گوہر رضا کی نظم: موت کا سوداگر

موت کا ایک سوداگر جب سے میرے دیس میں آیا ہے، بستی بستی اندھیاری ہے اور چتائیں روشن ہیں...

user

قومی آوازبیورو

موجودہ بھیانک حالات پر ایک نظم

میرا خیال یہ ہے کہ دیس کا کوئی پریوار کوئی خاندان ایسا نہیں، جس نے اس بیچ اپنے کسی پیارے کو نہیں کھویا ہو۔ اور اس نے ہم سب کو، پورے دیس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ نظم موت کا سوداگر .... گوہر رضا

----

موت کا ایک سوداگر جب سے

میرے دیس میں آیا ہے

بستی بستی اندھیاری ہے اور چتائیں روشن ہیں

آہوں کے انبار لگے ہیں

آنسو کے بازار لگے ہیں

گنگا کے بہتے پانی میں

بےبس لاشیں تیر رہی ہیں

بھوک غریبی اور لاچاری

گھات لگائے یوں بیٹھی ہے

جیسے صدیوں تک رہنے کو

دیس میں ڈیرہ ڈال دیا ہو

آہٹ ہو تو یوں لگتا ہے

جیسے موت ہو دروازے پر

ہر چہرے پر خوف کے بادل یوں چھائے ہیں

جیسے یہ بدلی نہ ٹلے گی

جیسے اب سورج نہ اگے گا

جیسے اب سانسوں کی ڈوری

ٹوٹ گئی تو پھر نہ جڑے گی

اور اس دیس کا ہر ایک شہری

آہوں کے اس جنگل میں بھی

اپنے دل سے پوچھ رہا ہے

کب تک بھگتیں گے خمیازہ

کیوں یہ بھیانک غلطی کی تھی

کب دکھ کا سیلاب رُکے گا

کب آہیں غصے میں ڈھلیں گی

کب غصے کا لاوا پھٹ کر

دیس کے ہر کونے سے اٹھے گا

اور یقیں ہے مجھ کو اس کا

جب اٹھے گی دیس کی جنتا

اپنے ہاتھ میں پرچم لے کر

تب جائے گا یہ سوداگر

تب یہ تانڈو ناچ رُکے گا

تب یہ تانڈو ناچ رکے گا

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


    Published: 27 May 2021, 9:14 AM