کپل مشرا نے ماحول خراب کرنے کی کوشش کی... ویڈیو

دونوں مذاکرات کار نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ہے لیکن اس بیچ دہلی اور علی گڑھ سے کچھ ایسی خبریں موصول ہوئی ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ وہاں پر مظاہروں کے دوران تشدد ہوا ہے۔

user

قومی آواز تجزیہ

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے شاہین باغ سے شروع ہونے والےمظاہرے کی آگ پورے ہندوستان میں پھیل چکی ہے۔ گزشتہ ڈھائی مہینوں سے شاہین باغ میں خواتین شہریت ترمیمی قانون اور مجوزہ این آر سی کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی بھی ان مظاہرین سے بات کرنے نہیں گیا۔ اس کے برعکس مظاہرین پر الزام ہے کہ ان کی وجہ سے لوگوں کو نقل و حمل میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان الزامات کی تصدیق کرنے اور کسی متوقع حل کے لئے سپریم کورٹ نے دو مذاکرات بھی تقرر کیے تھے۔

دونوں مذاکرات کار نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ہے لیکن اس بیچ دہلی اور علی گڑھ سے کچھ ایسی خبریں موصول ہوئی ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ وہاں پر مظاہروں کے دوران تشدد ہوا ہے۔ کل دہلی کے شمال مشرقی علاقہ کے کئی حصوں سے تشدد اور پتھر بازی کی خبرے آئیں۔ دراصل 22 فروری کی رات کو جعفر آباد میٹرو اسٹیشن کے نیچے ایک سائڈ کی سڑک پر خواتین احتجاج کرنے بیٹھ گئیں۔ یہ خواتین بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد کے بھارت بند کی اپیل کے تحت جمع ہوئی تھیں۔ صبح ہوتے جیسے جیسے یہ خبر پھیلی ویسے ویسے یہاں بھیڑ بڑھنے لگی اور پھر کئی مسلم اکثریتی علاقوں میں نہ صرف لوگ جمع ہونے شروع ہو گئے بلکہ لوگوں نے ان علاقوں میں اپنے کاروبار بھی بند رکھے۔

اس کے بعد کچھ ایسا ہوا جس کی توقع نہیں تھی یعنی حال ہی میں ماڈل ٹاؤن اسمبلی سیٹ سے ہارے بی جے پی کے امیدوار اور کیجریوال کابینہ کے سابق وزیر کپل مشرا جو کسی وقت وزیر اعظم نریندر مودی کو جانے کیا کیا کہا کرتے تھے وہ میدان میں اترے اور انہوں نے پولیس اور مظاہرین کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کھلے طور پر پولیس کو چیلنج کیا کہ تین دن کے اندر وہ مظاہرین کو سڑکوں سے ہٹائیں۔ ان کے اس عمل کے بعد دہلی کے کئی علاقوں میں پتھر بازی کے واقعات سامنے آئے اور اس کے بعد علی گڑھ سے بھی اس طرح کی خبریں موصول ہوئیں۔

واضح رہے یہ وہی کپل مشرا ہیں جن پر اسمبلی انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن نے ایک دن کی پابندی بھی لگائی تھی جب انہوں نے کہا تھا کہ 8 فروری یعنی ووٹنگ کے دن ہندوستان اور پاکستان کا مقابلہ ہوگا۔ اس کے بعد بھی انہوں نے کئی اشتعال انگیز بیان دیئے تھے۔

یہ بات غور کرنے کی ہے کہ دہلی انتخابات میں جب خود مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے شاہین باغ کے نام پر رائے دہنگان کو تقسیم کرنے کی کوشش کی، وزیر مملکت برائے خزانہ انوراگ ٹھاکر نے تو گولی مارنے جیسے اشتعال انگیز نعرے لگوائے جبکہ رکن پارلیمنٹ پرویش ورما نے شاہین باغ کے مظاہرین کو اس طرح پیش کیا جیسے وہ کوئی غنڈے اور بدمعاش ہوں۔ اس وقت اگر حکومت کی جانب سے کوئی سخت بیان آتا ہے اور ان کی سخت الفاظ میں مذمت کی جاتی تو آج اس کی نوبت نہیں آتی کہ کپل مشرا جیسا کوئی بھی شخص اپنے ہاتھ میں قانون لینے کی کوشش کرتا اور پولیس کو چیلنج کرتا۔

Published: 24 Feb 2020, 7:11 PM