قومی آواز بلیٹن: سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بنا انڈیا؛ کورونا بحران میں ایک اور جھٹکا؛ منی پور کی بی جے پی حکومت کو خطرہ

آج کی کچھ اہم خبریں: کورونا بحران میں ہندوستان کو لگا ایک اور جھٹکا؛ منی پور کی بی جے پی حکومت پر مصیبت کے بادل، ساتھیوں نے چھوڑا ساتھ؛ ہندستان بلا مقابلہ سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب

user

قومی آوازبیورو

کورونا بحران میں ہندوستان کو لگا ایک اور جھٹکا

کورونا بحران کے درمیان ہندوستان کے لیے ایک اور بری خبر سامنے آئی ہے۔ ریٹنگ ایجنسی 'فچ ریٹنگز' نے ہندوستان کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے گروتھ آؤٹ لک یعنی ترقیاتی شرح کے اندازہ کو 'مستحکم' سے کم کرتے ہوئے 'منفی' کر دیا ہے۔ ریٹنگ ایجنسی نے ہندوستان کے لیے پہلے ہی کی طرح ڈیفالٹ ریٹنگ 'بی بی بی' برقرار رکھی ہے۔ یہ ریٹنگ سب سے کم سرمایہ کاری کے گریڈ کے لیے ہے۔ فچ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق کورونا وبا کی وجہ سے ہندوستان کی معیشت پر برا اثر پڑا ہے۔ اس وبا کی وجہ سے موجودہ سال کے لیے ترقیاتی رفتار کمزور ہوئی ہے۔ ایجنسی کے مطابق وبا کی وجہ سے ہندوستان کے سامنے کئی طرح کے چیلنجز سامنے آئے ہیں، مثلاً قرض کا بوجھ بھی بڑھ گیا ہے۔ فچ کے مطابق ہندوستان میں سخت لاک ڈاؤن کی وجہ سے مالی سال 2021 میں معاشی سرگرمی میں 5 فیصد گراوٹ آ سکتی ہے۔ حالانکہ مالی سال 2022 میں یہ بڑھ سکتی ہے۔

منی پور کی بی جے پی حکومت پر مصیبت کے بادل، ساتھیوں نے چھوڑا ساتھ

ایک حیرت انگیز الٹ پھیر کے تحت منی پور کی بی جے پی حکومت کے سامنے مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ پارٹی کے تین اراکین اسمبلی نے بدھ کے روز استعفیٰ دے کر کانگریس کا دامن تھام لیا ہے۔ دوسری جانب حلیف پارٹیوں اور آزاد اراکین اسمبلی سمیت کل 6 دیگر اراکین اسمبلی نے بھی حکومت سے حمایت واپس لے لی ہے۔ راجیہ سبھا کی ایک سیٹ کے لیے 19 جون کو انتخاب سے پہلے بی جے پی حکومت سے کل 9 اراکین اسمبلی کے الگ ہونے سے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔

منی پور میں بی جے پی کی حلیف نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی) نے بی جے پی سے حمایت واپس لے لی ہے۔ حکومت میں شامل این پی پی کے تینوں وزراء کے استعفے دینے کے ساتھ پارٹی کے سبھی چار اراکین اسمبلی نے حکومت کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ اسی طرح ترنمول کے ایک اور ایک آزاد رکن اسمبلی نے بھی حمایت واپس لےلی ہے۔ اس طرح کل 9 اراکین اسمبلی وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کی حکومت کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ واضح رہے 60 رکنی منی پور اسمبلی میں گزشتہ انتخابات میں کانگریس کو سب سے زیادہ 28 نشستیں حاصل ہوئی تھیں اور بی جے پی کو 21 لیکن بی جے پی نے دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت قائم کرلی تھی۔

ہندستان بلا مقابلہ سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب

ہندستان کو جمعرات کے روز 22-2021 کے لئے ایشیاء پیسیفک زمرے سے اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل یعنی یو این ایس سی کا غیر مستقل ممبر منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ آٹھواں موقع ہے جب ہندستان کو یو این ایس سی کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔

ہندوستان نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنا اہم کردار ادا کرے گا۔ واضح رہے اس سے پہلے ہندوستان 1951-1950، 1968-1967، 1973-1972، 1978-1977، 1985-1984، 1992-1991 اور حال ہی میں منموہن سنگھ کی حکومت کے دورمیں 2012-2011 میں آخری مرتبہ کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا تھا۔

فوجیوں کو شہادت کے لیے غیر مسلح کس نے بھیجا: راہل گاندھی کا سوال

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے وادی گلوان میں 20 جوانوں کی شہادت پر کچھ ایسے سوال اٹھائے ہیں جو قابل غور ہیں۔ انھوں نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”چین نے غیر مسلح فوجیوں کا قتل کر کے ایک بہت بڑا جرم کیا ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان بہادر جوانوں کو بغیر اسلحہ کے خطرے کی جانب کس نے بھیجا اور کیوں بھیجا؟“

دوسری جانب کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے چینی اشیاء کے بائیکاٹ پر کہا ہے کہ ہماری ملک کی تمام کمپنیاں اہل ہیں اس لئے حکومت کو مضبوط موقف اختیار کرنا چاہیے۔ پرینکا گاندھی نے ٹوئٹ کرکے کہا ہے کہ ’’ہمارے 20 جوان شہید ہو گئے۔ ایسے میں مرکزی حکومت کو مضبوط پیغام دینا چاہیے۔ لیکن حکومت نے دہلی۔میرٹھ سیمی ہائی اسپیڈ ریل کاریڈور کا ٹھیکہ چینی کمپنی کو سونپ کر گھٹنے ٹیکنے جیسی حکمت عملی اپنائی ہے۔ تمام ہندوستانی کمپنیاں بھی اس کاریڈور کو بنانے کے قابل ہیں۔

کورونا پازیٹو ستیندر جین کی وزارتوں کی اضافی ذمہ داری منیش سسودیا کے سپرد

دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے پیش نظر ان کی وزارتوں کا کام فی الحال نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کو سونپ دیا گیا ہے۔ ستیندر جین کو تیز بخار اور سانس لینے میں تکلیف کی شکایت پر پیر کی رات راجیو گاندھی سپر اسپیشیلٹی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جہاں بدھ کے روز ان کی جانچ میں کورونا انفیکشن کی تصدیق ہوگئی۔ اس سے قبل منگل کے روز ستیندر جین کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔ ستیندر جین چونکہ اسپتال میں ہیں اس لئے ان کی وزارت صحت سمیت ان کے ماتحت دیگر وزارتوں کا چارج منیش سسودیا کو سونپا گیا ہے۔ منیش سسودیا ان وزارتوں کی اضافی ذمہ داری سنبھالیں گے۔

قومی آواز کی قارئین و نظرین سے ضروری گزارش، اتحاد ملک کی طاقت ہے، ملک کو طاقتور بنائیں، شکریہ