جامعہ ویڈیو: دہلی پولس دعویٰ کچھ بھی کرے، یہ ثابت ہو گیا کہ وہ لائبریری میں گھسی تھی

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائبریری میں پولس گھسی تھی اور وہاں موجود طلبا پر لاٹھیاں چلائیں تھی۔ اس بات سے دہلی پولس ابھی تک انکار کرتی رہی، لیکن جو ویڈیوز سامنے آئے ہیں اس نے سب کچھ واضح کر دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوئے حادثہ کے پورے دو مہینے بعد ویڈیو سامنے آئے ہیں، جن میں نظر آ رہا ہے کہ کیسے دہلی پولس کے جوان طلبا پر لائبریری کے اندر لاٹھیاں برسا رہے ہیں۔ ویڈیو میں صاف نظر آ رہا ہے کہ 9-8 پولس والے نیم فوجی دستوں جیسی وردی پہنے جامعہ لائبریری میں گھستے ہیں اور غیر مسلح طلبا کو پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دو مزید ویڈیو سامنے آ گئے۔ ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص مبینہ طور پر ہاتھ میں پتھر لیے ہوئے ہے اور لائبریری میں چھپا ہے۔ دوسرے ویڈیو میں نظر آ رہا ہے کہ کچھ لوگ، جن میں سے کچھ کے ہاتھ میں مبینہ طور پر پتھر ہے، ایک کوریڈور میں ہیں۔ چوتھا ویڈیو پیر یعنی 17 فروری کو سامنے آیا ہے جس میں صاف نظر آ رہا ہے کہ پولس والے بے رحمی سے طلبا کو پیٹ رہے ہیں جب کہ طلبا ان سے رحم کی اپیل کر رہے ہیں۔ پولس والے لائبریری کی ملکیت کو نقصان پہنچاتے ہوئے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

کون سا ویڈیو پہلے کا ہے اور کون سا بعد کا، یہ ابھی صاف نہیں ہو سکا ہے اور نہ ہی یہ واضح ہو سکا ہے کہ یہ ویڈیو کون منظر عام پر لایا ہے۔ حالانکہ پہلا ویڈیو جامعہ کو آرڈنیشن کمیٹی نے جاری کیا تھا، لیکن پہلے اور چوتھے ویڈیو سے کچھ خاص باتیں جو ثابت ہوتی ہیں، وہ اس طرح ہیں...

  • دہلی پولس کا دعویٰ تھا کہ وہ لائبریری میں نہیں گھسی اور نہ ہی ملکیت کو نقصان پہنچایا، لیکن ویڈیو سے پولس کا یہ دعویٰ جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔
  • پولس اور حکومت کے حامیوں نے دوسرے اور تیسرے ویڈیو کو یہ کہتے ہوئے شیئر کیا کہ پتھر پھینکنے والے لائبریری میں آ کر چھپے تھے، لیکن پھر بھی پولس نے جو کارروائی کی اور جس طرح لاٹھیاں چلائی وہ ناقابل فراموش ہے۔ بھلے ہی وہاں وہ لوگ چھپے تھے جو باہر پولس پر پتھر پھینک رہے تھے۔ لیکن لائبریری میں پولس نے جس تشدد کا سہارا لیا وہ غلط ہے۔
  • اور تیسری بات کہ طلبا نے جامعہ لائبریری میں پولس مظالم کی جو کہانی سنائی تھی، وہ سچ ثابت ہوئی ہے۔

جامعہ میں پولس کی کارروائی اور تشدد میں تقریباً 100 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ یونیورسٹی نے دہلی پولس کے خلاف شکایت بھی کی تھی، لیکن کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ اس سے صاف ہوتا ہے کہ دہلی پولس کی کارروائی غیر جانبدار نہیں تھی۔ اب تو کم از کم پولس کو اس معاملے میں کارروائی کرنی چاہیے تاکہ ایسے واقعات کو نہ دہرایا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next