عالمی چمپئن شپ کے سیمی فائنل میں نبرد آزما ہو سکتی ہیں سائنا اور سندھو

عالمی بیڈمنٹن فیڈریشن نے خواتین کے سنگلز زمرے میں نیا ڈرا کرایا ہے جس سے کوارٹر فائنل تک راہ میں حائل رکاوٹیں پار کرنے پر دونوں ہندوستانی کھلاڑیوں کا سیمی فائنل میں مقابلہ ہو سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: ہندوستانی بیڈمنٹن کی دو ملکہ پی وی سندھو اور سائنا نہوال کو سوئٹزرلینڈ کے باسل میں 19 سے 25 اگست تک ہونے والی عالمی بیڈمنٹن چمپئن شپ کے سیمی فائنل میں مقابلہ ہو سکتا ہے اور دونوں کو ہی اس باوقار مقابلہ میں اپنے پہلے خطاب کی تلاش ہے۔

اولمپک سلور فاتح سندھو نے اس ٹورنامنٹ میں 2013 اور 2014 میں کانسی کے تمغہ جیتے تھے جبکہ 2017 اور 2018 میں انہوں نے چاندی کے تمغہ جیتے تھے جبکہ سائنا 2015 میں چاندی کا تمغہ اور 2017 میں کانسی کا تمغہ جیت چکی ہیں۔ عالمی بیڈمنٹن فیڈریشن نے خواتین کے سنگلز زمرے میں نیا ڈرا کرایا ہے جس سے کوارٹر فائنل تک راہ میں حائل رکاوٹیں پار کرنے پر دونوں ہندوستانی کھلاڑیوں کا سیمی فائنل میں مقابلہ ہو سکتا ہے۔ لیکن سیمی فائنل سے پہلے سندھو کے سامنے کوارٹر فائنل میں سابق نمبر ایک اور دوسری سیڈ چینی تائی پے کی تائی جو ینگ کی شکل میں سب سے بڑی رکاوٹ رہے گی۔

دونوں ہندوستانی کھلاڑیوں کو پہلے راؤنڈ میں بائی ملی ہے۔ دوسرے راؤنڈ میں سندھو کا مقابلہ چینی تائی پے کی پائی یو پو یا بلغاریہ کی لنزا جیچری کے درمیان مقابلے کی فاتح سے ہوگا۔ تیسرے راؤنڈ میں سندھو کا سامنا نویں سیڈ امریکہ کی بے يوئی جانگ سے ہو سکتا ہے۔ سائنا کا دوسرے راؤنڈ میں سوئٹزرلینڈ کی سبرینا کوٹ اور ہالینڈ کی وشچ اجبرگن کے درمیان ہونے والے میچ کی فاتح سے مقابلہ ہوگا۔ تیسرے راؤنڈ میں سائنا کا مقابلہ 12 ویں سیڈ ڈنمارک ٹیکو بلچفیلٹ سے ہو سکتا ہے۔ سندھو اس سال بے شک اب تک کوئی خطاب نہ جیت سکی ہوں لیکن وہ اس چمپئن شپ میں تمغہ کی ہیٹ ٹرک بنانے کے ارادے سے اتریں گی۔ سندھو نے عالمی چمپئن شپ کی تیاری کے لیے حال میں تھائی لینڈ اوپن سے اپنا نام واپس لے لیا تھا۔ سندھو کو عالمی چمپئن شپ میں پانچویں سیڈ دی گئی تھی۔ سندھو اس باوقار مقابلہ میں چار بار کی میڈلسٹ ہیں۔

