ہمہ صفت قلمکار سلطان آزاد

2 جولائی 1958 میں محمد سلطان پرانے عظیم آباد اور نئے پٹنہ کے گلزار باغ میں محمد عثمان کے گھر کا چراغ بن کر آئے۔ والد محمد عثمان اپنے والد شیخ محمد علی جان کی طرح مطالعہ کے شوقین تھے۔

محمد سلطان
محمد سلطان
user

جمال عباس فہمی

بہار نے اردو ادب کو ہمیشہ عظیم قلکار دیئے ہیں جن کا قلمی سرمایہ شعرو سخن، تحقیق و تنقید اور تصنیف و تالیف کے حوالے سے اردو ادب کا بیش قیمت خزانہ ہے۔ وہ بہار جس نے اردو ادب کو بسمل عظیم آبادی، شاد عظیم آبادی، وہاب اشرفی، شہناز فاطمی، شمیم ہاشمی، رضا نقوی واہی، عبدالقوی دسنوی، اختر اورینوی، علامہ جمیل مظہری، ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی اور پروفیسر حسین الحق جیسے گہر ہائے آبدار سونپے۔ وہ بہار آج بھی اردو ادب کی خدمت کر رہا ہے۔ موجودہ دور میں بہار کے جو قلمکار اردو ادب کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں ان میں ایک نمایاں نام سلطان آزاد کا بھی ہے۔

سلطان آزاد کی شناخت کئی جہتوں سے قائم ہو چکی ہے۔ سلطان آزاد، ناقد محقق، فیچر نگار، ڈرامہ نگار، خاکہ نگار، افسانہ نگار، مرتب اور بچوں کے ادیب ہیں۔ ان کی قلمی کاوشوں نے 1977 میں اردو حلقوں کو اپنی جانب اس وقت متوجہ کیا تھا جب ان کے افسانوں کا مجموعہ 'آؕئینہ آج کا' منظر عام پر آیا تھا۔ اس افسانوی مجموعے نے سلطان آزاد کا تعارف ایک صاحب طرز قلمکار کے طور پر کرایا۔ اس کے بعد سلطان آزاد کی طبیعت کا میلان تحقیق و تنقید کی طرف ہوگیا۔ سلطان آزاد بنیادی طور پر تحقیق اور تنقید کے میدان کے شہسوار ہیں۔ لیکن ان کی قلمی کاوشیں اسی دائرے میں قید نہیں ہیں، انہوں نے ڈرامے بھی لکھے ہیں بچوں کا ادب بھی تخلیق کیا ہے۔ خاکے اور فیچر بھی تحریر کئے ہیں۔ ان کے ادبی قد کا اندازہ لگانے کے لئے یہ امر ہی کافی ہے کہ ان کی دو کتابیں بہار اور جھار کھنڈ میں ایم اے اردو کے نصاب میں شامل ہیں۔ سلطان آزاد کی شخصیت اور ادبی کارناموں پر ایک کتاب بھی مرتب کی جا رہی ہے۔ سلطان آزاد کی قلمی خدمات کا ذکر کرنے سے پہلے آئیے ان کے خاندانی پس منظر اور تعلیم و تربیت کے بارے میں معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔


2 جولائی 1958 میں محمد سلطان پرانے عظیم آباد اور نئے پٹنہ کے گلزار باغ میں محمد عثمان کے گھر کا چراغ بن کر آئے۔ والد محمد عثمان اپنے والد شیخ محمد علی جان کی طرح مطالعہ کے شوقین تھے۔ گھر میں کتابوں کا ذخیرہ رہتا تھا۔ وہ سرکاری پریس میں ملازم تھے۔ باپ اور دادا کے علمی مطالعہ کا شوق محمد سلطان کو ورثہ میں ملا۔ مطالعہ کا یہ شوق جب پروان چڑھا تو محمد سلطان نے اردو میں ایم اے کیا۔ درس و تدریس کے شوق نے محمد سلطان کو ٹیچرس ٹرینگ سے متعلق کورس بی ای ٹی کرا دیا۔ فن طباعت کی جانکاری کے شوق نے انہیں پرنٹنگ ٹیکنالوجی کا ڈپلوما کرنے پر مجبور کر دیا۔ اور اردو ادب تخلیق کرنے کے ذوق و شوق نے محمد سلطان کو سلطان آزاد بنا دیا۔

