کھیل

سال2018: کھیلوں کی دنیا میں نوجوانوں نے جگائی امید کی کرن

نوجوان کھلاڑیوں نے نہ صرف کھیل کی دنیا میں ملک کا نام روشن کیا ہے بلکہ انہوں نے مستقبل کے لئے ایک امید کی کرن بھی جگائی ہے

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

سال 2018 جیسے ہی آیا اس نے ایسے کچھ نوجوان کھلاڑیوں سے اس ملک کو متعارف کرایا جو پورے سال خبروں میں رہے اور اپنے شاندار مظاہرے سے ملک کا نام روشن کرتے رہے۔ ان نوجوان کھلاڑیوں میں پرتھوی شا، شبھانکر شرما، سوربھ چودھری، منو بھاکیر، ہما داس جیسے کچھ نام ہیں۔ ان کھلاڑیوں نے لگاتار اپنے کھیلوں میں اچھا مظاہرہ کیا اور کئی نے تاریخ رقم کی۔

پرتھوی شا(کرکٹ)

پرتھوی شا نے بہت چھوٹی عمر میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم میں اپنی جگہ بنائی اور ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے پہلے ہی میچ میں سنچری لگائی ۔ پرتھوی نے اپنے پہلے ہی میچ میں 134 رن بنائے، جبکہ چوٹ لگنے کی وجہ سے آسٹریلیا گئی ٹیم میں پہلے گیارہ کھلاڑیوں میں اپنی جگہ نہیں بنا پائے۔

ہما داس (ایتھلیٹ)

اگر نوجوان کھلاڑیوں کی بات کی جائے تو اس سال ہما داس کا نام سر فہرست رہے گا ۔ ہما نے اس سال جولائی میں خواتین کی 400 میٹر دوڑ کے عالمی انڈر ۔20 چیمپئن شپ میں سونے کا تمغہ جیتا اور کھیلوں کی تاریخ میں ایک مقام حاصل کر لیا۔ وہ اس شعبہ میں سونے کا تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی خواتین بنیں اور اپنے اس مظاہرہ سے اولمپک میں تمغہ ک امید جگا دی ہے۔

منوبھاکیر (نشانہ باز)

نوجوان کھلاڑیوں کی فہرست میں اس سال ہریانہ کی خاتون نشانہ باز منو بھاکیر نے بہت نام کمایا ۔منو نے میکسیکو میں کھیلے گئے آئی ایس ایس ایف عالمی کپ میں دو سونے کے تمغے جیت کر سنسنی مچا دی تھی ۔ اس نے 10 میٹر ایئر پسٹل مقابلہ اور 10 میٹر مکس مقابلہ میں یہ خطاب جیتے تھے۔ انہوں نے اپنی کامیابی کا سفر دولت مشترکہ مقابلوں میں جاری رکھا ۔

سوربھ چودھری (نشانہ باز)

سوربھ کی خاصیت یہ رہی کہ اس نوجوان کھلاڑی نے پورے سال اپنا مظاہرہ اچھا رکھا ۔سوربھ نے ایشیائی کھیلوں میں 10 میٹر ایئر پسٹل مقابلوں میں سونے کا تمغہ جیتا ۔ وہ ایشیائی کھیلوں میں سب سے کم عمر میں سونے کا تمغہ جیتنے والے کھلاڑی بنے ۔

شبھانکر (گولف)

گولف ایسا کھیل ہے جہاں ہندوستان کا نام زیادہ نہیں ہے لیکن اس سال شبھانکر شرما نے اپنے مظاہرہ سے لگاتار سرخیاں بٹوریں ۔شبھانکر شرما نے جوبرگ اوپن کا خطاب جیت کر پرٹش اوپن جیسے ٹورنامنٹ میں اپنی جگہ بنائی ۔ اسی سال فروری میں چندی گڑھ کے اس نوجوان نے میبیک چیمپئن شپ اپنے نام کی۔

لکشے سین (بیڈمنٹن)

بیڈمنٹن میں سائنہ نہوال اور پی وی سندھو نے ملک کا نام روشن کیا ہے ۔ اب نوجوان کھلاڑیوں میں لکشے سین ایک ایسا ابھرتا ہوا کھلاڑی ہے جس سے بہت زیادہ امیدیں کی جا سکتی ہیں ۔ لکشے ارجنٹینا میں کھیلے گئے یوتھ اولمپک کے سنگل مقابلوں میں چاندی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب رہے لکشے نے ایشئن جونئیر چیمپین شپ میں بھی سونے کا تمغہ جیتا۔

نوین گویت (کبڈی)

ایشیائی کھیلوں میں کبڈی ٹیم کی ہار نے بیشک پورے ملک کو مایوس کیا ہو لیکن اس کھیل سے ہر سال کی طرح کئی نوجوان کھلاڑیوں نے اپنی چھا پ چھوڑی ہے اور ان میں سب سے نمایا ں چہرا نوین گویت کا ہے ۔ نوین ابھی دہلی دبنگ ٹیم کا حصہ ہیں اور ان سے مستقبل میں بہت سی امیدیں ہیں۔

یہ وہ چند نوجوان کھلاڑی ہیں جن سے ملک کو بہت سی امیدیں ہیں لیکن کھیلوں کی دنیا میں ملک کا مظاہرہ زیادہ اچھا نہیں ہے اور امید یہی کی جا سکتی ہے کہ کھیلوں کے لئے ’یہ سال تو اچھا سال رہے‘