قومی آواز بلیٹن: جوانوں کی شہادت پر پی ایم نے بلائی کل جماعتی میٹنگ؛ کانگریس کے حکومت سے سوال

پیش خدمت ہیں آج کی کچھ اہم خبریں: چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں 20 فوجی جوان شہید، وزیر اعظم نے بلائی کل جماعتی میٹنگ؛ راہل گاندھی کا وزیر اعظم سے سوال، چین نے ہمارے فوجیوں کو کیسے شہید کر دیا

user

قومی آوازبیورو

چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں 20 فوجی جوان شہید، وزیر اعظم نے بلائی کل جماعتی میٹنگ

مشرقی لداخ کے علاقہ میں ایل اے سی یعنی لائن آف ایکچول کنٹرول پر وادی گلوان میں چینی فوج کے ساتھ جھڑپ میں 20 ہندوستانی فوجی شہید ہوگئے۔ کل دیررات جاری ایک بیان میں فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس کے 20 فوجی جھڑپ میں شہید ہوگئے۔ اطلاعات ہیں کہ اس جھڑپ میں 43 چینی فوجی بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔ فوج نے کہا ہے کہ وہ ملکی سرحدوں کی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے۔ دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی نے اس معاملہ پر اور ہند-چین سرحد تنازعہ پر تفصیل سے غور و خوص کرنے کے لیے 19 جون کی شام کو 5 بجے کل جماعتی میٹنگ طلب کی ہے۔ اس ورچوئل میٹنگ میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے سربراہان شریک ہوں گے۔

راہل گاندھی کا وزیر اعظم سے سوال، چین نے ہمارے فوجیوں کو کیسے شہید کر دیا

پورے ملک میں چینی فوجیوں کے ہاتھوں 20 فوجی جوان کے شہید ہونے پر غم کا ماحول ہے۔ ایسے میں حزب اختلاف نے اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم سے سوال کیا ہے کہ چین کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ ہمارے فوجیوں کو شہید کر دے۔

کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ہند-چین سرحد پر ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے تعلق سے وزیر اعظم کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور سچ سامنے لانے کی گزارش کی ہے۔ راہل گاندھی نے ٹوئٹ کے ذریعہ سوال کیا ہے کہ ”پی ایم مودی خاموش کیوں ہیں؟ وہ چھپے ہوئے کیوں ہیں؟ بہت ہو گیا، ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر کیا ہوا ہے؟“ ٹوئٹ میں انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ”چین نے ہمارے فوجیوں کو کیسے مار ڈالا؟ اس نے ہماری زمین پر کیسے قبضہ کیا؟“

ہمارے فوجی شہید ہو گئے، کیا ہم اب بھی خاموش بیٹھے رہیں گے: پرینکا گاندھی

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے لداخ میں ہندوستانی فوجیوں اور افسران کی شہادت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں وزیر اعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ”ہماری زمین، ہماری خود مختاری خطرے میں ہے، ہمارے فوجی، افسران شہید ہو گئے، کیا ہم خاموش بیٹھے رہیں گے؟“ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ”ہندوستان کی عوام سچ جاننے کی حقدار ہے، اسے ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ہماری زمین چھننے سے پہلے اپنی جان دینے کے لیے تیار ہو۔ سامنے آئیے نریندر مودی جی، چین کا سامنا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔“

حضرت خواجہ غریب نواز کی شان اقدس میں گستاخی ناقابل برداشت‘ صحافی امیش دیوگن کے خلاف غصہ کی لہر

مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی جنرل سکریٹری کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ نے صحافی امیش دیوگن کی جانب سے حضرت خواجہ غریب نوازؒ کی شأن اقدس میں کی گئی گستاخی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ خواجہ غریب نواز کے چاہنے والے ساری دنیا میں بستے ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنی جانب سے پرزور الفاظ میں مذمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے بلا لحاظ مذہب وملت حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ کے عقیدت مندوں کی جانب سے ملک کے مختلف مقامات پر پولیس اسٹیشنوں میں دائر کردہ معاملات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امیش دیوگن پر غداری کا معاملہ درج کیا جائے۔ واضح رہے امیش دیوگن نے ایک بحث میں ’لوٹیرے چشتی‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ امیش دیوگن نے اپنے بیان کے لئے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے غلطی سے خلجی کی جگہ چشتی استعمال کر دیا۔

شوہر کے انتقال سے اے سی پی سریندر جیت کور غمزدہ، کہا ’خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گی‘

کورونا وائرس نہ رنگ دیکھ رہا نہ نسل، نہ غریب دیکھ رہا ہے نہ امیر اور نہ ہی عہدہ دیکھ رہا ہے۔ دہلی پولیس کی خاتون اسسٹنٹ کمشنر آف پولس (اے سی پی) سریندر جیت کور کے شوہر چرنجیت سنگھ وِرک کی کورونا انفیکشن سے موت ہوگئی ہے جس سے خاتون اے سی پی انتہائی غمزدہ ہیں۔ خاتون اے سی پی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ "میرے شوہر لاک ڈاؤن کے دوران گھر سے باہر نہیں گئے، لیکن میں اپنی ملازمت کی وجہ سے باہر نکلی... اور میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گی۔" دراصل سریندر جیت کور گزشتہ دنوں کورونا پازیٹو پائی گئی تھیں اور پھر جب ان کے شوہر چرنجیت سنگھ کا ٹیسٹ کرایا گیا تو وہ بھی پازیٹو پائے گئے۔ دونوں کا علاج اپولو اسپتال میں چل رہا تھا، سریندر جیت کور تو صحت یاب ہو کر ڈسچارج ہو گئیں لیکن 54 سالہ چرنجیت زندگی کی جنگ ہار گئے۔

خوش خبری، کورونا انفیکشن کی دوا کا چل گیا پتہ، اب موت کا خطرہ ایک تہائی کم!

کورونا وائرس کے بڑھتے قہر کے درمیان برطانیہ کے سائنسدانوں نے ایک اچھی خبر سنائی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا کے خلاف جنگ میں 'ڈیکسامیتھازون' دوا ایک بہت بڑی کامیابی کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ سستی اور آسانی سے دستیاب ہونے والی یہ دوا کورونا وائرس کے سنگین اور خطرے والے مریضوں کی جان بچا سکتی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی نے اپنی تحقیق کے بعد حاصل ریزلٹ میں اخذ کیا ہے کہ جو لوگ وینٹی لیٹر پر تھے ان کی موت کا خطرہ دوا کے استعمال کے بعد ایک تہائی کم ہوگیا۔ ادھر عالمی ادارہ صحت ڈبلو ایچ او نے بھی اس دوا کے کلینیکل ٹرائل کا خیر مقدم کیا ہے۔

قومی آواز قارئین و ناظرین سے ضروری گزارش، سماجی دوری یعنی سوشل ڈسٹینسنگ پر عمل کریں، شکریہ۔