قومی آواز بلیٹن: ٹی ایم سی رکن اسمبلی کی کورونا سے موت؛ مودی حکومت میں کورونا اور تیل قیمتیں ’ان لاک‘، راہل

آج کی کچھ اہم خبریں: ترنمول کانگریس کے رکن اسمبلی کی کورونا سے موت؛ مودی حکومت نے کورونا اور پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں کو ‘اَن لاک’ کر دیا، راہل گاندھی، ریاست ‘کیرالہ’ کو اقوام متحدہ نے اعزاز بخشا

user

قومی آوازبیورو

ترنمول کانگریس کے رکن اسمبلی کی کورونا سے موت

مغربی بنگال میں برسراقتدار ترنمول کانگریس کے رکن اسمبلی تمونش گھوش کا بدھ کے روز کورونا وائرس کے سبب انتقال ہوگیا، 60 سالہ گھوش گزشتہ مہینے کورونا پازیٹو پائے گئے تھے۔ کورونا پازیٹو پائے جانے کے بعد سے ہی وہ اسپتال میں زیر علاج تھے۔ پھلٹا سے تین بار رکن اسمبلی منتخب ہونے والے گھوش مغربی بنگال میں برسراقتدار ترنمول کانگریس کے خزانچی بھی تھے۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی نے ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

مودی حکومت نے کورونا اور پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں کو ‘اَن لاک’ کر دیا... راہل گاندھی کا الزام

کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ایک بار پھر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس بار انھوں نے چین کے تعلق سے مودی حکومت کو نہیں گھیرا بلکہ کورونا بحران اور پٹرول و ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کو لے کر حملہ کیا ہے۔ اپنے ایک ٹوئٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ "مودی حکومت نے کورونا وبا اور پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں کو 'اَن لاک' کر دیا ہے۔" اس کے ساتھ ہی راہل گاندھی نے ایک گراف بھی پیش کیا ہے جس میں کورونا، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو اونچائی چھوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

وقت کورونا سے لڑنے کا ہے نہ کہ یہ ثابت کرنے کا کہ امت شاہ ماڈل صحیح ہے یا کیجریوال ماڈل، سسودیا کا بیان

دہلی میں کورونا کا قہر جاری ہے۔ اس دوران دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کہا ہے کہ یہ وقت کیجریوال ماڈل بنام امت شاہ ماڈل کا نہیں ہے نہ یہ ثابت کرنے کا ہے کہ کون سا ماڈل ٹھیک ہے، یہ وقت کورونا کے خلاف جاری جنگ جیتنے کا ہے۔ منیش سسودیا نے کہا کہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے کوارنٹائن سے متعلق ان کے خط کا کوئی جواب نہیں دیا ہے جس کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔ انہوں دہلی کے ایل جی سے درخواست کی ہے کہ اس تعلق سے وہ جلد کوئی فیصلہ لیں۔

کورونا کا کامیابی سے مقابلہ کرنے والی ریاست ‘کیرالہ’ کو اقوام متحدہ نے اعزاز بخشا

اقوام متحدہ نے منگل کے روز یومِ عوامی خدمت مناتے ہوئے کووڈ-19 وبا سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرنے والے لوگوں کی تعریف کی۔ اس موقع پر ریاست کیرالہ کو بھی اس وبا سے سخت مقابلہ کرنے کے لیے اعزاز بخشا گیا۔ یہ پروگرام ایک ورچوئل پلیٹ فارم پرمنعقد کیا گیا تھا جس میں اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انٹونیو گٹیریس اور اقوام متحدہ کی دیگر اہم شخصیات شامل ہوئیں۔ انھوں نے کووڈ-19 سے بہترین انداز سے نمٹنے کے لیے کئی لیڈروں کی تعریف کی جن میں کیرالہ کی وزیر صحت کے کے شیلجا بھی شامل تھیں۔

ڈیزل کی قیمت میں لگاتار 18ویں دن اضافہ، دہلی میں ڈیزل پٹرول سے زیادہ مہنگا

کورونا وبا کے دوران عوام کی مشکلات میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک طرف عوام کورونا وبا سے نبرد آزما ہے، وہیں دوسری جانب ان پر لگاتار مہنگائی کی مار پڑ رہی ہے۔ ہندوستان میں آج 18ویں دن ڈیزل کی قیمت میں اضافہ درج کیا گیا۔ راجدھانی دہلی میں ڈیزل کی قیمت میں 48 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اب فی لیٹر ڈیزل کی قیمت 79.88 روپے ہو گئی ہے۔ دہلی میں آج پٹرول کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اور یہ قیمت 79.76 روپے فی لیٹر رہی۔ اس طرح دیکھا جائے تو راجدھانی میں پٹرول سے زیادہ ڈیزل مہنگا ہو گیا ہے۔

کیا 15 اگست تک ٹرین سروسز شروع نہیں ہوں گی؟

کچھ پابندیوں کے ساتھ گھریلو پروازیں شروع ہو گئی ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ ٹرین سروسز 15 اگست تک شروع نہیں ہوں گی۔ اس کی وجہ ریلوے کا وہ سرکولر ہے جس میں انڈین ریلوے نے تمام زونس سے ٹکٹوں کی رقم واپسی کو یقینی بنانے کے لئے کہا ہے۔ انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کے مطابق وزارت ریلوے نے پیر کو ایک سرکولر جاری کیا ہے جس میں تمام زونس سے کہا گیا ہے کہ 14 اپریل تک بک ہوئے تمام ٹکٹ کینسل کر دیئے جائیں اور رقم واپس کر دی جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضرورت کے حساب سے مزید ٹرینیں چلائی جا سکتی ہیں لیکن وہ بھی خصوصی ٹرینوں کی طرح ہی چلائی جائیں گی۔

کورونا سے حالات ہوئے بدتر، جنوبی ایشیا کے 10 کروڑ بچوں پر لٹکی تلوار

ایک تشویشناک رپورٹ میں اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ کووڈ۔19 وائرس سے طویل مدتی اثرات کے نتیجے میں جنوبی ایشیا کے 10 کروڑ سے زائد بچے غربت کی لکیر سے نیچے جاسکتے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس خطے میں گزشتہ چند ہفتوں میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اضافہ کی ایک بڑی وجہ معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنے کے لیے لاک ڈاؤن میں نرمی ہے۔

یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگرچہ بچے وائرس سے کم متاثر ہوئے لیکن وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی اور معاشرتی اثرات سے بچے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں تقریباً 60 کروڑ بچے موجود ہیں جن میں 24 کروڑ بچے پہلے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

قومی آواز کی قارئین و ناظرین سے التماس، آزمائش کے اس دور میں اپنا خیال رکھیں، شکریہ