ہاکی اسٹار نوشاد میو کی بدحالی: اپنے ہی کالج کے باہر پنچر لگانے پر مجبور

غازی آباد کے اسپورٹس ٹیچر پرویز علی نے قومی آواز کو بتایا کہ 3 سال قبل نوشاد کو انہوں نے ہاکی کھیلتے دیکھ کر یہ کہہ دیا تھا کہ اس لڑکے میں بین الاقوامی سطح پر ہاکی کھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد
user

آس محمد کیف

قومی راجدھانی خطہ دہلی کے نزدیک غازی آباد شہر کا رہائشی 20 سالہ محمد نوشاد میو جو قومی ہاکی ٹیم کی نمائندگی کرنے کی صلاحت رکھتا ہے آج ٹھیلے پر پنچر لگانے پر مجبور ہے۔ نوشاد اسٹیٹ لیول چیمپین شپ میں طلائی طمغہ حاصل کرنے والی ٹیم کا رکن ہے اور المیہ یہ ہے کہ وہ پنچر کا ٹھیلا اسی کالج کے سامنے لگاتا ہے جس میں وہ طالب علمی کی زمانے میں ہاکی کھیلتا تھا۔ نوشاد کو کبھی لیفٹ آؤٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا جاتا تھا۔ والد کے انتقال کے بعد خاندان کی پرورش کی ذمہ داری اس نوجوان کے کاندھوں پر آ گئی اور اسے ہاکی کے اپنے شوق کو ترک کر دینا پڑا۔ تقریباً 12 سال کی عمر میں ہاکی کھیلنی شروع کرنے والے اس کھلاڑی کو محض 18 سال کی عمر میں ہی ہاکی اسٹک کو کھونٹی پر ٹانگ دینا پڑا۔

شمبھو دیال کالج کے باہر کھڑا نوشاد میو
شمبھو دیال کالج کے باہر کھڑا نوشاد میو

غازی آباد کے اسپورٹس ٹیچر پرویز علی نے قومی آواز کو بتایا کہ 3 سال قبل نوشاد کو انہوں نے ہاکی کھیلتے دیکھ کر یہ کہہ دیا تھا کہ اس لڑکے میں بین الاقوامی سطح پر ہاکی کھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ نوشاد اس وقت اسٹیٹ چیمپین شپ میں کھیل رہا تھا۔ وہ شمبھو دیال انٹر کالج کا طالب علم تھا اور مہامایا اسٹیڈیم غازی آباد میں پریکٹس کرتا تھا۔ شمبھو دیال کالج کو بھی نوشاد پر فخر تھا اور نوشاد ہاکی کے فلک پر ستارہ بن کر چمک رہا تھا۔

ہاکی اسٹار نوشاد میو کی بدحالی: اپنے ہی کالج کے باہر پنچر لگانے پر مجبور

مگر تین سالوں میں ہی نوشاد کی دنیا بدل گئی۔ اس کے والد اللہ کو پیارے ہوگئے اور باپ جیسے کوچ رام نواس تیاگی بھی دنیائے فانی کو الوداع کہہ گئے۔ نوشاد کو اپنے والد محمد یاسین کی پنچر کی دکان چلانی پڑی اور اس نوجوان نے ہاکی کو خیرباد کہہ دیا۔ واضح رہے کہ کوچ رام نواس تیاگی نے نوشاد کو ہاکی کھیلنے میں بہت مدد کی تھی۔

بیس سالہ نوشاد میو غازی آباد کے محلہ اسلام نگر کے ایک 60 گز کے مکان میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتا ہے۔ اپنے والد کے حیات رہتے اس کی زندگی میں ہاکی کی بڑی اہمیت تھی۔ صرف چھٹی جماعت میں ہاکی کھیلنی شروع کرنے والے نوشاد کے خوابوں کی عمر صرف 2015 تک ہی تھی جب اسے اپنے ہی کالج کے باہر واقع اپنے والد کی پنچر کی دکان سنبھالنی پڑی۔ والد کے جانے کے بعد بھی نوشاد کچھ دنوں تک ہاکی کھیلتا رہا لیکن اچانک اس کے کوچ رام نواس تیاگی کی بھی موت ہو گئی اور نوشاد کے خواب ریزہ ریزہ ہو گئے۔

