’بگ باس‘ میں کامیابی شلپا شندے کیلئے آبِ حیات

میں ٹیلی ویژن کی جگہ فلموں میں کام کرنا چاہوں گی۔ کئی سالوں تک کام کرنے کے بعد اس صنعت کے لوگوں نے میرے ساتھ جیسا سلوک کیا اس سے میں بے حد مایوس ہوں: شلپا شندے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر احمد

’انگوری بھابھی‘ کے نام سے مقبول ہو چکی شلپا شندے نے اتوار کی شب ’بگ باس-11‘ کا تاج حنا خان کو شکست دے کر ضرور حاصل کر لیا لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی ظاہر کر دیا کہ ’بھابھی جی گھر پر ہیں‘ سیریل نے جو زخم انھیں پہنچایا ہے وہ اسے تازندگی نہیں بھول پائیں گی۔ ایک طرف جہاں وہ اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ انھیں چھوٹے پردے نے وہ مقبولیت عطا کی جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں، وہی دوسری طرف یہ بھی کہتی ہیں کہ ’بھابھی جی گھر پر ہیں‘ سیریل کے دوران جو کچھ ان کے ساتھ گزرا اور جس طرح کے تجربات کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد اب وہ چھوٹے پردے پر قطعاً کام نہیں کرنا چاہتیں۔ ’بگ باس‘ کا خطاب جیتنے کے بعد شلپا شندے نے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ ”میں ٹیلی ویژن کی جگہ فلموں میں کام کرنا چاہوں گی۔ کئی سالوں تک کام کرنے کے بعد اس صنعت کے لوگوں نے میرے ساتھ جیسا سلوک کیا اس سے میں بے حد مایوس ہوں۔ میں اب ٹی وی صنعت میں مزید کام نہیں کرنا چاہتی۔“ ظاہر سی بات ہے کہ ان کا اشارہ ’بھابھی جی گھر پر ہیں‘ سیریل کے پروڈیوسر کی جانب تھا جن کے ساتھ شلپا شندے کے نہ صرف رشتے خراب ہوئے بلکہ ان پر پابندی تک عائد کر دی گئی۔ شلپا کے لیے خوشی کی بات یہ ہے کہ ’بگ باس‘ میں کامیابی ان کے لیے آبِ حیات سے کم نہیں۔ انھیں ویب سیریز میں کام کرنے کے لیے آفر تو ملے ہی ہیں، یقینا اچھی فلموں کے آفر بھی انھیں حاصل ہوں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
ٹی وی سیریل ’بھابھی جی گھر پر ہیں‘ میں انگوری بھابھی کے کردار میں شلپا شندے

’بگ باس‘ کا تاج جیتنے کے بعد چھوٹے پردے سے ملے زخم ان کے ذہن ضرور تازہ ہیں لیکن آج ماحول کافی کچھ بدل چکا ہے۔ شلپا شندے نے سلمان خان جیسے سپر اسٹار کے شو میں حنا خان جیسی گلیمرس شخصیت کو شکست دے کر ثابت کر دیا ہے کہ ان کے شیدائیوں کی تعداد ملک میں کتنی زیادہ ہے۔ شلپا شندے کی کامیابی ’بگ باس‘ میں اب تک کامیاب ہوئے سبھی لوگوں میں اہمیت کی حامل قرار دی جا سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ’بگ باس‘ کے گھر میں انتہائی سادگی کے ساتھ اور عام لڑکی کی طرح زندگی گزاری۔ بلکہ یہ کہاں جو تو قطعاً غلط نہیں ہوگا کہ انھوں نے ایک ہندوستانی گھریلو لڑکی جیسا اثر گھر میں موجود سبھی لوگوں پر چھوڑا۔ یہاں تک کہ سلمان خان خود بھی کئی بار شلپا شندے کے معترف نظر آئے، حالانکہ ٹاسک پورا نہ کر پانے کے سبب چند مرتبہ ان کے گھر سے باہر نکلنے کے امکانات بھی ظاہر کیے جانے لگے تھے۔ لیکن شلپا کی سمجھداری کہیے یا پھر ان کا ہندوستانی انداز کہ کسی نے انھیں ماں کی شکل میں دیکھا تو کسی نے ایک ذمہ دار گھریلو لڑکی کی شکل میں۔ شلپا شندے نے ’بگ باس‘ کا تاج حاصل کرنے کے بعد خود اس بات کا اعتراف بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ ”کچن میں کوئی کام نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کوئی بھی کسی طرح کی ذمہ داری نہیں اٹھانا چاہتا تھا۔ مجھے پتہ ہے کہ صرف کچن ہی نہیں میں پورے گھر کا خیال رکھا ہے۔ کوئی کہیں بھی کپ چھوڑ کر چلا جائے گا، کوئی کہیں پلیٹ رکھ کر چلا جائے گا۔ اگر کوڑے دان بھر گیا ہے تو لوگ وہیں پر ٹشو پھینک دیتے تھے اور سب باہر گر جاتا تھا، اور میں ہوں کہ مجھے صاف صفائی چاہیے اور میں اپنے گھر پر بھی ویسی ہی ہوں۔ کوئی نہیں کرنا چاہتا تو میں کر لیتی ہوں۔“ ایسا نہیں ہے کہ شلپا شندے نے اپنی تعریف میں یہ باتیں کہی ہیں، بلکہ ’بگ باس‘ دیکھنے والوں نے اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور محسوس کیا ہے جس کا فائدہ شلپا کو آخر میں حاصل ہوا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
بگ باس کے گھر میں باورچی خانہ میں مصروف شلپا شندے