سلطان آزاد کا رخش قلم میدان قرطاس پر کم و بیش 38 برسوں سے بے تکان دوڑ رہا ہے۔ ان کی پہلی کتاب 'دبستان عظیم آباد' 1983 میں منظر عام پر آئی۔ 'دبستان عظیم آباد' تحقیق و تذکرہ پر مبنی کتاب ہے۔ اس کو بہار اردو اکیڈمی انعام سے نوازہ چکی ہے۔ یہ کتاب جھار کھنڈ کے ایم اے کے اردو نصاب میں 2019 سے شامل ہے۔ 'دبستان عظیم آباد' کا ترممیم و اضافہ شدہ ایڈیشن بھی منظر عام پر آچکا ہے۔ شاد عظیم آبادی کے شاگرد مظہر عظیم آبادی کی 'شمع محفل' کی ترتیب و تزئین کا کام بھی سلطان آزاد نے انجام دیا ہے۔ سلطان آزاد کی 'بہار میں اردو طنزو ظرافت' کتاب بھی تحقیق و تذکرہ پر مبنی ہے۔ بہار اردو اکیڈمی سے انعام یافتہ ہے اور بہار کی تمام یونیورسٹیوں میں ایم اے اردو کے نصاب میں 2019 سے شامل ہے۔ 'بہار میں اردو طنز و ظرافت' بشمول جھار کھنڈ ترمیم و اضافہ کے ساتھ 2021 میں شائع ہوئی۔ ان کی کتاب 'تلاش و تجزیہ' بھی تحقیق و تنقید کے مضامین پر مشتمل ہے۔


'سانچ کو آنچ نہیں'۔ بچوں کے لئے لکھی گئی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ اس کی مقبولیت کی وجہ سے اب تک اس کے دو ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ 'عظیم سائنسدانوں کی کہانیاں' اور 'نیکی کا بدلہ' کتاب بھی انہوں نے بچوں کے لئے لکھی ہے۔ 'آئینہ آج کا'۔ سلطان آزاد کے افسانوں کا مجموعہ ہے اسے بہار اردو اکیڈمی انعام سے نواز چکی ہے۔ 'سب رس' ان کے نثری مضامین کا مجموعہ ہے۔ 'شعور کی رو' تحقیقی تنقیدی اور تخلیقی مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کو اتر پردیش اردو اکیڈمی انعام سے نواز چکی ہے۔ سلطان آزاد نے پرنٹنگ ٹیکنالوجی کے ڈپلوما کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 'فن طباعت'۔ نامی کتاب تحریر کردی۔ یہ کتاب پرنٹنگ سے متعلق تکنیکی معلومات سے متعلق ہے۔ یہ کتاب ان کی تکنیکی معلومات کا ثبوت ہے۔

'ادبی جہتیں'۔ سلطان آزاد کے تحقیقی، تنقیدی اور تخلیقی مضامین کا مجموعہ ہے۔

'بہار میں رثائی ادب آغاز و ارتقا' تحقیق و تذکرہ پر مشتمل ان کی نہایت اہم کتاب ہے۔