اولمپک سلور فاتح سندھو نے اس ٹورنامنٹ میں 2013 اور 2014 میں کانسی کا تمغہ جیتے تھے جبکہ 2017 اور 2018 میں انہوں نے چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ سندھو گزشتہ سال کے آخر میں ورلڈ ٹور فائنلس میں خطاب جیتنے کے بعد اپنے پہلے خطاب کی تلاش میں ہے۔ وہ گذشتہ ماہ انڈونیشیا اوپن کے فائنل میں پہنچی تھیں لیکن انہیں جاپان کی اكانے یاماگوچی سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے ٹھیک بعد وہ جاپان اوپن کے کوارٹر فائنل میں یاماگوچی سے ہی ہاری تھیں۔چمپئن شپ میں ہندستان کو سندھو کے علاوہ سائنا نہوال سے بھی امیدیں رہیں گی۔ اگرچہ سائنا تھائی لینڈ اوپن کے دوسرے راؤنڈ میں ہار گئی تھیں۔ سائنا 2015 میں چاندی کا تمغہ اور 2017 میں کانسی کا تمغہ جیت چکی ہیں۔ سائنا کو ٹورنامنٹ میں آٹھویں سیڈ دی گئی ہے۔

مرد کلاس میں كدامبی سری کانت کو ساتویں، سمیر ورما کو 10 ویں اور بی سائیں پرنیت کو 16 ویں سیڈ دی گئی ہے۔ پرنیت حال میں جاپان اوپن کے سیمی فائنل تک پہنچے تھے۔ مرد کلاس میں ایچ ایس پرنئے کا بھی چیلنج رہے گا۔ ہندوستان کو مرد سنگلز میں پرکاش پادکون کے 1983 میں کانسی کا تمغہ جیتنے کے بعد سے پہلے تمغے کی تلاش ہے۔ مرد ڈبلز میں ہندستان کی امیدیں تھائی لینڈ اوپن میں ٹائٹل جیت کر تاریخ رقم کرنے والی ساتوک سائراج رینكی ریڈی اور چراغ شیٹی کی جوڑی رہے گی جنہیں ٹورنامنٹ میں 15 ویں سیڈ ملی ہے۔ مرد ڈبلز میں مانو اتري اور بی سمیت ریڈی، ایم آر ارجن اور رام چندرن شلوک اور ارون جارج اور سئیم شکلا بھی اپنا چیلنج پیش کریں گے۔خاتون ڈبلز میں جے میگھنا اور پوروشا ایس رام، اشونی پونپا اور این سكي ریڈی اور پوجا ڈانڈو اور سنجنا سنتوش اپنا چیلنج رکھیں گے۔ ہندستان نے خواتین ڈبلز میں واحد بار کانسی 2011 میں جیتا تھا اور پھر یہ تمغہ جوالہ گٹا اور اشونی پونپا نے دلایا تھا۔ مکسڈ ڈبلز میں پرنب جیری چوپڑا اور سكي ریڈی اور ساتوك سائراج اور پونپا اتریں گے۔

یہ عالمی چمپئن شپ کا 25 واں ورژن ہے۔ اس کا انعقاد پہلی بار 1977 میں سویڈن کے مالمو میں ہوا تھا۔ یہ 1995 کے بعد پہلی بار سوئٹزرلینڈ واپس آ رہا ہے۔ تب اس کا انعقاد لوزان میں ہوا تھا۔اس درمیان ٹورنامنٹ سے چین کے شی يوكي، ڈنمارک کے وکٹر ایكسلسن اورا سپین کی کیرولینا مارین نے چوٹ کی وجہ سے اپنے نام واپس لے لئے ہیں۔ عالمی نمبر دو کھلاڑی شی کو انڈونیشیا اوپن میں چوٹ لگی تھی۔ سال 2015 اور 2018 میں چمپئن رہی مارین نے سوشل میڈیا پر بتایا ہے کہ وہ جنوری میں انڈونیشیا ماسٹرز میں دائیں گھٹنے میں لگی چوٹ سے نکل نہیں سکی ہیں۔ 2017 میں مرد زمرے کے چمپئن ایكسلسن کی کمر میں تکلیف ہے جس سے انہیں پیٹھ اور ٹانگوں میں درد رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ڈاکٹر کے مشورہ سے ٹورنامنٹ سے ہٹ رہے ہیں۔