ویسے یہ کہنا غلط ہوگا کہ صرف اپنی ذمہ دارانہ شبیہ کی وجہ سے ہی شلپا شندے کو کامیابی ملی۔ پروڈیوسر وکاس گپتا سے جھگڑا کرنے کے بعد جو ٹی آر پی انھوں نے ’بگ باس‘ کو دلائی اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور پھر ہتین کے خلاف ووٹنگ کے ساتھ ساتھ عرشی خان کے ساتھ آخر وقت میں پیدا ہوا تنازعہ بھی انھیں لائم لائٹ میں بنانے رکھنے کا سبب بنا۔ ان سب کے درمیان وہ ایک بہترین انٹرٹینر کی شکل میں ابھر کر سامنے آئیں۔ چونکہ وہ ایک متنازعہ چہرہ پہلے سے ہی تھیں اور ان کی فین فلوئنگ بھی مہاراشٹر سمیت پورے ملک میں اچھی خاصی ہے اس لیے انھیں ان سب کا فائدہ بھی خوب پہنچا۔

بہر حال، شلپا شندے کو ’بگ باس‘ کا خطاب حاصل کرنے کے ساتھ ہی 44 لاکھ روپے کا انعام بھی حاصل ہو گیا اور انھوں نے یہ ثابت بھی کر دیا کہ ان کے اندر ایک ایسی صلاحیت اور ایک ایسی کشش موجود ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں اپنے لیے جگہ بنا چکی ہیں۔ چھوٹے پردے کے ناظرین کے لیے یہ مایوسی ضرور ہے کہ انگوری بھابھی نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب وہ ٹی وی صنعت سے دور ہی رہیں گی۔ لیکن جو شلپا شندے کو قریب سے جانتے ہیں وہ ان کے درد کو بھی سمجھتے ہیں۔ اگر آپ ان کے درد کو نہیں سمجھتے تو خطاب حاصل کرنے کے بعد جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیسا محسوس کر رہی ہیں، اس کا جواب سن لیجیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہ کچھ ایسا ہے جس پر یقین نہیں کیا جا سکتا، بلکہ مجھے یقین تھا۔ مجھے یہاں بہت اچھا لگ رہا ہے۔ سچ کا راستہ تھوڑا لمبا ہوتا ہے، لیکن آپ منزل پر پہنچ جاتے ہیں... تو یہ ٹرافی ہے اس کی منزل۔ میرا ڈریس بھی گولڈن ہے اور یہ ٹرافی بھی گولڈن ہے۔ بس یہ جواب ہے ان لوگوں کو جنھوں نے مجھے بدنام کیا تھا۔ آج 15 سال سے اس انڈسٹری میں کام کر رہی ہوں۔ بہت آسان ہوتا ہے کسی کے اوپر الزام لگانا۔ مجھے خود کو ثابت کرنے کا موقع ملا بگ باس میں اور میں نے وہ کر دکھایا۔“

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 15 Jan 2018, 10:10 PM
next