نظم: اس دیش میں مجرم کوئی نہیں... گوہر رضا

اس نظم کا عنوان ہے، ’اس دیش میں مجرم کوئی نہیں‘، یہ نظم دیش کی ہر عورت، ہر بیٹی اور ہر ماں بہن کے نام ہے

user

قومی آوازبیورو

اس نظم کا عنوان ہے، ’اس دیش میں مجرم کوئی نہیں‘، یہ نظم دیش کی ہر عورت، ہر بیٹی اور ہر ماں بہن کے نام ہے۔

اس دیش میں مجرم کوئی نہیں

اب سب باعزت شہری ہیں

جس اچھے دن کا وعدہ تھا

اُس اچھے دن کی ایک جھلک

پھر آج دکھائی دی ہم کو

اب رات کے کالے سایہ کا

ہر جرم پہ گہرا پردا ہے

نفرت کا نشہ کچھ ایسا ہے

اب ذہن اپاہج ہیں سارے

یہ پوچھنا اب ممکن ہی نہیں

اس آگ میں کیا کچھ راکھ ہوا

کیوں میرے وطن کی ہر بیٹی

اب سہمی سہمی لگتی ہے

کیوں مائیں خوفزدہ ہیں اب

کیوں بہنیں پریشاں لگتی ہیں

اس اچھے دن کی ایک جھلک

پھر آج دکھائی دی ہم کو

اس رات کے کالے پردے میں

اچھے دن کا کفن لے کر

جو آگ لگائی تھی تم نے

اس آگ سے روشن گلیاں ہیں

جو راکھ دبانی چاہی تھی

وہ پھول سمیٹے ہیں ہم نے

اور بستی بستی بانٹے ہیں

ہٹلر کا یہی تو نعرہ تھا

ہٹلر کا یہی تو وعدہ تھا

جو تم دہراتے رہتے ہو

مت بھولو اس سچائی کو

بیمار ذہن کے اچھے دن

تہذیب کے نام پہ دھبہ ہیں

کاش کہ ایسا ہو ہمدم

پھر میرے وطن کی گلیوں میں

ظالم کو کہا جائے ظالم

ملزم کو کہا جائے ملزم

مجرم کو کہا جائے مجرم

قاتل کو کہا جائے قاتل

اب ساری تمنا خاک ہوئی

بس ایک تمنا باقی ہے

ختم ہوں ایسے اچھے دن

اور ان کے برے دن لوٹ آئیں

جب بیٹی بیوی ماں بہنیں

محفوظ رہیں اس گلشن میں

اور دیش کی ہر ایک عورت کو

ڈھوروں کا نہیں، دیوی کا نہیں

انسان کا درجہ حاصل ہو

انسان کا درجہ حاصل ہو

~ گوہر رضا

next