قومی آواز بلیٹن: دہلی میں کورونا کیسز کی خوفناک رفتار؛ ایک ہی کام کرنا اور الگ نتیجے کی امید کرنا بے وقوفی، راہل

آج کی کچھ اہم خبریں: دہلی میں کورونا کے اعداد و شمار خوفناک، کیسز کی ممبئی سے دوگنی رفتار؛ راہل گاندھی نے مرکز پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ بار بار ایک ہی کام کر کے الگ نتیجے کی امید کرنا وقوفی ہے

user

قومی آوازبیورو

دہلی میں کورونا کے اعداد و شمار خوفناک، ممبئی سے دوگنی رفتار میں بڑھے کیس

ہندوستان میں کورونا متاثرین کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے اور وہ متاثرین کی تعداد میں دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے ۔ دہلی میں اس انفیکشن نے بھیانک رفتار اختیار کر لی ہے۔ جمعہ کو کورونا وائرس نے سارے ریکارڈ توڑ دیے ۔ اعداد و شمار کے مطابق جمعہ کو دہلی میں 2137 لوگ کورونا پازیٹو پائے گئے۔ اس کے ساتھ دہلی میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 36 ہزار کو پار کر چکی ہے۔ گزشتہ 15 روز کے اعداد و شمار کے مطابق دہلی اور چنئی میں ممبئی کے مقابلے دوگنی رفتار سے کورونا کے معاملے سامنے آئے ہیں۔

بار بار ایک ہی کام کرنا اور الگ نتیجے کی امید کرنا ایک بے وقوفی ہے: راہل گاندھی کا مرکز پر الزام

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کورونا انفیکشن کے مسلسل بڑھ رہے معاملوں کے سلسلے میں کسی نامعلوم مفکر کی مثال کے ساتھ ہفتے کو مودی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ بار بار ایک ہی طریقہ استعمال کر کے اس کے الگ الگ نتیجوں کی امید کرنا بےوقوفی ہے۔ دراصل راہل گاندھی نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ "بار بار ایک ہی کام کرنا اور اس میں بھی الگ نتیجے کی امید کرنا ایک بے وقوفی ہی ہے: نامعلوم۔"اس کے ساتھ ہی راہل گاندھی نے لاک ڈاؤن کے چاروں مراحل میں کورونا کے مسلسل بڑھتے کیسز کو گراف کی شکل میں پیش کیا ہے۔ اس گراف سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ہر لاک ڈاؤن میں متاثرین کی تعداد مسلسل بڑھی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی نے کورونا بحران کے سلسلے میں مودی حکومت کو جمعہ کے روز بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے ایک ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ "ہندوستان ایک غلط دوڑ جیتنے کے راستے پر بڑھ رہا ہے۔یہ تکبر اور نا اہلیت کے خطرناک مرکب کے نتیجے میں پیدا ہوا ایک خطرناک سانحہ ہے۔"

متحدہ عرب امارات کورونا سے نمٹنے والے دنیا کے 11 بہترین ممالک میں شامل

معروف امریکی جریدے’ ٹائم‘ نے گذشتہ روز جمعہ کو اپنی ویب سائٹ پر ایک فہرست جاری کی ہے۔ یہ فہرست ان 11 ممالک کی ہے جنہوں نے اب تک دنیا بھر میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بہترین اقدامات اور طریقہ کار اختیار کئے ہیں ۔ فہرست میں ایک عرب ملک کا بھی نام شامل ہےجس میں کورونا کے سبب 40507 افراد متاثر ہوئے جب کہ اموات کی تعداد 284 سے آگے نہ بڑھ سکی۔ جریدے کی رپورٹ کے مطابق یہ ملک متحدہ عرب امارات ہے جہاں کورونا کے پہلے کیس کا انکشاف 29 جنوری کو ہوا تھا۔ بعد ازاں امارات دشوار گزار بیرونی حالات کے بیچ اس وبائی مرض کے انسداد میں کامیاب رہا۔فہرست میں متحدہ عرب امارات کا 11 واں نمبر ہے۔ اس کے علاوہ دیگر ممالک کے نام جرمنی، یونان، جنوبی کوریا، تائیوان، سنگاپور، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، آئس لینڈ، ارجنٹائن اور کینیڈا ہیں۔

یورپ میں کورونا وبا کی دوسری لہر کا انتباہ، ’امریکہ کو کوئی خوف نہیں!‘

دنیا کے بہت سے ممالک نے کئی مہینوں سے عاید پابندیوں میں نرمی کی ہے۔ کیفے، سیاحتی مراکز اور متعدد شعبوں کی بندشوں کے بعد دوبارہ سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری جانب یوروپی یونین کے طبی ماہرین نے کورونا کی دوسری لہر کے امکان پر خبردار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یورپ میں لاک ڈائون اور سماجی دوری بڑھانے کے اقدامات کو دوبارہ نافذ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ امکان ہے کہ پابندیوں میں بتدریج نرمی اور لوگوں کی ایک دوسرے کے ساتھ قربت وبا کو دوبارہ پھیلا سکتی ہے۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے گذشتہ پیر کو اعلان کیا تھا کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی صورتحال بدتر ہوتی جارہی ہے۔ عالمی ادارے نے کورونا وبا کے معاملے میں لا پرواہی برتنے کے سنگین نتائج پر بھی متنبہ کیا تھا۔دوسری جانب وہائٹ ہاؤس کے اقتصادی مشیر لیری کوڈلو کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کورونا کی دوسری لہر کے حوالے سے کوئی تشویش محسوس نہیں کر رہی۔

ہندوستانی مردوں کے مقابلے خواتین میں کورونا سے موت کا خطرہ زیادہ

ہندوستان میں بڑھتے کورونا انفیکشن کے درمیان ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کورونا انفیکشن سے موت کا خطرہ ہندوستانی مردوں کے مقابلے ہندوستانی خواتین میں زیادہ ہے۔ یہ تحقیق 20 مئی تک کے اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے جس میں انفیکشن کی شکار خواتین میں موت کا فیصد 3.3 رہا ہے جب کہ مردوں میں یہ فیصد 2.9 ہے۔ تحقیق پر مبنی یہ رپورٹ ریسرچ گلوبل ہیلتھ سائنس جرنل میں شائع کی گئی ہے ۔ محققین کا کہنا ہے کہ کورونا انفیکشن سے بچاؤ کے لیے خواتین کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔میڈیا ذرائع کے مطابق یہ تحقیق انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک گروتھ کے پاپولیشن ریسرچ سنٹر نے ہندوستان اور امریکہ کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ مل کر مکمل کی ہے۔ اس تحقیق میں جہاں اموات کے معاملے میں ہندوستانی خواتین پر زیادہ خطرہ بتایا گیا ہے، وہیں کورونا انفیکشن کے معاملے میں ہندوستانی مردوں پر خواتین سے کہیں زیادہ خطرے کی بات کہی گئی ہے۔

قومی آوا ز کے قارئین و سامعین سے ضروری گزارش ، انتہائی ضروری ہو تو ہی گھر سے نکلیں، شکریہ