قومی آواز بلیٹن: مودی نے چینی جارحیت کے سامنے خود سپردگی کی؟ راہل؛ کیجریوال-ایل جی پھر مد مقابل

پیش خدمت ہیں آج کی کچھ اہم خبریں: وزیر اعظم نے چینی جارحیت کے سامنے خود سپردگی کی، راہل گاندھی کا الزام؛ کیجریوال حکومت اور ایل جی آمنے سامنے، عام آدمی پارٹی نے ایل جی کے فیصلہ پر اٹھائے سوال

user

قومی آوازبیورو

وزیر اعظم نے چینی جارحیت کے سامنے خود سپردگی کی: راہل گاندھی کا الزام

کانگریس کے سابق صدرراہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر زبردست حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی کا چینی دراندازی پر کل جماعتی میٹنگ میں دیا گیا بیان ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے چینی جارحیت کے سامنے خود سپردگی کردی ہے۔ راہل گاندھی نے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ "وزیر اعظم نے چینی جارحیت کے سامنے ہندوستانی زمین حوالے کردی ہے۔" راہل گاندھی نے پی ایم مودی سے اس سلسلے میں دو تلخ سوال بھی کیے ہیں۔ انھوں نے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ "اگر زمین چینیوں کی تھی تو ہمارے فوجیوں کو کیوں مارا گیا، اور وہ جان باز کہاں مارے گئے۔" اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم مودی کے بیان والی خبر بھی شئیر کی ہے۔ اس خبر میں وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ہماری سرحد میں داخل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کسی نے ہماری چوکی پر قبضہ کیا ہے۔ ادھر پرینکا گاندھی نے بھی ایک طنزیہ ٹوئٹ کیا ہے جس میں گورکھ پانڈے کی نظم کی چار لائنیں تحریر کی ہیں’’راجا بولا رات ہے، رانی بولی رات ہے، منتری بولا رات ہے، سنتری بولا رات ہے، یہ صبح صبح کی بات ہے۔‘‘

کیجریوال حکومت اور ایل جی آمنے سامنے، عام آدمی پارٹی نے ایل جی کے فیصلہ پر اٹھائے سوال

دہلی میں کورونا مریضوں کی تعداد میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے اور ایسے میں جب حکومت کے تمام اداروں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے اس وقت ایک مرتبہ پھر کیجریوال حکومت اور دہلی کے ایل جی آمنے سامنے ہیں۔ دونوں اداروں میں اختلافات اس وقت سامنے آئے جب ایل جی انل بیجل نے کورونا متاثرین کے تعلق سے گھر میں آئیسولیشن کی سہو لت پر پابندی لگا دی اور کہا کہ ہر متاثر مریض کو کم از کم پانچ روز کے لئے کوارنٹائن مرکز میں رہنا پڑے گا۔ عام آدمی پارٹی کی حکومت نے اس فیصلہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی صورت میں دہلی میں 90 ہزار بیڈس کی ضرورت پڑے گی، وہ کہاں سے آئیں گے۔ ادھر دہلی حکومت نے اس فیصلہ پر نظر ثانی کی گزارش کی ہے۔

ای میل کے ذریعہ ووٹنگ ہوئی تو میں ہار سکتا ہوں: ٹرمپ کا گھبراہٹ بھرا بیان

جیسے جیسے صدارتی انتخابات کی تاریخیں قریب آ رہی ہیں ویسے ویسے امریکہ کا سایسی ماحول گرم ہو رہا ہے۔ اس گرم سیاسی ماحول میں صدر ٹرمپ نے واشنگٹن پوسٹ کو دیئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جو بائیڈن، ہیلری کلنٹن سے زیادہ کمزور امیدوار ہیں تاہم ڈیموکریٹس انہیں یعنی ٹرمپ کو شکست دینے کے حوالے سے زیادہ ہی پُر جوش ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق وہ معیشت کی ایک بھرپور بحالی پر یقین رکھتے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ صرف اُس صورت میں شکست سے دوچار ہوں گے اگر انتخابات میں ووٹنگ ای میل کے ذریعے ہوئی۔ اس لیے کہ ایسی صورت میں ڈیموکریٹس کی جانب سے ہیرا پھیری کی توقع ہے۔ اس بیان میں ان کی گھبراہٹ صاف نظر آرہی ہے۔

گانگولی کے بڑے بھائی میں کورونا کی تصدیق

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور بی سی سی آئی کی صدر سورو گانگولی کے گھر میں کورونا نے دستک دے دی ہے۔ خبروں کے مطابق سوربھ گنگولی کے بڑے بھائی سنیح آشیش کی کورونا جانچ کی رپورٹ پازیٹو آئی ہے۔ سنیح آشیش جو بنگال کرکٹ ایسوسیشن کے سیکریٹری ہیں ان کی اہلیہ اور ساس، سسر میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ چاروں کی طبعیت خراب ہوئی تھی اور ان میں کووڈ-19 کی علامتیں نظر آئی تھیں جس کے بعد ان کی جانچ کرائی گئی اور جانچ میں وہ کورونا پازیٹو پائے گئے۔ چاروں ایک پرائیویٹ نرسنگ ہوم میں زیر علاج ہیں۔

اس سال کا پہلا اور طویل ترین سورج گہن کل، مشاہدہ کے لیے ہو جائیے تیار

کل یعنی 21 جون کو اس سال کا پہلا سورج گہن ہونے والا ہے۔ اس گہن کو لے کر سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی کافی پرجوش ہیں۔ یہ دیکھنا سبھی کے لیے دلچسپ ہوتا ہے کہ جب سورج اپنے شباب پر ہو اور پھر زمین پر اس کی روشنی کی جگہ اندھیرا چھانے لگے۔ کبھی یہ اندھیرا جزوی ہوتا ہے، کبھی گہرا بھی ہوتا ہے اور کئی بار سورج گہن دیر تک بھی رہتا ہے۔ اس سال کا پہلا سورج گہن اس معنوں میں کافی اہم ہے کہ یہ طویل ترین ہونے والا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 21 جون کو ہونے والا سورج گہن بے حد لمبا ہوگا اور کئی گھنٹوں تک زمین پر اندھیرا چھایا رہے گا۔

یہاں قابل غور ہے کہ ہر سال 21 جون کو زمین پر سب سے طویل دن اور سب سے چھوٹی رات ہوتی ہے۔ اب اس سال سورج گہن بھی لمبا ہونے والا ہے اور ایک اندازے کے مطابق کہا جاتا ہے کہ تقریباً 6 گھنٹے تک زمین پر سورج گہن کا اثر دیکھنے کو ملے گا۔ ہندوستانی وقت کے مطابق یہ سورج گہن صبح تقریباً 9.15 بجے شروع ہوگا اور دوپہر 3.04 بجے تک ختم ہو جائے گا۔ دوپہر 12.02 بجے گہن اپنے عروج پر ہوگا۔

قومی آواز کے قارئین و ناظرین سے ضروری گزارش، سماجی دوری یعنی سوشل ڈسٹینسنگ پر عمل کریں، شکریہ
    Published: 20 Jun 2020, 8:11 PM