ویب سیریز ’لیلیٰ‘: مستقبل کی ہی نہیں، موجودہ وقت کی بھی خوفناک داستان

یہ مستقبل کی ہی کہانی نہیں آج کی کہانی بھی ہے۔ کیا آج لوگ الگ الگ بستیوں میں نہیں رہتے! مسلمانوں کی کالونی الگ ہوتی ہے، عیسائیوں کی الگ۔ ہندوؤں میں تو ہر ذات کی بستیاں الگ ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پرگتی سکسینہ

اس سے پہلے کسی ہندی سیریل نے اتنا بے چین نہیں کیا جتنا ’لیلیٰ‘ نے کیا۔ یوں تو ویب سیریز کا چلن کچھ سال پہلے ہمارے ملک میں شروع ہو گیا تھا اور کئی سیریل موضوعِ بحث بھی بنے، لیکن ویب سیریز دیکھنے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔ ایک تو غنیمت یہ کہ اس میں ساس-بہو نہیں ہے، نہ ہی میک اَپ سے پُتی ہوئی عورتیں یا پھر گھٹیا اور بچکانی کامیڈی کرتے اداکار۔

ایک خوفناک ماحول ہے جو پہلے کچھ ہی منٹوں میں آپ کو گھیر لیتا ہے۔ بھارت ’آریہ ورت‘ ہو چکا ہے، لوگوں کی بستیاں مذہب اور ذات کے نام پر تقسیم ہو چکی ہیں۔ دو الگ ذات یا مذہب والی شادیوں سے پیدا ہوئے بچوں کو ان کے والدین سے الگ کر دیا جاتا ہے اور سب سے زیادہ ظلم کی شکار ہیں خواتین جنھیں کسی بھی ’جرم‘ کے لیے، اپنی عزت بچانے کے لیے بھی ’شدھی کرن‘ کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے جو اپنے آپ میں اتنا تکلیف دہ ہے کہ وہ جیتے جی مر جائیں۔ پانی کے لیے لوگ لڑ رہے ہیں اور پینے کا پانی صرف اے ٹی ایم پر ہی دستیاب ہے۔ محبت، امن اور چین کی کوئی جگہ نہیں۔ ہر شخص ایک دوسرے کو شبہ کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

ایسی دنیا میں داخل ہوتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور جیسے ہی پہلا ایپی سوڈ ختم ہوتا ہے، آپ شکر مناتے ہیں کہ ہماری دنیا، ہمارا سماج ایسا نہیں۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟

دفتر میں اپنے ایک ساتھی سے بات کرتے ہوئے میں نے جب کہا کہ ہم اگر ابھی نہیں سنبھلے تو جلد ہی ہمارا سماج بھی ایسا ہو جائے گا جیسا کہ اس سیریل میں دکھایا گیا ہے، تو اس ساتھی کا جواب اندر تک جھنجھوڑ گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ’’ایسا نہیں ہے، یہ مستقبل کی کہانی نہیں، آج کی کہانی ہے۔ تم بتاؤ کیا آج ہم لوگ الگ الگ بستیوں میں نہیں رہتے۔ مسلمانوں کی کالونی الگ ہوتی ہے، عیسائیوں کی الگ۔ ہندوؤں میں تو ہر ذات کی بستیاں الگ ہیں۔‘‘

کیا ممبئی میں کوئی مسلمان آسانی سے کرائے پر گھر پا سکتا ہے؟ یا دہلی کی ہی بات کرو... پانی کے لیے لڑائی شروع ہو ہی گئی ہے۔ جہاں تک ماحولیات کا سوال ہے تو گرمی اور خشک سالی کی حالت سے بھی ہم گزر ہی رہے ہیں۔ یہ ویب سیریز مستقبل کی نہیں، آج کی بات کر رہا ہے۔ بس ہمیں یہ احساس نہیں ہے کہ ہم اسی ماحول میں رہ رہے ہیں جو شک، نفرت، حسد اور تشدد سے بھرا ہوا ہے۔‘‘

اس نے ٹھیک کہا اور اس بات کا کوئی جواب میرے پاس نہیں تھا۔ لیکن، تب سے یہ بات پریشان کر رہی ہے کہ ترقی کی طرف رواں ہمارے سماج کا کیا یہی حشر ہونا تھا؟ سیریل میں اداکارہ بے تحاشہ اپنی بچی کی تلاش کرتی ہے جسے اس سے الگ کر دیا گیا ہے کیونکہ اس نے اونچی ذات کی ہوتی ہوئی ایک مسلمان سے شادی کی تھی۔

دل دہلا دینے والی کشمکش ہے اس کی۔ لیکن یہ تو فکشن ہے۔ کیا ہم تلنگانہ کی حاملہ امرتا کو بھول سکتے ہیں جس کے سامنے اس کے شوہر پر چاقو سے حملہ کر کے مار دیا گیا تھا کیونکہ وہ نیچی ذات سے تھا اور امرتا نے ماں باپ کی مرضی کے خلاف اس سے شادی کی تھی؟ یہ تو ہماری اصلیت ہے، ہمارا شرمناک سچ۔

یہ سیریل بغیر کسی سیاسی ریفرنس کے ہمیں آئینہ دکھاتا ہے۔ نہیں، یہ مستقبل نہیں ہمارے حال کی بات کرتا ہے جسے ہمیں ہر حالت میں بدلنا چاہیے۔ اگر ہم آنے والی نسلوں کا خوشنما چہرہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ایسا کرنا ہی ہوگا۔

اس ویب سیریز میں لگاتار منظرنامے میں کچرے کا ایک بڑا ڈھیر ہمارے ماحولیات کی بدتر حالت کے ساتھ ہی ہمارے اندر کے کچرے کی علامت بھی ہے۔ سیریل بنانے والی دیپا مہتا کو اس بات کے لیے داد دینی چاہیے کہ انھوں نے وہ منحوسیت بھرا ماحول پردے پر اتارا ہے جو ہمارے اندر اور باہر تیار ہو رہا ہے۔ اگر اس سے بیدار ہو کر بچتے رہے تو ٹھیک ہے، ورنہ حیرانی نہیں کہ جلد ہی ’جے آریہ ورت‘ (اور بھی ایسے نعرے ہیں جنھیں گالیوں کے درمیان جبراً لوگوں سے بلوایا جاتا ہے) جیسے نعروں میں ہماری شناخت، ہماری نجی آزادی کچل دی جائے گی۔

Published: 26 Jun 2019, 5:10 PM
next