حنا سدھو: پیشہ ور ’ڈینٹسٹ‘ جنہوں نے شوٹنگ میں ملک کا نام روشن کیا

اسی برس جہاں کامن ویلتھ گیمز میں 10 میٹر ایئر پسٹل شوٹنگ میں حنا نے سلور میڈل حاصل کیا وہیں 25 میٹر ایئر پسٹل شوٹنگ میں انہوں نے اپنی بہترین کارکردگی کا لوہا منواتے ہوئے گولڈ میڈل حاصل کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: حنا سدھو جنہوں نے دولت مشترکہ کھیلوں کے دوران ہندوستان کو 25 میٹر ایئر پسٹل شوٹنگ میں گولڈ میڈل دلاکر ہندوستان کا نام روشن کیا، پیشے سے ڈینٹسٹ (دانتوں کی ڈاکٹر) ہیں۔ نشانہ بازی کا شوق خاندانی ہے۔ ان کے نام متعدد ریکارڈ درج ہیں۔ انہیں ارجن ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ سال 2014 میں انہیں انٹرنیشنل شوٹنگ اسپورٹس فیڈریشن ورلڈ رینکنگ میں نمبر ایک شوٹر کا رینک بھی دیا جاچکا ہے۔ اسی برس جہاں کامن ویلتھ گیمز میں 10 میٹر ایئر پسٹل شوٹنگ میں حنا نے سلور میڈل حاصل کیا وہیں 25 میٹر ایئر پسٹل شوٹنگ میں انہوں نے اپنی بہترین کارکردگی کا لوہا منواتے ہوئے گولڈ میڈل حاصل کیا۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بہت سے ہندوستانی کھلاڑی متوسط یا غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور کئی مرتبہ مالی بحران کے سبب کھیلوں میں دھیان دینے کی وجہ سے وہ اپنی تعلیم پر توجہ نہیں دے پاتے، اس کے برعکس حنا ایک ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے سال 2013 میں بیچلر آف ڈینٹل سرجری کی ڈگری حاصل کی تھی۔

ان کے والد راج ویر سدھو، بھائی کرن بیر سنگھ بھی شوٹر رہ چکے ہیں۔ اسی لئے حنا کا ناطہ بھی بچپن سے ہی شوٹنگ سے رہا ہے۔ انہوں نے 12 ویں کلاس سے ہی پسٹل شوٹنگ کی مشق شروع کردی تھی۔ 2006 میں قومی جونیئر ٹیم میں شامل ہوئیں اور 2007 میں انہوں نے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کردیا تھا۔ اسکولی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ڈینسٹ سرجن کے طور پر 2013 میں ڈگری حاصل کی۔

حنا کی پیدائش سے قبل ان کے والد قومی سطح کے بہترین شوٹر رہ چکے ہیں۔ ان کے بعد ان کے بھائی نے بھی نشانہ بازی شروع کی۔ حنا نے محض 17 برس کی عمر میں بطور شوق پسٹل چلانا شروع کیا اور پھر آہستہ آہستہ اس شو ق کو بڑھاتی گئیں۔ انہیں ڈاکٹر بننے کا خواب تو بچپن سے ہی تھا جس کے لئے انہوں نے ڈینٹل سرجری میں گریجویشن شروع کیا لیکن تب تک انہوں نے شوٹنگ میں میڈل جیتنا شروع کردیا تھا۔ جس کے بعد حنا سدھو نے پھر نشانہ بازی پر ہی اپنی مکمل توجہ مرکو ز رکھی۔

7 فروری 2013 میں حنا سدھو، رونق پنڈت سے ازدواج زندگی میں منسلک ہوگئیں۔ ان کے خاوند بھی ایک شوٹر ہی ہیں اور ان کے کوچ بھی ہیں۔ حنا نے نشانہ بازی کی شروعات سال 2006 سے کی۔ انہوں نے اس وقت قومی جونیئر اور سینئر ٹیم میں حصہ لیا تھا۔ وہ پٹیالہ کلب کی ممبر بھی ہیں۔ وہ کیرالہ میں دس میٹر شوٹنگ قومی چیمپئن شپ میں بھی سرفہرست رہ چکی ہیں۔

سال 2009 میں بیجنگ میں انہوں نے آئی ایس ایس ایف ورلڈ کپ میں سلور میڈل حاصل کیا تھا۔ اس کے اگلے برس سال 2010 میں چین میں ایشین گیمز میں حنا نے 10 میٹر ایئر پسٹل شوٹنگ ٹیم ایونٹ میں اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر سلور میڈل حاصل کیا تھا۔

اس کے علاوہ سال 2010 میں کامن ویلتھ گیمز کے دوران حنا اور انو راج سنگھ نے ساتھ ملکر 10 میٹر ایئر پسٹل شوٹنگ میں خاتون ٹیم میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ اسی دوران حنا نے سنگل میچ میں سلور میڈل حاصل کیا۔ انہیں سب سے پہلے کامیابی ایشیائی کھیل 2010 کے دوران ملی جس میں انہوں نے سلور میڈل جیتا تھا۔

سال 2012 میں لندن اولمپک میچوں کے دوران حنا ہندوستانی ٹیم کا حصہ تھیں۔ ان کی ٹیم نے اس دوران بارہویں نمبر پر اپنا میچ ختم کیا تھا اس کے علاوہ وہ لندن اولمپک گیمز پر بنی فلم کا بھی حصہ رہ چکی ہیں۔

سال 2013 میں جرمنی میں آئی ایس ایس ایف ورلڈ کپ کے دوران حنا نے گولڈ میڈل حاصل کیا تھا اس کے علاوہ سال 2014 میں نیشنل شوٹنگ ٹرائلز میں حنا نے 0.1 پوائنٹ مارجن سے فتح حاصل کی تھی۔ سال 2016 میں ایک مرتبہ پھر حنا کو اولمپک کھیلوں میں خاتون 10 میٹر ایئر پسٹل اور 25 میٹر ایئر پسٹل ٹیم کا رکن بننے کا موقع ملا۔ سال 2017 میں کامن ویلتھ شوٹنگ چیمپئن شپ میں حنا نے گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔

28 اگست 2014، میں حکومت ہند نے حنا سدھو کو شوٹنگ میں بہترین کارکردگی کیلئے ارجن ایوارڈ سے نوازا۔ حنا نے اپنے نام متعدد ایوارڈ حاصل کرکے ملک کا نام روشن کیا۔

Published: 29 Aug 2019, 8:10 PM