ہریانہ: انعام کی رقم نہ ملنے پر کھلاڑی نے اٹھایا سوال تو بی جے پی وزیر نے دیا ’بھونڈا‘ جواب

ہریانہ بی جے پی حکومت کے ذریعہ انعامی رقم پر سیاست کیے جانے سے منو بھاکر کے والد نے ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ دو کروڑ کی انعامی رقم ایک کروڑ میں بدل دی گئی اور وہ بھی اب تک دی نہیں گئی ہے۔

قومی آوازبیورو

یوتھ اولمپک میں شوٹنگ کا گولڈ حاصل کرنے والی منو بھاکر نے دو کروڑ کی انعامی رقم نہ ملنے پر جب ہریانہ کے وزیر برائے کھیل انل وِز سے سوال کیا تو انھوں نے تسلی بخش جواب دینے کی جگہ اخلاقیات کی حدیں پار کرتے ہوئے انتہائی ’بھونڈا‘ رد عمل ظاہر کیا۔ منو بھاکر کا سوال تھا کہ دو کروڑ روپے نقد انعام کا اعلان ’’محض جملہ تھا کیا؟‘‘ یہ سوال منو نے ٹوئٹ کے ذریعہ پوچھا تھا اور وزیر کھیل کو ٹیگ کر دیا تھا۔ اس پر انل وِز نے مشتعل انداز میں بذریعہ ٹوئٹ رد عمل دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’منو بھاکر کو پبلک پلیٹ فارم پر شکایت کرنے سے پہلے محکمہ کھیل سے تصدیق کر لینی چاہیے تھی۔ کھلاڑیوں میں ڈسپلن ہونا چاہیے۔ بھاکر کو یہ تنازعہ کھڑا کرنے کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’’منو بھاکر کو 2 کروڑ روپے دیے جائیں گے جیسا کہ میں نے ٹوئٹ کیا تھا اور جیسا کہ اس وقت نوٹیفکیشن میں 2 کروڑ دیے جانے کی بات تھی۔‘‘

بی جے پی وزیر انل وِز کا یہ بیان حیران کرنے والا ہے کیونکہ انھوں نے ایک کم عمر خاتون کھلاڑی کی حوصلہ افزائی کرنے اور وقت پر انعام دے کر کھیل پریکٹس میں اس کی مدد کرنے کی جگہ ڈانٹنے اور حوصلہ شکنی کرنے کو ترجیح دی۔ لیکن یہاں قابل غور یہ بات بھی ہے کہ کھلاڑیوں کے لیے پریکٹس کرنا بہت آسان نہیں ہوتا اور انعامی رقم سے وہ اپنی صلاحیت میں نکھار پیدا کرنے کے لیے اچھی پریکٹس کو یقینی بناتے ہیں۔ اس بات کا اعتراف منو بھاکر نے بھی انل وِز کے جوابی ٹوئٹ کے بعد کیا۔ انھوں نے انل وِز کے ذریعہ تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’’شروع میں انعامی رقم 10 لاکھ تھی اور پھر انھوں (انل وِز) نے اس کو دو کروڑ کر دیا۔ میں نے اس رقم کے مطابق منصوبہ بنایا کہ مجھے کتنا اپنی پریکٹس پر خرچ کرنا ہے۔ مجھے بہت عجیب لگا جب اس رقم کو گھٹا کر ایک کروڑ کر دیا گیا۔ یہ اچھی بات ہے کہ انھوں نے ایک بار پھر 2 کروڑ دیے جانے کی بات کہی ہے۔‘‘

دراصل 10 اکتوبر 2018 کو اپنے ایک ٹوئٹ میں انل وِز نے ریاستی حکومت کے ذریعہ کھلاڑیوں کو 10 لاکھ دیے جانے والا انعام 2 کروڑ کیے جانے کا اعلان کیا تھا جس سے منو بھاکر کافی خوش تھیں۔ پھر اچانک اس انعامی رقم کو خاموشی کے ساتھ ایک کروڑ کر دیا گیا جس کی خبر میڈیا میں ٹھیک طرح سے نہیں آئی۔ منو بھاکر کے والد رام کشن بھاکر نے اس تعلق سے ایک نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ ’’7ستمبر کو منو کے گولڈ جیتنےسے بہت پہلے ہریانہ حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں لکھا تھا کہ جیتنے والے کھلاڑیوں کو دی جانے والی رقم میں بدلاؤ کیا گیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن میں واضح لفظوں میں لکھا گیا تھا کہ پہلے جو رقم 10 لاکھ تھی اسے یوتھ اولمپک میں گولڈ میڈل جیتنے والوں کے لیے بڑھا کر دو کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔‘‘رام کشن بھاکر مزید بتاتے ہیں کہ ’’27 دسمبر کو حکومت نے ایک بار پھر اس میں ترمیم کیا اور دو کروڑ کی رقم کا تذکرہ کیے بغیر اسے ایک کروڑ میں بدل دیا گیا۔ گویا کہ ترمیم شدہ رقم 10 لاکھ سے بڑھا کر 1 کروڑ کیے جانے کی بات لکھی گئی۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح دو کروڑ رقم سےگھٹا کر ایک کروڑ کر دی گئی اور ترمیم شدہ انعامی رقم بھی منو کو ابھی تک نہیں مل پائی ہے۔ اس تعلق سے سیاست کیے جانے پر بھی منو بھاکر کے والد نے اعتراض کیا اور کہا کہ کھیل کو ان سب چیزوں سے دور رکھا جانا چاہیے۔

ہریانہ: انعام کی رقم نہ ملنے پر کھلاڑی نے اٹھایا سوال تو بی جے پی وزیر نے دیا ’بھونڈا‘ جواب
ہریانہ: انعام کی رقم نہ ملنے پر کھلاڑی نے اٹھایا سوال تو بی جے پی وزیر نے دیا ’بھونڈا‘ جواب
Published: 5 Jan 2019, 7:39 AM