ہریانہ: 2 کروڑ کا اعلان کردہ انعام نہ ملنے پر کھلاڑی کا بی جے پی حکومت سے سوال ’جملہ تھا کیا؟‘

ہریانہ میں برسراقتدار بی جے پی حکومت کے وزیر برائے کھیل انل وِز نے اکتوبر 2018 میں نشانہ باز منو بھاکر کو 2 کروڑ روپے انعام دینے کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک نہیں دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

نوعمر خاتون نشانہ باز منو بھاکر نے گزشتہ سال یوتھ اولمپک میں گولڈ میڈل جیتا تھا اور اس نے خوب تعریفیں بٹوری تھیں۔ ہریانہ کے وزیر کھیل انل وِز نے منو بھاکر کی اس کارکردگی سے خوش ہو کر انھیں دو کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا تھا اور اس تعلق سے ٹوئٹ بھی کیا تھا۔ لیکن ہنوز منو بھاکر کو ہریانہ میں برسراقتدار بی جے پی حکومت کی طرف سے کچھ بھی نہیں ملا ہے۔ حکومت کے اس عمل سے مایوس منو بھاکر نے وزیر کھیل پر طنزیہ حملہ کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں پوچھا ہے کہ 2 کروڑ انعام دینے کا اعلان کیا محض ایک جملہ تھا؟

دراصل منو بھاکر کی یوتھ اولمپک میں بے مثال کارکردگی کے بعد ہریانہ کے وزیر کھیل انل وِز نے 10 اکتوبر 2018 کو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا تھا ’’یوتھ اولمپک میں شوٹنگ میں گولڈ جیتنے والی منو بھاکر کو مبارکباد۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے ایک دیگر ٹوئٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’ہریانہ حکومت اس گولڈ کے لیے منو بھاکر کو 2 کروڑ رقم انعام دے گی۔ گزشتہ حکومتوں میں یہ رقم محض 10 لاکھ ہوا کرتی تھی۔‘‘ اپنے اس ٹوئٹ کے ذریعہ بی جے پی وزیر نے منو بھاکر کی حوصلہ افزائی کرنے سے کہیں زیادہ گزشتہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن یہی ٹوئٹ آج ان کے لیے بھاری پڑ گیا ہے۔ انل وِز کے دونوں ٹوئٹ کا اسکرین شاٹ منو بھاکر نے اپنے ٹوئٹ کے ساتھ لگایا ہے اور لکھا ہے کہ ’’سر برائے کرم واضح کیجیے کہ یہ صحیح ہے... یا پھر صرف جملہ تھا...۔‘‘ منو بھاکر نے ٹوئٹ کو انل وِز کے ساتھ ٹیگ بھی کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ منو بھاکر نے 2018 میں اپنی بہترین نشانہ بازی سے خوب تعریفیں بٹوریں۔ انھوں نے دولت مشترکہ کھیلوں کی 10 میٹر ائیر پسٹل مقابلہ میں نئے ریکارڈ کے ساتھ گولڈ میڈل جیتا تھا اور منو نے آئی ایس ایس ایف سینئر عالمی کپ میں بھی گولڈ میڈل جیتا تھا۔ اس کے بعد سڈنی میں جونیئر عالمی کپ میں انھوں نے کانسے کا تمغہ اپنے نام کیا۔

Published: 5 Jan 2019, 9:09 AM