قومی آواز بلیٹن: کورونا کا بدترین مرحلہ آنا باقی، ڈبلیو ایچ او؛ میں نے معیشت کی تباہی کے اشارے دیئے تھے، راہل

پیش خدمت ہیں آج کی کچھ اہم خبریں: کووڈ-19 کا بدترین مرحلہ آنا باقی، ڈبلیو ایچ او؛ منی منجری معاملہ کی غیرجانبدارانہ جانچ کرائی جائے، پرینکا گاندھی؛ اکالی دل میں گھمسان، باغیوں نے سکھبیر بادل کو ہٹایا

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

کووڈ- 19 کا بدترین مرحلہ ابھی آنا باقی ہے: ڈبلیو ایچ او

عالمی طبی تنظیم یعنی ڈبلیو ایچ او نے وارننگ دی ہے کہ دنیا بھر میں کووڈ۔ 19 انفیکشن کا بدترین دور ابھی آنا باقی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس گیبریسس نے کہا ہے کہ ’’انفیکشن کا قہر تیزی سے پھیل رہا ہے اور ہم واضح طور پر اس وبا کی انتہا پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ عالمی سطح پر اموات کی تعداد کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے، لیکن حقیقت میں صرف چند ممالک نے مرنے والوں کی تعداد کم کرنے میں اہم پیش رفت کی ہے جبکہ دوسرے ممالک میں اموات مستقل بڑھ رہی ہیں۔ ڈاکٹر ٹیڈروس نے ڈبلیو ایچ او کی باقاعدہ پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ہفتے کے آخر میں دنیا بھر میں کورونا انفیکشن کے 400000 سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں۔ اب تک دنیا بھر میں کورونا کے 1 کروڑ 19 لاکھ معاملات سامنے آئے ہیں اور 5 لاکھ 47 ہزار سے زائد افراد اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔

منی منجری معاملہ کی غیرجانبدارانہ جانچ کرائی جائے، پرینکا گاندھی کا مطالبہ

اتر پردیش کے بلیا میں پیر کی شام کو 30 سالہ پی سی ایس افسر منی منجری نے مبینہ طور پر پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ اس تعلق سے کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ”بلیا میں تعینات غازی پور کی افسر منی منجری کے بارے میں افسوسناک خبر ملی۔ خبروں کے مطابق انھوں نے انتظامیہ کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے تھے۔“ پرینکا گاندھی نے مزید لکھا ہے کہ ”منی منجری کے اہل خانہ کو انصاف ملے اس کے لیے سبھی باتوں کا سامنے آنا اور غیر جانبدارانہ جانچ بہت ضروری ہے۔“ واضح رہے کہ بلیا میں پی سی ایس افسر منی منجری نے مبینہ طور پر پھانسی لگا کر اپنی جان دے دی۔ یہ خبر ملتے ہی ضلع مجسٹریٹ شری ہری پرتاپ شاہی اور ایس پی دیویندر ناتھ فورنسک ٹیم لے کر موقع پر پہنچے۔ جانکاری کے مطابق پولس کو جائے وقوع سے سوسائڈ نوٹ بھی برآمد ہوا ہے۔ نوٹ میں خاتون افسر نے سسٹم پر سنگین سوال اٹھاتے ہوئے خود کو سیاست میں پھنسائے جانے کی بات لکھی ہے۔ اب پولس اس سوسائڈ نوٹ اور منجری کی کال ڈیٹیل کے ذریعہ خودکشی کی وجہ تلاش کرنے میں مصروف ہو گئی ہے۔

اکالی دل میں گھمسان، باغیوں نے سکھبیر بادل کو ہٹا کر منتخب کیا نیا پارٹی صدر

پنجاب میں شرومنی اکالی دل کے ناراض لیڈروں نے لدھیانہ میں ہوئی ایک اہم میٹنگ کی اور راجیہ سبھا کے رکن سکھدیو سنگھ ڈھینڈسا کو شرومنی اکالی دل کا نیا سربراہ منتخب کر لیا اور سکھبیر سنگھ بادل کو اس عہدہ سے ہٹا دیا۔ ڈھینڈسا کو ان کے بیٹے اور پنجاب کے سابق وزیر مالیات پرمندر سنگھ ڈھینڈسا کے ساتھ مبینہ طور پر پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزام میں اس سال فروری میں بادل نے اکالی دل سے معطل کر دیا تھا۔ بعد میں ڈھینڈسا نے شرومنی اکالی دل (ٹکسالی) سمیت پارٹی سے الگ ہوئے دیگر گروپ کے ساتھ ہاتھ ملا لیا تھا۔ حالانکہ سکھبیر بادل کی قیادت والی شرومنی اکالی دل نے اس قدم کو غیر آئینی اور دھوکہ دہی قرار دیا ہے۔

جب میں نے معیشت کی تباہی کے اشارے دیئے تھے تب بی جے پی اور میڈیا نے مذاق اڑایا، راہل گاندھی کا ٹوئٹ

قومی معیشت کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے اور حکومت کا کوئی اقدام کارگر ثابت نہیں ہو رہا ہے۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی کئی مہینوں سے معیشت کی بدحالی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا ہے کہ معاشی سونامی کے لئے انہوں نے مہینوں پہلے حکومت کو آگاہ کر دیا تھا لیکن ان کے انتباہ پر بی جے پی اور میڈیا کے ایک حلقہ کی جانب سے انہیں نشانہ بنایا گیا اور ان کا مذاق بھی اڑایا گیا۔

راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’چھوٹی اور درمیانی صنعتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ بڑی کمپنیاں سنگین تناؤ کی صورت حال سے گزر رہی ہیں۔ بینکوں کا بحران جاری ہے۔ میں نے مہینوں پہلے ہی کہہ دیا تھا لیکن بی جے پی اور میڈیا نے میرا مذاق اڑایا تھا۔‘‘ راہل گاندھی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ہندوستانی معیشت تیزی سے زوال پذیر ہے اور ملک کا مالیاتی خسارہ بڑھ کر 3.5 فیصد ہو گیا ہے۔

فرید آباد کے ہوٹل میں چھپا تھا وکاس دوبے، پولس کے پہنچنے سے پہلے ہی ہو گیا فرار

اتر پردیش میں 8 پولس والوں کے قتل کا اہم ملزم وکاس دوبے ابھی تک پولس کی گرفت میں نہیں آ سکا ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ فرید آباد میں نظر آیا تھا جس کے بعد ہریانہ پولس کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے، لیکن ایسی خبریں ہیں کہ اس سے پہلے کہ پولس وکاس دوبے تک پہنچ پاتی، وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ ہسٹری شیٹر وکاس دوبے کے 3 ساتھیوں کو فرید آباد کرائم برانچ نے گرفتار ضرور کر لیا ہے لیکن فی الحال وکاس دوبے کا کچھ پتہ نہیں چل پا رہا ہے۔ وکاس کے ساتھی پربھات سے پولس نے تین پستول برآمد کیے ہیں۔ ان میں سے 2 پستول یو پی پولس کی اور ایک وکاس کی ہے۔ فرید آباد پولس نے پربھات، انکور اور انکور کے والد شرون کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے۔ ان کے خلاف کھیری پل تھانہ میں مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔

قومی آواز قارئین و ناظرین سے ضروری گزارش، سوشل ڈسٹینسنگ پر عمل کریں۔
next