'تحقیق و توضیح' کتاب بھی تحقیقی و تنقیدی مضامین پر مشتمل کتاب ہے۔

سلطان آزاد کی دو کتابوں 'بہار میں رثائی ادب آغاز و ارتقا' اور 'شعور کی رو' کا تفصیل سے ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ بہار کی رثائی شاعری پر سلطان آزاد کی کتاب بہت مبسوط اور جامع کتاب ہے۔ سلطان آزاد نے بہار کے سو سے زیادہ قدیم اور جدید رثائی شعرا کے حالات و احوال اور نمونہ کلام کو یکجا کر دیا ہے۔ اس کتاب میں صرف مرثیہ گو شعرا کا ہی ذکر نہیں بلکہ رثائی ادب کی تمام ممکنہ اصناف میں قلم کے جوہر دکھانے والوں کا بھی ذکر ہے۔ نوحہ، سلام رباعی، مسدس، مخمس کہنے والوں کو بھی اس تاریخی اور دستاویزی کتاب میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ ایک پوری ریاست کے طول و ارض میں پھیلے رثائی شعرا کے حالات واقعات اور قلمی خدمات کو جمع کرنا کتنا مشکل کام ہے اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ یہ کتاب بہت معلوماتی ہے اور رثائی ادب پر کام کرنے والی مستقبل کی نسل کے اسکالروں کی تحقیق کے لئے مددگار ثابت ہونے والی کتاب ہے۔


اس کتاب کے بارے میں پٹنہ کے اورینٹل کالج کے اردو شعبہ کے صدر ڈاکٹر محسن رضا رضوی کہتے ہیں کہ' بہار کے رثائی ادب کے آغاز و ارتقا پر کتاب لکھ کر سلطان آزاد نے ایک ایسے تحقیقی کام کی بنیاد رکھ دی ہے جس پر آئندہ نسلیں ایک بڑی عمارت تعمیر کرسکتی ہیں۔ ان کا یہ کام دستاویزی بھی ہے اور حوالہ جاتی بھی'

اسی کتاب کے حوالے سے پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کہتے ہیں کہ'' سلطان آزاد نے بہار کے رثائی ادب کے حوالے سے جن پرسوز نوا کے پیکروں کو متشکل کیا ہے وہ دل کی صدا کے ساتھ سلگتی چاہت کی صدا بھی ہے۔ انہوں نے فضا کی مکمل تقلیب کے ساتھ بصری اور سمعی حس کو متحرک کیا ہے جس کی اداس چاپ میں دھیمی دھیمی جھنک کی آہٹ اور دھڑکن ہے۔''


'بہار میں رثائی ادب آغاز اور ارتقا' کتاب کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مصنٖف نے یہ کتاب تحریر کرنے کے لئے بہت تگ و دو کی ہوگی۔ ادب گاہوں کی خاک چھانی ہوگی۔ درجنوں کتابوں اور مسودات کا مطالعہ کیا ہوگا۔ سلطان آزاد نے تحقیق کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ بہار میں رثائی ادب کا پہلا تخلیق کار نور الحق طپاں ہے۔ جس کے دور کی ابتداء 1184 ہجری ہے۔ اس کتاب میں بہار میں رثائی ادب کے حوالے سے چار باب قائم کئے گئے ہیں۔ ان ابواب میں رثائی ادب کا آغاز، تعمیری دور ارتقائی دور اور جدید دور پر بات کی گئی ہے۔ سلطان آزاد نے ہر دور سے تعلق رکھنے والے قلمکار کا تعارف مختلف حوالوں سے اس کے حالات زندگی، اس کے بارے میں مشاہیران ادب کی آرا اور بطور نمونہ اس کا کلام پیش کیا ہے۔ سلطان آزاد نے بہار میں رثائی ادب تخلیق کرنے والے 93 قلم کاروں کا کتاب میں تذکرہ کیا ہے۔ کتاب میں سب سے پہلے رثاٰئیت پر بات کی گئی ہے۔ ابتدا سے لیکر آج تک رثائی ادب کی مختلف شکلوں اور ہیئتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ بتایا گیا کہ رثائی ادب کی ابتدا دنیا میں کہاں ہوئی، ہندوستان میں یہ رثائی ادب کہاں سے کب اور کس شکل و صورت میں پہنچا۔ اور ہندوستان کے شعرا نے رثائی ادب کی کن کن صنفوں میں طبع آزمائی کی۔ مجھے یہ یقین ہے کہ جس زمانے میں عاشور کاظمی نے مرثیہ کی تاریخ پر اپنی کتاب تحریر کی تھی اگر سلطان آزاد کی یہ کتاب اس وقت آجاتی تو عاشور کاظمی کی کتاب مزید ضخیم ہو جاتی۔

