پرگنانندھا نے تاریخ رقم کر دی: ناروے شطرنج کا خطاب جیتنے والے پہلے ہندوستانی بنے

اس جیت کی سب سے بڑی خوبی یہ رہی کہ پرگنا نندھا نے ٹورنامنٹ میں عالمی نمبر-1 مگنس کارلسن کو 2 بار کلاسیکل مقابلوں میں شکست دی۔ یہ کامیابی کسی بھی نوجوان کھلاڑی کے لیے انتہائی خاص مانی جا رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو&nbsp;<a href="https://x.com/rpraggnachess">@rpraggnachess</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ہندوستانی شطرنج کے نوجوان کھلاڑی اور گرینڈ ماسٹر آر پرگنا نندھا نے تاریخ رقم کرتے ہوئے مشہور ناروے شطرنج ٹورنامنٹ کا خطاب جیت لیا ہے۔ انہوں نے فائنل راؤنڈ میں جرمنی کے ونسنٹ کیمر کو شکست دے کر یہ کارنامہ انجام دیا اور اس ٹورنامنٹ کو جیتنے والے پہلے ہندوستانی کھلاڑی بن گئے۔ 20 سالہ پرگنا نندھا نے آخری دن بے حد دباؤ میں کھیلتے ہوئے کلاسیکل جیت درج کی جس کے انہیں پورے 3 پوائنٹس ملے۔ اس جیت کے ساتھ انہوں نے کل 18 پوائنٹس کے ساتھ پہلا مقام حاصل کرکے خطاب اپنے نام کرلیا۔ دن کی شروعات میں وہ 15 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھے لیکن آخری راؤنڈ میں بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے سبھی کو پیچھے چھوڑ دیا۔

اس جیت کی سب سے بڑی خوبی یہ رہی کہ پرگنا نندھا نے اس ٹورنامنٹ میں عالمی نمبر -1 مگنس کارلسن کو 2 بار کلاسیکل مقابلوں میں شکست دی۔ یہ کامیابی کسی بھی نوجوان کھلاڑی کے لیے انتہائی خاص مانی جا رہی ہے۔ اتنا ہی نہیں اس ٹورنامنٹ میں ہندوستانی عالمی چیمپئن ڈی گوکیش نے بھی حصہ لیا لیکن وہ خطاب کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔ اس کے باوجود پرگنا نندھا نے ہندوستان کی امیدوں کو زندہ رکھتے ہوئے شاندار مظاہرہ کیا۔ پرگنانندھا کے لیے یہ ٹورنامنٹ آسان نہیں رہا۔ ابتدائی مرحلے میں ان کی کارکردگی اوسط رہی لیکن دوسرے ہاف میں انہوں نے زبردست واپسی کی اور اپنی کارکردگی کو مسلسل بہتر کیا۔ ان کی جیت کو ان کے اعتماد اور ذہنی مضبوطی کے ثبوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


خطابی مقابلہ اس وقت فیصلہ کن بن گیا جب امریکی گرینڈ ماسٹر ویزلی سو اپنی برتری کو برقرار نہیں رکھ سکے اور ڈرا کے بعد آرماگیڈن ٹائی بریک میں پھنس گئے۔ اس صورتحال نے پرگنا نندھا کے لیے دروازے کھول دیئے، جنہوں نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور فائنل راؤنڈ میں جیت حاصل کی۔ اس جیت کے ساتھ ہی پرگنا نندھا نے نہ صرف ہندوستان بلکہ شطرنج کی دنیا میں بھی اپنی مضبوط شناخت قائم کر لی ہے۔ اب وہ ان کھلاڑیوں کے منتخب گروپ میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے اس طرح کے باوقار ٹورنامنٹ میں فتح حاصل کی ہے۔ یہ کامیابی اس لیے بھی خاص ہے کیونکہ لیجنڈری وشواناتھن آنند بھی اس سے قبل یہ خطاب نہیں جیت پائے تھے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