ادب نامہ: جاں نثار اختر کی شاعری، فکری سفر اور سماجی شعور پر بامعنی گفتگو

ادب نامہ کی تازہ قسط میں جاں نثار اختر کی شاعری، سماجی شعور اور ترقی پسند فکر پر گفتگو کی گئی۔ معین شاداب نے ان کے کلام کی عصری معنویت اور انسانی پہلوؤں کو اجاگر کیا

user

عمران اے ایم خان

نیشنل ہیرالڈ، نو جیون اور قومی آواز کے مشترکہ ادبی پروگرام ادب نامہ کی تازہ قسط اردو کے ممتاز شاعر جاں نثار اختر کے نام رہی۔ اس خصوصی نشست میں جاں نثار اختر کی شاعری کو محض رومان یا نظریاتی خانوں میں محدود کرنے کے بجائے، ان کے فکری سفر، سماجی شعور اور عہد سے مکالمے کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی گئی۔

پروگرام کی میزبانی عمران اے ایم خان نے کی، جبکہ مہمان کے طور پر معروف شاعر اور ناقد معین شاداب شریک ہوئے۔ گفتگو کے دوران معین شاداب نے جاں نثار اختر کی زندگی کے مختلف مراحل پر روشنی ڈالی، خاص طور پر علی گڑھ سے ممبئی کے سفر کو ایک اہم تخلیقی موڑ کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق علی گڑھ میں تعلیم اور تدریس سے وابستگی کے بعد جاں نثار اختر کو یہ احساس ہوا کہ اپنے خوابوں اور اظہار کی وسعت کے لیے ایک بڑے سماجی اور ثقافتی دائرے کی ضرورت ہے، جس نے انہیں ممبئی کی طرف متوجہ کیا۔

نشست میں جاں نثار اختر کی شاعری میں انسان، سماج اور عہد کے باہمی رشتے پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ ان کے منتخب اشعار کے ذریعے یہ واضح کیا گیا کہ ان کا کلام سوال سے زیادہ ایک تلخ حقیقت اور گہرے دکھ کی ترجمانی کرتا ہے۔ پروگرام کے ایک حصے میں معین شاداب نے جاں نثار اختر کے اشعار کی قرأت بھی کی، جس سے شاعری کا داخلی آہنگ اور معنوی گہرائی ناظرین کے سامنے آئی۔

مکمل ویڈیو کے لیے لنک:

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