مزدور کے 16 سالہ بیٹے محمد فراز کا کارنامہ، قومی ’کونگ فو‘ مقابلہ میں جیتا چاندی کا تمغہ، بلیک بیلٹ حاصل

فراز کے والد آفتاب خان (40 سال) نے اپنی زندگی میں کئی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ پہلے وہ آرا مشین پر لکڑی کاٹنے کا کام کیا کرتے تھے اور ان کی پیشانی پر زخم کا نشان ان کی جدوجہد کی داستان بیان کرتا ہے

چاندی کے تمغہ کے ساتھ محمد فراز / تصویر آس محمد کیف
چاندی کے تمغہ کے ساتھ محمد فراز / تصویر آس محمد کیف
user

آس محمد کیف

مظفرنگر: مغربی یوپی سے تعلق رکھنے والے 16 سالہ محمد فراز نے مہاراشٹر کے ناسک میں ایک ہفتہ تک جاری رہنے والے قومی کونگ فو مقابلہ میں چاندی کا تمغہ جیت کر علاقہ اور اپنے خاندان کا نام روشن کر دیا ہے۔ محمد فراز ضلع مظفرنگر کے قصبہ میرانپور کا رہائشی ہے اور یہاں 60 افراد پر مشتمل مشترکہ خاندان میں رہتا ہے۔ فراز کے والد آفتاب خان مزدوری کرتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ فراز کے خاندان کے محض دو چار لوگ ہی یہ جانتے ہیں کہ فراز کی کامیابی کے کیا معنی ہیں! دسویں جماعت کے طالب علم فراز کے گھر لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور جشن کا سا ماحول ہے۔

اپنے دادا اور والد کے ساتھ محمد فراز
اپنے دادا اور والد کے ساتھ محمد فراز
فراز کو مبارک باد پیش کرتے علاقہ کے معزز افراد
فراز کو مبارک باد پیش کرتے علاقہ کے معزز افراد

فراز کے والد آفتاب خان (40 سال) نے اپنی زندگی میں کئی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ پہلے وہ آرا مشین پر لکڑی کاٹنے کا کام کیا کرتے تھے اور ان کی پیشانی پر زخم کا نشان ان کی جدوجہد کی داستان بیان کرتا ہے۔

فراز کے ساتھی اور علاقہ میں مارشل آرٹ کی ابھرتی ہوئی مہارت عثمان میواتی فراز کی کامیابی کو اس طرح بیان کرتے ہیں ’’فراز میں وہ قابلیت ہے کہ اولمپکس میں بھی کھیل سکتا ہے!‘‘ عثمان کی اس بات نے فراز کے اہل خانہ کی آنکھوں میں چمک پیدا کر دی ہے۔


چالیس ہزار کی آبادی والے قصبہ میرانپور میں 12 سے 20 سال کی عمر والے نوجوانوں کی تعداد تقریباً 10 ہزار ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ صرف ایک درجن نوجوان ہی ایسے ہیں جو کھیلوں کو اپنا کیرئر بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ دراصل، والدین اپنے بچوں کو کھیلوں کی جانب راغب نہیں کرتے، انہیں محسوس ہوتا ہے کہ کھیل بچوں کو تعلیم سے دور کر دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہاں کے بیشتر نوجوان کرکٹ میں اپنا کیرئر بنانے کے چکر میں اپنا مستقبل برباد کر چکے ہیں اور وہ گلی کرکٹ سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ اولمپکس کا خواب بہت دور کی کوڑی لگتا ہے۔

عثمان میواتی نے کہا ’’فراز 48 کلوگرام زمرے میں کھیلتا ہے۔ اس کے کھیل میں کچھ فطرتی باتیں ہیں جنہیں سکھایا بھی نہیں گیا ہے۔ فراز کی کک میں بہت جان ہے، جسے حریف کے لئے برداشت کر پانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اسے اولمپکس کی تیاریوں میں مصروف ہو جانا چاہئے، مجھے لگتا ہے کہ فراز کا مستقبل اولمپکس ہو سکتا ہے۔‘‘ عثمان فراز کو یہ صلاح بھی دیتے ہیں کہ اسے اپنا وزن تھوڑا کم کرنا چاہئے کیونکہ یہ اس کے لئے کافی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔


مزدور والد آفتاب کا بیٹا فراز دہلی کی ’ٹوکس تائیکوانڈو اکادمی‘ سے کوچنگ حاصل کر رہا ہے۔ فراز چار بھائیوں میں تیسرے نمبر کا بیٹا ہے اور ان کے بڑے بھائی عدنان (21 سال) والد کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ آفتاب کہتے ہیں کہ بیٹے کو دہلی میں کوچنگ دلانا اور وہاں رہنے اور کھانے کا خرچ اٹھانا بہت مہنگا ہے۔ اگر عدنان مدد نہ کرتا تو شاید فراز کو کوچنگ دلانا ممکن نہ ہو پاتا۔

فراز کے دادا نور محمد اس کھیل کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بچپن میں لاٹھی چلاتے تھے اور اس کو پٹا کہا جاتا تھا۔ محرم میں تعذیہ داری کے وقت پٹا کھیلا جاتا تھا اور نور محمد اس کے بہترین کھلاڑی تھے۔ کونگ فو ان کے لئے جدید حربی فنون میں شامل ہے اور وہ اس سے ناواقف ہیں۔

فراز کے چچا سنی خان کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک یہی سمجھ رہے تھے کہ فراز بچوں کے کھیل میں مصروف ہے لیکن اب چونکہ اس نے اتنی بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے لہذا اب وہ اپنے بھتیجے کے خوابوں کو پورا کرنے میں پورا تعاون دیں گے۔

فراز کے موجودہ کوچ ہریش ٹوکس کو بھی لگتا ہے کہ فراز اولمپکس میں کھیل سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے فراز سے منع کیا ہے کہ پریکٹس کے دوران وہ ساتھی کھلاڑیوں پر اپنی کک سے وار نہ کرے کیونکہ وہ برداشت نہیں کر پائیں گے۔ فراز کی اگلی منزل بین الاقوامی مقابلہ میں کھیلنا ہے بس اسے صبر و تحمل سے کام لینا سیکھنا ہوگا۔


مظفرنگر ضلع کے میرانپور قصبہ میں تقریباً نصف درجن مارشل آرٹ کے کھلاڑی ہیں جو قومی سطح پر کھیل رہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ ہنرمند عثمان اور فراز ہیں اور ان دونوں کے ہی شروعاتی کوچ وپن ملک ہیں۔ فراز کا کہنا ہے کہ وہ جب پانچ سال کے تھے تبھی سے وپن بھیا سے مارشل آرٹ سیکھنی شروع کر دی تھی۔ وپن ملک بین اقوامی سطح کے کھلاڑی رہے ہیں اور وہ 1991 میں بلیک بیلٹ حاصل کرنے والے علاقہ کے پہلے کھلاڑی تھے۔ فراز اپنی کامیابی کا سہرہ وپن ملک کے ہی سر باندھتے ہیں۔ وپن ملک کا کہنا ہے کہ فراز بہت آگے جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ناسک کے جس مقابلہ میں فراز نے سیمی فائنل میں گجرات کے آیوش کو ہرایا ہے اس میں گھٹنے کی چوٹ کی وجہ سے فراز فائنل ہار گیا، فراز کو خود کو چوٹ سے بچانا ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