’مودی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج کسانوں کی جیت ہوگی‘ گاندھی جینتی پر سونیا گاندھی کا ویڈیو پیغام

سونیا گاندھی نے کہا ’’آج ہمارے کارکن ہر اسمبلی حلقہ میں کسانوں اور مزدوروں کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں، میں دعوے کے ساتھ کہنا چاہتی ہوں کہ یہ احتجاج کامیاب ہوگا اور کسانوں کی جیت ہوگی‘‘

ویڈیو گریب
ویڈیو گریب
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: مودی حکومت کی طرف سے پارلیمنٹ سے منظور کرائے گئے زرعی قوانین کے خلاف چل رہے احتجاج کے درمیان کانگریس صدر سونیا گاندھی نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی یومِ پیدائش کے موقع پر ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کسانوں کی حمایت کی ہے۔ سونیا گاندھی نے اس موقع پر ’جے جوان، جے کسان‘ کا نعرہ دینے والے سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کو بھی یاد کیا ہے۔

کانگریس صدر نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ مودی حکومت نے کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کرکے اپنے چند دوستوں سے بات کر کے قوانین منظور کرائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کارکنان ہر اسمبلی حلقہ میں کسانوں اور مزدوروں کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ احتجاج کامیاب ہوگا اور کسانوں کی جیت ہوگی۔

سونیا گاندھی نے ویڈیو پیغام میں دو اکتوبر، گاندھی جینتی کے موقع پر کسانوں اور مزدوروں سے خطاب کیا ہے اور کہا ہے کہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ قوانین عوامی الناس کی رائے کے مطابق بنائے لیکن مودی حکومت نے زرعی قوانین بناتے وقت کسانوں کی ایک نہیں سنی۔

سونیا گاندھی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا، ’’آج کسانوں، مزدوروں اور محنت کشوں کے سب سے بڑے ہمدرد مہاتما گاندھی کی یوم پیدائش ہے۔ گاندھی جی کہتے تھے کہ ہندوستان کی روح ہندوستان کے دیہات، کھیتوں اور گوداموں میں رہتی ہے۔ لیکن آج ملک کے کسان اور کھیت مزدور تینوں سیاہ قوانین کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ مودی حکومت اپنے خون پسینے سے ملک کے لئے اناج اگانے والے کسان کو خون کے آنسو رو رہی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’کورونا وبا کے دوران ہم سب نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہر ضرورت مند ملک کے باشندے کو مفت اناج ملنا چاہئے۔ تو کیا یہ ممکن تھا کہ ہمارے کسان بھائیوں کے بغیر ہم کروڑوں لوگوں کے لئے دو وقت کے کھانے کا انتظام پاتے! ملک کے وزیر اعظم کسانوں کے ساتھ سراسر ناانصافی کر رہے ہیں۔ کسانوں کے لئے قانون بتاتے وقت ان سے مشورہ تک نہیں کیا گیا۔ یہی نہیں ان کے مفادات کو نظرانداز کرتے ہوئے، صرف چند دوستوں سے بات کرکے تین کسان مخالف قوانین کا اطلاق کر دیا گیا۔‘‘

کانگریس صدر نے مزید کہا کہ جب پارلیمنٹ میں بھی قانون سازی کے دوران کسانوں کی آواز نہیں سنی گئی، تو وہ مہاتما گاندھی کے راستے پر چلتے ہوئے خاموشی سے اپنی بات رکھنے کے لئے مجبوری میں سڑکوں پر آئے۔ جمہوریت مخالف، عوام دشمن حکومت کی طرف سے ان کی باتیں سننا تو دور، ان پر لاٹھیاں برسائی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ کسان اور کھیت مزدور ان قوانین میں صرف اپنی محنت سے حاصل شدہ پیداوار کی صحیح قیمت چاہتے ہیں اور یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ آج جب اناج منڈیوں کا خاتمہ ہوگا، ذخیرہ اندوزوں کو اناج کا ذخیرہ کرنے کی کھلی جھوٹ دی جائے گی اور کسانوں کی زمینیں کاشتکاری کے لئے سرمایہ داروں کے حوالے کردی جائیں گی، تب کروڑوں چھوٹے کسانوں کی حفاظت کون کرے گا؟

سونیا گاندھی نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ عوامی رضامندی سے ہر قانون بنایا ہے۔ قانون کے نفاذ سے قبل عوام کے مفادات کو اولین رکھا ہے، جمہوریت کا مطلب بھی یہی ہے کہ ملک کے ہر فیصلے میں اہل وطن کی رضا مندی شامل ہو۔ لیکن کیا مودی حکومت اس پر یقین کرتی ہے؟ شاید مودی حکومت کو یہ یاد نہیں ہے کہ وہ آرڈیننس کے ذریعے کسانوں کے 'زمین سے متعلق مناسب معاوضہ قانون' میں ترمیم نہیں کر پائی تھی۔

سونیا گاندھی نے کہا۔ آج ہمارے کارکن ہر اسمبلی حلقہ میں کسانوں اور مزدوروں کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں، میں دعوے کے ساتھ کہنا چاہتی ہوں کہ یہ احتجاج کامیاب ہوگا اور کسانوں کی جیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی تینوں کالے قوانین کے خلاف جنگ جاری رکھے گی۔

    Published: 2 Oct 2020, 9:53 AM
    next