جونیئر خاتون ہاکی فارورڈ کھلاڑی ممتاز خان: ایشین گیمز، اولمپکس میں تمغے حاصل کرنا واحد مقصد

لکھنؤ سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ نوجوان کھلاڑی نے صرف اتفاق سے ہاکی کا انتخاب کیا تھا لیکن پچھلے دو سالوں میں شاندار پرفارمنس پیش کرنے کے بعد وہ ملک کے لئے روشن ترین امکانات میں سے ایک بن گئی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لکھنؤ: ہندوستانی جونیئر خاتون ہاکی ٹیم کی فارورڈ کھلاڑی ممتاز خان نے گزشتہ روز کہا کہ ان کا مقصد سینئر ٹیم کے ساتھ ایشین گیمز اور اولمپکس میں میڈلز حاصل کرنا ہے لیکن وہ اسے حاصل کرنے کے لئے ایک وقت میں ایک ہی قدم اٹھا رہی ہیں۔ ہندوستانی جونیئر ویمنز ہاکی ٹیم کی فارورڈ کھلاڑی ممتاز خان کی کہانی مشکلات، حوصلہ، عزم اور بڑی صلاحیتوں میں سے ایک ہے۔ اترپردیش کے لکھنؤ سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ نوجوان کھلاڑی نے صرف اتفاق سے ہاکی کا انتخاب کیا تھا لیکن پچھلے دو سالوں میں شاندار پرفارمنس پیش کرنے کے بعد وہ ملک کے لئے روشن ترین امکانات میں سے ایک بن گئی ہیں۔

اپنے گھر سے گفتگو کرتے ہوئے ممتاز نے اپنے ابتدائی دنوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ سال 2011 کی بات ہے جب مجھے اپنے اسکول میں حصہ لینے والی ایک ریس میں جگہ ملی تھی۔ یہ نیلم صدیقی ہی تھیں جو اس موقع پر موجود تھیں اور انہوں نے میرے والد سے کہا تھا کہ وہ مجھے ہاکی کے کھیل میں شامل ہونے کی اجازت دیں۔

میں اس وقت اس کھیل کے بارے میں واقعتاً زیادہ نہیں جانتی تھی کیونکہ میں بہت چھوٹی تھی لیکن جیسے ہی میں نے اسے دیکھنا اور کھیلنا شروع کیا تو مجھ میں ہاکی کے لئے دلچسپی اور رغبت پیدا ہونی شروع ہوگئی۔ بالآخر سال 2014 میں لکھنؤ کے ہاسٹل میں داخلہ ہوا اور انہوں نے کوچ نیلم صدیقی کے تحت تربیت شروع کی۔

17 سالہ ممتاز نے 2018 میں بیونس آئرس یوتھ اولمپکس میں 10 گول کرکے چاندی کا تمغہ جیتنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اس کے علاوہ 2016 میں لڑکیوں کے انڈر 18 ایشیا کپ میں کانسہ، 2018 میں چھ ممالک کے انوی ٹیشنل ٹورنامنٹ میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا اور پچھلے سال 'کینٹر فٹزجیرالڈ انڈر 21 انٹرنیشنل فور نیشن ٹورنامنٹ' میں سونے کا تمغہ جیتا تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے تیسرے یوتھ اولمپک گیمز 2018 میں ملک کے لئے ممتاز کے کھیل اور کاوشوں کی تعریف کی تھی جہاں ان کے 10 گول کی بدولت ہندستان نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ ممتاز کا کہنا ہے کہ ان کے بلند عزائم ہیں اور مشکل اہداف ہیں لیکن وہ ان کی جانب ایک ایک قدم بڑھانا چاہتی ہیں۔ ممتاز نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ میں نے ابھی تک جو کچھ کیا اور اپنے کیریئر میں جو کچھ میں حاصل کرنا چاہتی ہوں وہ اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ میں یہ یقینی بنانا چاہتی ہوں کہ میں ہمیشہ چھوٹے چھوٹے قدم کے ساتھ صحیح کام کرتی رہوں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ میں نے ذاتی طور پر مشکل وقت گزارا ہے۔ میرے والدین کے لئے بھی یہ مشکل رہا ہے لیکن مجھے خوشی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا اور میں ان کو خوش دیکھنے کے لئے انتظار نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے میرے ذہن میں بہت واضح اہداف ہیں کہ میں ہر تربیتی سیشن میں اور ملک کے لئے کھیلتے ہوئے ہر میچ میں بہت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کروں۔ میں اپنی ٹیم کو اولمپکس اور ایشین گیمز جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں میڈلز جیتنے میں مدد کرنا چاہتی ہوں۔

ایک سبزی فروش کی بیٹی ممتاز کا سفر اتار چڑھاؤ سے بھر پور رہا ہے لیکن لکھنؤ کی کھلاڑی ملک کے لئے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ممتاز نے بتایا کہ ان کے کوچ نے انہیں اسکول ریس مقابلہ میں ہاکی کھیلنے کے لئے منتخب کیا۔

انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں نیلم صدیقی 2011 میں اسکول کی دوڑ کے دوران وہاں موجود تھیں اور انہوں نے میرے والد سے کہا کہ وہ مجھے ہاکی کھیلنے دیں۔ اس وقت مجھے اس کھیل کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں لیکن جب میں نے اسے دیکھنا اور کھیلنا شروع کیا تو میں نے اس سے لطف اٹھانا شروع کر دیا۔

Published: 2 Aug 2020, 3:59 PM
next