سلطان آزاد کی ایک اور کتاب 'شعور کی رو' بہت عظیم تصنیف ہے۔ سلطان آزاد نے سعادت مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کتاب کا انتساب اپنے استاد مرحوم سید ناصر حسین زیدی کے نام کر دیا۔ 'شعور کی رو' بارہ مضامین پر مشتمل کتاب ہے جس میں تحقیقی اور تنقیدی مضامین بھی ہیں۔ شعرا کی اوج فکر تک پہنچنے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ سکھوں کے پہلے گرو نانک جی کی روحانی عرفانی اور وجدانی شاعری کے اردو ترجمے کو نئے دور کے باذوق افراد کی تسکین روح کے لئے پیش بھی کیا گیا ہے۔ سرسید کی تحریک کے زیر اثر قائم ہونے والے محمڈن اینگلو عربک اسکول کے ان ابنائے قدیم کو تاریخ کے تہ خانے سے نکال کر لوگوں کے سامنے اس حوالے سے پیش کیا کہ مختلف میدانوں کے شہ سوار وہ افراد محمڈن اینگلو عربک اسکول کی دامن تربیت میں پل بڑھ کر بام عروج پر پہنچے۔ سلطان آزاد کا یہ کارنامہ اگر تخلیق پذیر نہ ہوتا تو ہمیں یہ معلوم نہ ہوتا کہ یاس یگانہ چنگیزی۔علی عباس حسینی۔ قاضی عبدالودود۔ افضل عظیم آبادی۔ نواب زادہ سید محمد مہدی۔ کلیم الدین احمد۔ ہندوستانی اسلامی تاریخ کے ماہر سید صباح الدین عبدالرحمان اور حسن نعیم جیسی شخصیات محمڈن اینگلو عربک اسکول کی پروردہ تھیں۔ شعور کی رو میں سلطان آزاد نے اپنے استاد ناصر زیدی کی ادیب گرانہ صلاحیتوں کا ذکر کیا ہے۔ ناصر زیدی کی زندگی کے کئی پہلو وہ منظر عام پر لائے۔


سلطان آزاد صحافت سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ روزنامہ 'ایثار' اور ہفتہ وار 'آج کے حالات' میں معاون ایڈیٹر کے طور پر خدمت انجام دے چکے ہیں۔ سلطان آزاد نے ہندی میں بھی ہاتھ آزمایا ہے۔ ان کے کئی مضامین ہندی جریدوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ریڈیو کے لئے ڈرامے اور فیچرز بھی تحریر کئے ہیں۔ ان کی تخلیقات ملک کے مختلف شہروں سے شائع ہونے والے موقر رسائل اور جرائد میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں 2018 میں بہار اکبر رضا جمشید ادبی ایوارڈ سے نوازہ گیا۔ چالیس سے زائد کتابوں میں سلطان آزاد کی شخصیت، مضامین اور دیگر قلمی کاوشوں پر تبصرے اور تذکرے شائع ہو چکے ہیں، درس و تدریس کے مقدس پیشے سے سلطان آزاد 2018 میں سبکدوش ہوچکے ہیں لیکن ادب تخلیق کرنے کے فریضے سے وہ سبکدوش نہیں ہوئے ہیں۔

ایک ایسے دور میں کہ جہاں اہل قلم کی قدر اور اس کے کارناموں کا اعتراف اس کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد کیا جاتا ہے سلطان آزاد خوش قسمت ہیں کہ ان کے جیتے جی ان کی شخصیت اور کارناموں پرڈاکٹر سید فیضان جعفر ایک کتاب مرتب کر رہے ہیں۔ 'سلطان آزاد عکس اور شخص کے' عنوان سے یہ کتاب تیاری کے مرحلے میں ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب اس نئے سال میں شائع ہو جائے گی اور سلطان آزاد کی شخصیت اور ان کے کارنامے ایک دستاویز کی صورت میں نئے قلمکاروں کو تحریک دینے کے لئے موجود ہوں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