کسان تحریک کے 100 دن: کسانوں کے جذبہ میں کوئی کمی نہیں، ویڈیو ضرور دیکھیں

کسانوں کو امید تھی کہ حکومت ان کے مطالبات جلد مان لے گی اور حکومت کو امید تھی کہ کسان تھک جائیں گے، لیکن دونوں کی اس امید میں 100 دن گزر گئے ہیں اور صورتحال ویسی کی ویسی ہی ہے

user

سید خرم رضا

26 نومبر کو جب کسان دہلی میں نئے زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کرنے آئے تھے تو ان کو اندازہ نہیں تھا کہ ان کو اپنے ہی ملک میں اتنے لمبے وقت تک عارضی ٹینٹوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں میں گزارنا پڑے گا۔ انہوں نے ڈاکٹر اوتار کی طرح سوچا تھا کہ ایک دو دن لوگوں کو ضروری طبی سہولیات فراہم کر کے وہ واپس چلے جائیں گے، لیکن جب یہاں کے حالات دیکھے اور ان کو محسوس ہوا کہ ان کی یہاں زیادہ ضرورت ہے تو پھر وہ یہیں لوگوں کی خدمت کرنے لگے اور اب جلد واپس جانے کے آثار بھی نظر نہیں آتے۔

کسان جنہیں دہلی کے اندر مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی اور انہیں دہلی کی سرحدوں پر ہی روک دیا گیا تھا، انہوں نے اپنے مطالبوں کی خاطرصرف سردی، برسات اور اب گرمی کی شدت ہی نہیں برداشت کی بلکہ گھر کا آرام، راستہ میں پیدا کی جانے والی دشواریاں، دہشت گرد، ملک سے غداری کے الزامات، پانی کی بوچھاریں اور لاٹھی چارج جیسی تمام تکالیف برداشت کیں، لیکن مظاہروں کے ذریعہ اور بات چیت کے ذریعہ حکومت سے بس ایک ہی مطالبہ کیا کہ وہ نئے زرعی قوانین واپس لے لے، لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا۔


حکومت کو امید تھی کہ کچھ دنوں بعد یہ کسان تھک جائیں گے، جوش ٹھنڈا ہوجائے گا، کھیتی اور گھریلوں ضرورتیں انہیں گھر واپسی کے لئے مجبور کریں گی، لیکن ایسا نہیں ہوا اور اب 100 روز بعد بھی کسانوں کا احتجاج جاری ہے اور نہ ہی ان کے جذبوں میں کسی طرح کی کوئی کمی آئی ہے۔ مظاہرہ گاہ میں تعداد کو لے کر ضرور یہ کہا جا رہا ہے کہ احتجاج کر رہے کسانوں کی تعداد کم ہوگئی ہے، لیکن ڈاکٹر اوتار جو دو دن کے لئے لوگوں کی خدمت کرنے آئے تھےاب یہاں پر کسانوں کے لئے ایک باقائدہ چھوٹا سا اسپتال چلا رہے ہیں، ان سے ہر طرح کے کسانوں سے بات ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ’’کسان پہلے جوش میں یہاں آئے تھے لیکن اب بہت منظم انداز میں یہاں رہ رہے ہیں۔ کسان گھر جا رہے ہیں اور بدلے میں وہاں سے دوسرے کسان آرہے ہیں۔ لوگ اپنا کام بھی دیکھ رہے ہیں اور احتجاج کا حصہ بھی بنے ہوئے ہیں۔ گاؤں میں کسانوں کے اتحاد میں اضافہ ہوا ہے اور وہاں ایک دوسرے کےکام آ رہے ہیں‘‘ انہوں نے بتایا کہ پہلے دہلی کے لوگ بھی یہاں آتے تھے جس کی وجہ سے شام کو تعداد زیادہ لگتی تھی، لیکن اب حکومت نے آنے کے لئے اتنی پابندی اور مسائل کھڑے کر دیئےہیں کہ شام کو دہلی والے نہیں آ پارہے ہیں۔