غازی آباد میں شیر شاہ سوری کی تعمیر کردہ عظیم شاہراہ (جی ٹی روڈ) پر واقع شمبھو دیال کالج کے لئے کھیلتے ہوئے 12 سال کی عمر میں نوشاد پہلی بار مرزا پور کھیلنے کے لئے گیا تھا۔ 2015 میں غازی آباد میں اسٹیٹ چیمپین شپ میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والی ٹیم کی نمائندگی کرنے والا نوشاد آج ٹھیلے پررکھے اپنے ساز و سامان سے پنچر لگاتا ہے۔

نوشاد نے قومی آواز کو بتایا، ’’پاکی کھیلنے میں کنبہ کے کسی رکن کو دلچسپی نہیں تھی، میں سینیئر کھلاڑی ونود سے کافی متاثر تھا۔ کالج کے دنوں میں مجھے لگا کہ میں کھیل سکتا ہوں تو کھیلنے لگا۔ لڑکے بتاتے تھے کہ اگر قومی ٹیم میں کھیلا تو سرکاری نوکری مل جائے گی۔ میں سرکاری نوکری اس لئے چاہتا تھا کہ میرے خاندان کی غریبی دور ہو سکے۔ جب بھی میں ہاکی اسٹک سے بال کو مارتا تھا تو مجھے محسوس ہوتا تھا کہ میں اپنی غریبی کو دور پھینک رہا ہوں، میری بال تو دور چلی گئی لیکن غریبی پھر پلٹ کر واپس آ گئی۔‘‘

نوشاد جذباتی انداز میں کہتے ہیں، ’’ابو کو ابھی نہیں جانا چاہیے تھا وہ وقت سے پہلے چلے گئے۔ امی کو تو کھیل کا کچھ پتا ہی نہیں تھا۔ ایک بہن کی شادی بھی کرنی تھی۔ ایک بڑے بھائی ہیں وہ ویلڈنگ کا کام کرتے ہیں۔ گھر کی ضروریات پوری کرنے پر ہی زور رہتا ہے۔ میں پنچر لگانا چھوڑ نہیں سکتا، گھر کا آٹا اسی کی آمدنی سے آتا ہے تو ہاکی کو چھوڑ دیا۔ دراصل میری امی کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ ہاکی سے گھر کا خرچ کیسے چلے گا! پنچر بنا کر قریب 300 روپے روزانہ کما لیتا ہوں، ہاکی کو تو دو سال سے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘

جوڈو کے کوچ پرویز علی نے نوشاد کی قابلیت کو دیکھ کر اس کے لئے کچھ کرنے کا عزم کیا۔ پرویز نہیں چاہتے کہ پیسوں کی قلت میں کوئی کھلاڑی گمنامی میں چلا جائے۔ پرویز کا کہنا ہے کہ وہ نوشاد کی رہنمائی کریں گے، اسے میدان پر واپس آنا ہی ہوگا۔

زندگی کی تلخیوں نے نوشاد کو اندر سے ہلا دیا ہے اور اب اس کا جوش بھی کمزور نظر آتا ہے۔ اس سے بات چیت کرنے پر محسوس ہوتا ہے کہ وہ نظام سے پوری طرح مایوس ہو چکا ہے۔ یوں تو ہاکی ہندوستان کا قومی کھیل ہے لیکن اس کے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو فروغ دینے کا کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا اور ذمہ داروں کی لاپروائی کے نتیجہ میں نوشاد جیسا سورج طلوع ہونے سے قبل ہی غروب ہو جاتا ہے۔

Published: 29 Jul 2020, 9:12 PM
next