر پرطانیہ میں کورونا متاثرین کی تعداد ڈھائی لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے اور وہاں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 35 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ اٹلی میں کورونا متاثرین کی تعداد 2 لاکھ 26 ہزار سے زیادہ ہے جبکہ وہاں کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد 32 ہزار سے زیادہ ہے۔ فرانس میں کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد 28 ہزار سے زیادہ ہے جبکہ اسپین میں یہ تعداد 27 ہزار سے زیادہ ہے۔

کورونا بحران کی وجہ سے مصری فٹبالر مٹھائی کا ٹھیلا لگانے پر مجبور

کورونا وائرس کی عالمگیر وبا نے معروف مصری فٹبالر کو ٹھیلے پر مٹھائیاں بیچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ عالمگیر وبا کی وجہ سے مصر سے تعلق ر کھنے والے معروف فٹبالر مہروز محمود معاشی طور پر اتنے پریشان ہیں کہ انہیں گلیوں میں سامان فروخت کرنا پڑ رہا ہے۔

مہروز محمود مصر کے بنی سیف کلب کے دفاعی کھلاڑی ہیں اور یہ کلب مصر کا دوسرے نمبر کا کلب ہے لیکن ان فٹبال کلبوں کو بھی کورونا وائرس کی وبا نے بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان دنوں مہروز محمود مصر کی مصروف ترین مارکیٹ میں واقع ایک مٹھائی کی دکان میں مٹھائیاں فروخت کر رہے۔

قومی آواز کے قارئین و ناظرین سے ضروری گزارش، لاک ڈاؤن کے ضوابط کی پابندی ضرور کریں۔ شکریہ