سنگھو بارڈر پر مظاہرگاہ کے اندر لوگ سڑکوں پر اپنا چھوٹا موٹا سامان بیچتے نظر آ رہے ہیں۔ قطار میں بہت سے لوگ وہاں سامان بیچ رہے ہیں۔ لنگر اور لوگوں کی خدمت جاری ہے۔ وہاں ایک کیمپ ہے جس کے باہر لکھا ہے زخمی جوتوں کا اسپتال، وہاں لوگوں کے نہ صرف جوتے ٹھیک اور پالش کیے جا رہے ہیں بلکہ وہاں ٹانگوں کی مساج کی مشین رکھی ہوئی ہے، جہاں پیلہ دوپٹہ اوڑھے بزرگ خواتین اپنے نمبر کا انتظار کرتی نظر آ رہی ہیں۔ کپڑے دھونے، آر او کے پانی کا پورا انتظام ہے، ہاں اب گیزر نظر نہیں آتے کیونکہ موسم بدل گیا ہے۔


اسٹیج کے پیچھے 50 طلباء کا ایک گروپ سرہند سے مشعال لے کر سائیکل اور پیدل دوڑ کر سنگھو بارڈت پہنچا ہے یعنی سرہند سے سنگھو جس کو انہوں نے نام دیا ہے ایس 2 ایس۔ یہ آئیڈیا کناڈا کے کرما مان کا ہے جس میں ان کا ساتھ وکی مان نے دیا اور پھر پنجاب یونورسٹی کے کھلاڑی طلباء نکل پڑے لوگوں کو کسانوں کے مطالبات کے بارے میں بتانے کے لئے۔ تین دن بعد جب وہ سنگھو نارڈر پہنچے تو ان میں موجود ایک طالبہ جو ایتھلیٹ ہیں انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے لئے، اپنے نام کے لئے اور میڈل کے لئے دوڑتی تھیں لیکن پہلی مرتبہ وہ دوسروں کے لئے یعنی کسانوں کے لئے دوڑی ہیں اور اس کی خوشی الگ ہی ہے۔ جس دن کسان اپنے مطالبات منوا کر واپس جائیں اس دن ہمیں گولڈ میڈل ملے گا اور یہ میڈل اب تک کا سب سے بڑا میڈل ہوگا۔

کسانوں کو امید تھی کہ حکومت ان کے مطالبات جلد مان لے گی اور حکومت کو امید تھی کہ کسان تھک جائیں گے، لیکن دونوں کی اس امید میں 100 دن گزر گئے ہیں اور صورتحال ویسی کی ویسی ہی ہے۔ کسانوں نے یہاں لمبا وقت گزارنے کے لئے اپنے پورے انتظامات کیے ہوئے ہیں، وہیں حکومت نے بھی مظاہرین کو تھکانے کے پورےانتظامات کر رکھے ہیں۔ جس طرح پیدل چل کر گاؤں کے اندر سے مظاہرہ گاہ تک جانا پڑ رہا ہے اس سے مقامی لوگوں کو تو پریشانی ہو ہی رہی ہے، ساتھ میں حکومت کو ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسےکسان ان سارے اقدامات سے تھک جائیں گے، لیکن کسانوں سے بات کرنے کے بعد ایسا نہیں لگتا۔ یہ ضرور ہے کہ جتنا وقت گزر رہا ہے اتنا لوگ اس مسئلہ پر بحث کر رہے ہیں اور حکومت کے خلاف سیاسی ماحول بن رہا ہے، کیونکہ عوام میں جو مہنگائی کے خلاف ناراضگی ہے اس کی وجہ سے بھی کسانوں کے حق میں ہمدردی بڑھ رہی ہے۔ اب حکومت کو چاہیے کہ اس مسئلہ کو جلدی حل کرے تاکہ کسان بھی اپنے گھر جا سکیں اور حکومت بھی دیگر امور پر توجہ دے سکے۔ سنگھو بارڈر پر جانے کے بعد ایسا لگا کہ کسانوں کے لئے100 دن اور 500 دن معنی نہیں رکھتے بلکہ ان کے لئے نئے زرعی قوانین کی واپسی زیادہ معنی رکھتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 05 Mar 2021, 8:51 PM