طلائی تمغہ جیتنے والی سوپنا کو آگے بڑھنے سے غریبی بھی نہیں روک پائی

ایک وقت ایسا بھی تھا جب سوپنا کو مناسب جوتوں کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی تھی کیونکہ ان کے دونوں پیروں میں چھ چھ انگلیاں ہیں۔ پاؤں کی اضافی چوڑائی کھیلوں میں ان کی لینڈنگ کو مشکل بنا دیتی ہے۔

قومی آوازبیورو

شمالی بنگال کے شہر جلپائی گوڑی میں بدھ کے روز اس وقت جشن کا ماحول تھا جب یہاں کے ایک رکشہ پولر کی بیٹی سوپنا برمن نے ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتنے میں کامیابی حاصل کی۔ سوپنا نے انڈونیشیا کے جکارتا میں جاری 18ویں ایشیائی کھیلوں کی ہیپٹاتھلن مقابلے میں طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔ اس مقابلے میں طلائی تمغہ جیتنے والی ہندوستان کی وہ پہلی خاتون کھلاڑی ہیں۔

سوپنا نے سات مقابلوں میں کل 6026 پوائنٹ کے ساتھ پہلا مقام حاصل کیا۔ جیسے ہی سوپنا کی جیت طے ہوئی، یہاں گھوشپاڑا میں سوپنا کے گھر کے باہر لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی اور چاروں طرف مٹھائیاں تقسیم کی جانے لگیں۔ اپنی بیٹی کی کامیابی سے خوش سوپنا کی ماں باشونا اس قدر جذباتی ہو گئی تھیں کہ ان کے منھ سے ایک لفظ نہیں نکل پا رہا تھا۔ بیٹی کے لیے وہ پورے دن بھگوان کے گھر میں عرضی لگا رہی تھیں۔ سوپنا کی ماں نے اپنے آپ کو کالی ماتا کے مندر میں بند کر لیا تھا۔ اس ماں نے اپنی بیٹی کو تاریخ رقم کرتے نہیں دیکھاکیونکہ وہ اپنی بیٹی کی کامیابی کے لیے دعا کرنے میں مصروف تھیں۔

بیٹی کے تمغہ جیتنے کے بعد باشونا نے کہا کہ ’’میں نے اس کی کارکردگی نہیں دیکھی۔ میں دن کے دو بجے سے دعا کر رہی تھی۔ یہ مندر اس نے بنوایا ہے۔ میں کالی ماں کو بہت مانتی ہوں۔ مجھے جب اس کے جیتنے کی خبر ملی تو میں اپنے آنسو روک نہیں پائی۔‘‘ سوپنا کے والد پنچن برمن رکشہ چلاتے ہیں، لیکن گزشتہ کچھ دنوں سے عمر کے ساتھ لگی بیماری کے سبب بستر پر ہیں۔ بشونا نے بے حد جذباتی آواز میں کہا ’’یہ اس کے لیے آسان نہیں تھا۔ ہم ہمیشہ اس کی ضرورتوں کو پورا نہیں کر پاتے تھے، لیکن اس نے کبھی بھی شکایت نہیں کی۔

ایک ایسا وقت بھی تھا کہ سوپنا کو اپنے لیے مناسب جوتوں کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی تھی کیونکہ ان کے دونوں پیروں میں چھ چھ انگلیاں ہیں۔ پاؤں کی اضافی چوڑائی کھیلوں میں اس کی لینڈنگ کو مشکل بنا دیتی ہے، اسی وجہ سے ان کے جوتے جلدی پھٹ جاتے ہیں۔

سوپنا کے بچپن کے کوچ سُکانت سنہا نے کہا کہ اسے اپنے کھیل سے متعلق مہنگے سامان خریدنے میں کافی پریشانی ہوتی ہے۔ سکانت نے کہا ’’میں 2006 سے 2013 تک اس کا کوچ رہا ہوں۔ وہ کافی غریب فیملی سے آتی ہے اور اس کے لیے اپنی ٹریننگ کا خرچ اٹھانا مشکل ہوتا ہے۔ جب وہ چوتھے درجے میں تھی تب ہی میں نے اس میں صلاحیت دیکھ لی تھی۔ اس کے بعد میں نے اسے ٹریننگ دینا شروع کیا۔‘‘ سکانت کا کہنا ہے کہ ’’سوپنا بہت ضدی ہے اور یہی بات اس کے لیے اچھی بھی ہے۔ رائیکوٹ پارا اسپورٹنگ ایسو سی ایشن کلب میں ہم نے اسے ہر طرح سے مدد کی۔ آج میں بتا نہیں سکتا کہ میں کتنا خوش ہوں۔‘‘

چار سال قبل انچیون میں منعقد کیے گئے ایشیائی کھیلوں میں سوپنا نے کل 5178 پوائنٹ حاصل کر چوتھے مقام پر رہی تھی۔ گزشتہ سال ایشیائی اتھلیٹکس چمپئن شپ میں بھی یہ طلائی تمغہ جیت کر لوٹی تھی۔ سوپنا نے 100 میٹر میں ہیٹ-2 میں 981 پوائنٹ کے ساتھ چوتھا مقام حاصل کیا تھا۔ اونچے کود میں 1003 پوائنٹ کے ساتھ پہلے مقام پر قبضہ جمایا۔ گولا پھینک میں وہ 707 پوائنٹ کے ساتھ دوسرے مقام پر رہیں۔ 200 میٹر ریس میں اس نے ہیٹ-2 میں 790 پوائنٹ لیے۔